الليبرالية "المخفية" - الليبرالية السياسية
الليبرالية "المخفية" - الليبرالية السياسية

مما لا شك فيه أن نجاح تحالف المعارضة "باكتان هاربان" في الإطاحة بحكومة الجبهة الوطنية "باريسان" في الانتخابات العامة الرابعة عشرة لماليزيا، قد أثر على أذهان الماليزيين في أفكارهم المتعلقة بالديمقراطية. والادعاء أن ماليزيا أصبحت الآن أمة ديمقراطية نضجت يتردد صداه باستمرار في وسائل الإعلام. ويحيي كثير من الماليزيين ذلك من خلال العملية الديمقراطية، حيث استطاع الشعب أن يقود عملية انتقال للحكومة سلمية ومنظمة. وقد أثار التغيير، الذي يوصف بأنه "تسونامي الشعب"، القلق في هذا البلد المتعدد الأجناس، وأحد المخاوف بين السكان المسلمين في ماليزيا هو انتشار أفكار الليبرالية في ظل حكم تحالف المعارضة، والمسلمون قلقون أيضا من أن العديد من الأفكار الليبرالية التي تتعارض مع أحكام الإسلام بدأت في الظهور وأن وعود المعارضة باحترام حرية التعبير سيجعل الأمور أكثر سوءاً. ومن المؤكد أن هذا القلق له ما يبرره عندما يتم التدقيق في الأفكار الليبرالية التي تتناقض مع العقيدة الإسلامية من حيث الهجمات على عقيدتها، مثل فكرة التعددية الدينية. ومع ذلك، من المؤكد أن يدهش المرء عندما يعلم أن الماليزيين غارقون بالفعل في الليبرالية منذ البداية، ومن ضمنها الليبرالية السياسية.

0:00 0:00
Speed:
June 28, 2018

الليبرالية "المخفية" - الليبرالية السياسية

الليبرالية "المخفية" - الليبرالية السياسية

(مترجم)

الخبر:

مما لا شك فيه أن نجاح تحالف المعارضة "باكتان هاربان" في الإطاحة بحكومة الجبهة الوطنية "باريسان" في الانتخابات العامة الرابعة عشرة لماليزيا، قد أثر على أذهان الماليزيين في أفكارهم المتعلقة بالديمقراطية. والادعاء أن ماليزيا أصبحت الآن أمة ديمقراطية نضجت يتردد صداه باستمرار في وسائل الإعلام. ويحيي كثير من الماليزيين ذلك من خلال العملية الديمقراطية، حيث استطاع الشعب أن يقود عملية انتقال للحكومة سلمية ومنظمة. وقد أثار التغيير، الذي يوصف بأنه "تسونامي الشعب"، القلق في هذا البلد المتعدد الأجناس، وأحد المخاوف بين السكان المسلمين في ماليزيا هو انتشار أفكار الليبرالية في ظل حكم تحالف المعارضة، والمسلمون قلقون أيضا من أن العديد من الأفكار الليبرالية التي تتعارض مع أحكام الإسلام بدأت في الظهور وأن وعود المعارضة باحترام حرية التعبير سيجعل الأمور أكثر سوءاً. ومن المؤكد أن هذا القلق له ما يبرره عندما يتم التدقيق في الأفكار الليبرالية التي تتناقض مع العقيدة الإسلامية من حيث الهجمات على عقيدتها، مثل فكرة التعددية الدينية. ومع ذلك، من المؤكد أن يدهش المرء عندما يعلم أن الماليزيين غارقون بالفعل في الليبرالية منذ البداية، ومن ضمنها الليبرالية السياسية.

التعليق:

يمكن سماع إيضاح لكيفية غرق الماليزيين بالفعل في الليبرالية في مقابلة أجريت مؤخراً في بيزنس إف إم(BFM 89.9)  في 2018/06/12 والتي يمكن الوصول إليها من خلال الرابط:

https://www.bfm.my/bg-zainah-anwar-mohd-raimi-abdul-rahim-islam-in-malaysia-an-evolving-conversation

فقد سُئل رئيس حركة الشباب المسلم في ماليزيا، محمد ريمي عبد الرحيم، عن ظهور مجموعات مثل حزب التحرير ودعوتها للخلافة. وفي جوابه، ذكر أن الشباب المسلم أصيبوا في جميع أنحاء العالم بالإحباط من حكوماتهم ومن الانتخابات، وهذا كان سبب ظهور جماعات مثل حزب التحرير وغيرها، فهم محبطون من الحكومات الطاغية في بلادهم فيذهبون من فكرة الاقتراع إلى الرصاص. لقد تغلغلت الديمقراطية في أفكار العديد من المسلمين لدرجة أن رئيس الحركة الإسلامية وجد أنه من الطبيعي أن تكون الديمقراطية هي الجهاز الوحيد القابل للتطبيق لإدارة الحكومة - يجب أن تكون أي أنظمة حاكمة أخرى، بشكل افتراضي، ذات طبيعة بشعة.

ما هو غائب في أذهان كثير من المسلمين اليوم هو حقيقة أن الديمقراطية هي نظام يتم فيه استبدال أفكار الإنسان بشريعة الله جل وعلا، وهي أيضاً نظام غربي من صنع الغرب الكافر وأنه يحرم على المسلمين الدعوة إليها أو اعتمادها أو تطبيقها أو نشرها. وهي تفترض أن للإنسان الحق في سن القوانين وأن الإسلام كدين مقيد بشكل جذري، كثير من المسلمين يخلطون بين عملية الانتخاب كجوهر للديمقراطية ويعتبرون أنها تجسيد للنظام. والأسوأ من ذلك أن الكثيرين يرون أن الوسائل الأخرى لتغيير الحكومة يجب أن تتضمن العنف.

إنه لمن المؤسف أن الكثيرين قد نسوا سُنة رسول الله r في إقامة الدولة الإسلامية في المدينة المنورة. في أقل من 100 عام، تم جعل الكثيرين داخل الأمة الإسلامية ينسون الخلافة - الدولة الإسلامية الواجبة التي أقامها رسول الله r والتي استمر بها المسلمون لأكثر من 1300 عام! التغيير الذي أحدثه رسول الله r في إرساء حكم الإسلام في المدينة لم ينطوِ على أي "انتخابات ديمقراطية"، ولم يتضمن إراقة الدماء. لقد حقق رسول الله r ذلك من خلال تغيير قلوب وعقول الناس ودخولهم إلى الإسلام وكسب دعمهم في إرساء قاعدة سياسية، وقد جاء هذا التغيير عن طريق الصراع الفكري وأعمال طلب النصرة خلافا للتصور الخاطئ للكثيرين بما في ذلك رئيس حركة الشباب المسلم، فحزب التحرير لا يقوم بأي أعمال مادية لتحقيق التغيير، حزب التحرير يشن حرباً فكرية لتغيير الأمة، وقد عمل على إنعاش الأمة من التراجع الشديد الذي نشهده اليوم وتحريرها من أفكار وأنظمة وقوانين الكفر، فضلا عن هيمنة وتأثير قوى الكفر. يهدف حزب التحرير إلى إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، بحيث يتم فيها الحكم بما أنزل الله، وبالتالي تتوحد الأمة الإسلامية تحت مظلة سياسية واحدة كما كانت في الماضي.

يجب أن تُفهم الليبرالية بأنها تغطي جميع جوانب الحياة؛ الدينية والسياسية والاقتصادية والاجتماعية وما إلى ذلك. ويجب أن يشمل قلقنا أيضًا جميع جوانب الليبرالية هذه. ويجب أن نكون مدركين لحقيقة أننا قد غرقنا بالفعل في الليبرالية، ومن مسؤوليتنا أن نرفع ونحرر أنفسنا من كل هذه المفاهيم والتعاليم الشيطانية وأن نقيم حكم الإسلام بوصفه الوقود الوحيد لجميع مساعينا والحل الوحيد لجميع مشاكلنا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست