ألم يحن الوقت لإلقاء النظام الرأسمالي المحطم والذي عفا عليه الزمن في مكب التاريخ؟
ألم يحن الوقت لإلقاء النظام الرأسمالي المحطم والذي عفا عليه الزمن في مكب التاريخ؟

الخبر: أعلن أردوغان أن الحد الأدنى الجديد للأجور قد زاد بنسبة 30% إلى 5500 ليرة، اعتبارا من 1 تموز/يوليو. (وكالات الأنباء) التعليق: في ضوء هذه البيانات، ظل الحد الأدنى الجديد للأجور أقل من 6 آلاف و391 ليرة تركية، والتي أعلنها اتحاد نقابات العمال التركية مؤخرا كحد للجوع لعائلة مكونة من 4 أفراد.

0:00 0:00
Speed:
July 16, 2022

ألم يحن الوقت لإلقاء النظام الرأسمالي المحطم والذي عفا عليه الزمن في مكب التاريخ؟

ألم يحن الوقت لإلقاء النظام الرأسمالي المحطم والذي عفا عليه الزمن في مكب التاريخ؟

(مترجم)

الخبر:

أعلن أردوغان أن الحد الأدنى الجديد للأجور قد زاد بنسبة 30% إلى 5500 ليرة، اعتبارا من 1 تموز/يوليو. (وكالات الأنباء)

التعليق :

في ضوء هذه البيانات، ظل الحد الأدنى الجديد للأجور أقل من 6 آلاف و391 ليرة تركية، والتي أعلنها اتحاد نقابات العمال التركية مؤخرا كحد للجوع لعائلة مكونة من 4 أفراد.

بالإضافة إلى ذلك، أعلن معهد الإحصاء التركي عن تضخم المستهلك للفترة من حزيران/يونيو 2022. ووفقا لهذا، ارتفعت أسعار المستهلكين بنسبة 4.95% في حزيران/يونيو، وأصبح التضخم السنوي 78,6%. وفقا لمجموعة أبحاث التضخم، ارتفع التضخم إلى 8,31% على أساس شهري و175.55% على أساس سنوي في حزيران/يونيو.

من الواضح أن معدلات التضخم التي أعلنها معهد الإحصاء التركي لم تعد تعكس الواقع. ومن المعروف أيضا لدى الجميع أن التضخم الحقيقي في أسعار السوق والبقالة والبازار يقترب من 200%. كما شهد الناس أن ملصقات الأسعار تتغير يوميا تقريبا. ينامون ويستيقظون مع ارتفاع جديد في الأسعار مع مرور الأيام.

حتى بينما معدلات التضخم الرسمية التي أعلنها معهد الإحصاء التركي هي 78,6%، فإن ما يسمى بالزيادة في الحد الأدنى للأجور ظلت أقل بكثير من معدلات التضخم المعلنة. إن الحكومة، التي تقول "لقد منعنا المواطنين من التغلب على التضخم" في كل منعطف، تواصل اللعب على عقل الشعب. لم تفاجئ الحكومة كالعادة وحكمت على ملايين العمال الذين يكافحون من أجل البقاء على قيد الحياة على الحد الأدنى للأجور، بالجوع والبؤس. وبهذا المعدل، استمرت الحكومة في القول للعمال، إذا جاز التعبير، "أنتم الفقراء، ابقوا فقراء"!

في حين إن الناس مقيدون بارتفاع الأسعار يوما بعد يوم، تزيد أسعار المنتجات الأساسية بنسبة 300%، 400%، في الوقت الذي ارتفع سعر كل شيء 4-5 مرات، كما أن القوة الشرائية تتناقص يوما بعد يوم، فإن الأجور لم ترتفع عند المستوى نفسه. هذا الفهم الملتوي والظلم قد أفقر الناس بكل يوم يمر. على سبيل المثال، كان الحد الأدنى للأجور في عام 2012 يعادل 406 دولارات. وفي حزيران/يونيو 2022، أصبح الحد الأدنى للأجور 287 دولارا!

من ناحية أخرى، في الوقت الذي تعطي الحكومة أصحاب الحد الأدنى للأجور الملاعق، فإنها توزع على النواب الكثير من المجارف. لقد ارتفع راتب النائب، الذي كان نحو 40 ألف ليرة، بنحو 17 ألف ليرة إلى 56 ألف ليرة. وارتفعت معاشات النواب من 18 ألف ليرة إلى 25 ألفا و380 ليرة. في الواقع، تسمح الحكومة للعمال والمتقاعدين بالتغلب على التضخم، وتذهب إلى النفقات حتى لا يتم التغلب على النواب بسبب التضخم. لدرجة أن يد الحكومة، التي لا ترتجف أثناء دفع مليارات الليرات ربا وأصحاب الودائع المرتبطة بالعملة من الميزانية الإضافية، تهتز أثناء تحديد الحد الأدنى للأجور. لا يمكن التصديق كيف يمكن للحكومة، التي تحدد الحد الأدنى للأجور عند 1.000 ليرة تركية تحت خط المجاعة، كيف يمكنها مواجهة الناس دون أي خجل!

ومع ذلك، فمن اللامبالاة الكاملة أن يتحسر دميرباغ من حزب العدالة والتنمية، الذي قال "إذا لزم الأمر، سنأكل نصف كيلو من اللحوم" بعد ارتفاع أسعار اللحوم منذ فترة طويلة، على الشاشات لأنه لا يستطيع العيش براتب قدره 40 ألف ليرة تركية بقوله "أشعر بالخجل، أنا مدين بالمال لمستشاري". في حين إن العمال يكافحون من أجل البقاء على قيد الحياة وتلبية احتياجاتهم الأساسية بـ5.500 ليرة تركية، فمن الوقاحة أن نقول باعتدال لشخص يتلقى 40 ألف ليرة تركية إنني لا أستطيع تلبية كلا الطرفين.

بالإضافة إلى كل ذلك، أعلنت وزارة الخزانة والمالية أنه تم التنازل عما مجموعه 90,6 مليار ليرة تركية من الضرائب مع أحدث زيادة في الحد الأدنى للأجور. وقالت وزارة الخزانة والمالية بعبارات منمقة إنها قدمت تضحية كبيرة، كما لو أنها من جيبها الخاص. أليس هذا المبلغ الذي يعلن التنازل عنه، هو الضرائب التي يدفعها الناس؟ ما الذي تتنازل عنه؟ أليس من المال الخاص للشعب؟ ألم يقدم هذا الشعب تضحيات لسنوات؟ ألست أنت من جعل الضرائب التي تم جمعها من الناس متاحة لحفنة من الشركات الرأسمالية والمؤسسات المالية والبنوك؟ واشرح هذه الأرقام حتى نتمكن من معرفة ذلك. الآن أنت تدلي بمثل هذا البيان دون أي خجل أو ضبط للنفس.

منذ عام 1950، كان لدى تركيا ست وستون حكومة. ومع ذلك، لم يتمكن أي من هؤلاء من حل مشاكل المجتمع. لقد تحمل الشعب دائما العبء الأكبر من سياساتهم الخاطئة والزائفة. لقد قاموا دائما بفوترة الناس مقابل ذلك. في جميع الأوقات، قدم الشعب تضحيات. في حين إن الحكام، الذين استفادوا من بركات الحكومة، عاشوا على سمن الأرض، فقد حكموا على الناس بالجوع والفقر في كل منعطف. وفي حين إنهم جعلوا حفنة من الأقليات سعداء وأغنياء، فقد عاش الناس حياة صعبة في فقر وجوع. إن تغيير الحكومات والوجوه لم يحل المشاكل أبدا. هذه التغييرات لم تتجاوز تغيير الوجوه وسحر العينين.

ثم أيها المسلمون، إلى متى ستوافقون على هذه الحياة البائسة؟!

إلى متى ستسمحون لهؤلاء الحكام باستغلالكم؟!

إلى متى ستنتظرون دون العمل لإعادة نظام الإسلام، الذي سيحل بشكل صحيح جميع المشاكل في الحياة، والمشاكل الاقتصادية في المقام الأول؟!

ألم يحن الوقت لإلقاء النظام الرأسمالي الديمقراطي العلماني المنهار والقديم ومصدر كل الأزمات، في مكب نفايات التاريخ؟

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست