ألمانيا والبلاد الإسلامية والفارق بينهما
ألمانيا والبلاد الإسلامية والفارق بينهما

الخبر:   قالت المستشارة الألمانية ميركل في برنامج تلفزيوني لمجلة بريجيتا يوم 2017/6/26 "نحن الأوروبيين في بعض القضايا لا نلعب الدور الواجب علينا أن نلعبه، فمثلا سوريا لا تقع قريبا من عتبة باب الولايات المتحدة، بل تقع من عتبة بابنا. ولهذا يجب علينا أن نقوم بالمشاركة في عملية التسوية في سوريا، اللاجئون السوريون يأتون إلينا في أوروبا". وقالت "بالإضافة إلى ذلك سؤال آخر مهم كيف يجب أن نتعامل مع ليبيا؟ ليبيا غير موجودة كدولة ومنها يأتي اللاجئون إلينا، ونحن كأوروبيين يجب علينا الشعور بالمسؤولية وعدم الانتظار حتى يحل شخص ما مشكلتنا" في إشارة إلى أمريكا، وقد أشارت إلى "الافتقار للتعاون مع الولايات المتحدة بشأن قضايا البيئة والتجارة الحرة".

0:00 0:00
Speed:
June 29, 2017

ألمانيا والبلاد الإسلامية والفارق بينهما

ألمانيا والبلاد الإسلامية والفارق بينهما

الخبر:

قالت المستشارة الألمانية ميركل في برنامج تلفزيوني لمجلة بريجيتا يوم 2017/6/26 "نحن الأوروبيين في بعض القضايا لا نلعب الدور الواجب علينا أن نلعبه، فمثلا سوريا لا تقع قريبا من عتبة باب الولايات المتحدة، بل تقع من عتبة بابنا. ولهذا يجب علينا أن نقوم بالمشاركة في عملية التسوية في سوريا، اللاجئون السوريون يأتون إلينا في أوروبا". وقالت "بالإضافة إلى ذلك سؤال آخر مهم كيف يجب أن نتعامل مع ليبيا؟ ليبيا غير موجودة كدولة ومنها يأتي اللاجئون إلينا، ونحن كأوروبيين يجب علينا الشعور بالمسؤولية وعدم الانتظار حتى يحل شخص ما مشكلتنا" في إشارة إلى أمريكا، وقد أشارت إلى "الافتقار للتعاون مع الولايات المتحدة بشأن قضايا البيئة والتجارة الحرة".

التعليق:

من هذه التصريحات ومن غيرها في المدة الأخيرة التي أدلت بها المستشارة الألمانية وغيرها من المسؤولين الألمان بجانب تحركاتها وأعمالها الموازية لذلك، يظهر أن ألمانيا تعمل على أن تعود دولة كبرى عالميا بعدما أصبحت قوة إقليمية كبرى في أوروبا ومحيطها، والطريق إلى ذلك يبدأ بمنافسة ومزاحمة ومصارعة الدولة الأولى في العالم وهي الآن أمريكا. فهي تريد أن تشارك في الأعمال السياسية في العالم، وتستغل ورقة اللاجئين من سوريا للمشاركة في العملية السياسية فيها، وكذلك لعب دور في ليبيا في مواجهة الدور الأمريكي. فلم تستقبل ألمانيا اللاجئين حبا فيهم ولا عونا لهم وهي تقوم بطرد الكثير من اللاجئين القادمين من دول أخرى! بل هي تستخدم مسألتهم كورقة لعب في الساحة الدولية. وفي الوقت نفسه ترفض أن تأتي أمريكا وتحل المشاكل. فتدعو الأوروبيين ليسيروا معها في التصدي لأمريكا. وهكذا تعمل على تقوية نفسها وتعزيز وضعها بالاستعانة بأوروبا.

إن ألمانيا تعد بلداً صغيراً من حيث المساحة والسكان، ولكن التأثير في الموقف الدولي ليس له علاقة بذلك. فمساحة ألمانيا حوالي 357 ألف كلم2 وسكانها حوالي 82 مليون نسمة بما فيهم 21 مليون أجنبي قد تم تجنيس 15 مليوناً منهم. فهي تساوي ثلث مساحة مصر تقريبا وأقل من عدد سكان مصر، وتساوي أقل من نصف مساحة تركيا وسكانها بقدر سكان تركيا، وكذلك أكثر بقليل من ثلث مساحة باكستان ولكنها أقل من نصف سكان باكستان. فهذه البلاد وغيرها من البلاد الإسلامية احتلت كما احتلت ألمانيا، ولكن ما أن مرت فترة قصيرة حتى أصبحت ألمانيا دولة كبرى مرة ثانية تنافس الدولة الأولى، وبعد هزيمتها في الحرب العالمية الثانية واحتلال الدول الكبرى لها تمكنت مرة ثالثة من إنقاذ نفسها، وهي تعمل الآن لأن تعود دولة كبرى وتحاول أن تتصدى لأمريكا وغطرستها وابتزازها، ولكن تلك البلاد الإسلامية بل كل البلاد الإسلامية تركض وراء أمريكا وتفتح لها الأبواب وتخطب ودها بل تستعد لتقديم الخدمات لها وتأمين احتلالها واستقراره، وتنتظر الحلول والمبادرات منها. شتان بين الموقفين! ولكن لماذا هذا الفرق في الموقف علما أن إمكانياتها ربما تفوق إمكانيات ألمانيا؟! وكيف إذا اجتمعت كلها في دولة واحدة على مساحة 32 مليون كلم2 وتعداد سكاني يبلغ حوالي ملياري مسلم؟!

ولكن إذا دققنا في الأمر وجدنا السبب في أن ألمانيا دولة وشعبا متحدان في الفكر والهدف والطموح. أي أن الفكر الذي تطبقه الدولة هو الفكر الذي يؤمن به الشعب وهدفهما واحد وطموحهما واحد وهو صيروة ألمانيا دولة كبرى. فالشعب يسندها فهو سند طبيعي.

وأما في تلك البلاد الثلاثة التي ضربتُها مثلاً، بل كل البلاد الإسلامية، فالنظام فيها نظام كفر علماني مناقض لما عليه الشعب من إيمان بدينه الإسلام ويحارب الشعب وفكره وطموحاته، وهدف النظام هو المحافظة على مصالح القائمين عليه وخدمة القوى الأجنبية الذي أقامته، فسند هذه الأنظمة غير طبيعي بل هي عدوة لشعوبها. ولهذا لم يستطع المسلمون حتى اليوم أن يتحرروا من ربقة الاستعمار الذي يأخذ أشكالا مختلفة، تحارب شكلا، فيتخفى ويخرج على الناس بشكل آخر، بسبب ضعف المناعة لديهم، والتي هي المبدئية. أي أن يلتزموا بمبدئهم عقيدة ينبثق عنها نظام للحياة. وهذا الذي يحاربه الغرب وعلى رأسه أمريكا ويطلق عليه الإسلام السياسي ويطلق عليه (التطرف والإرهاب) ويطلق على الجماعات والأحزاب التي تتبناه تنظيمات (متطرفة) أو (إرهابية) ويعمل على فصلها عن المسلمين حتى يحول دون تحررهم من ربقة استعماره. ولكن الأمة تريد الخلاص والتحرير والنهضة والعيش الكريم فتقوم بالاحتجاجات والانتفاضات والثورات وغير ذلك من الأعمال ضد الأنظمة العميلة، ومع ذلك لن تكون هذه الأعمال ناجحة إذا لم تستند إلى المبدأ الذي تؤمن به وتلتزم به. ولهذا يجب الاستمرار في العمل بالاتصال والتواصل مع الأمة وفي سقيها بمبدئها وتركيزه وجعلها تلتزم به في ثورتها وانتفاضتها وكافة أعمالها. وهذا عمل الحزب السياسي القائم على مبدأ الإسلام، وهو جدير بأن تحتضنه الأمة وتجعله قائدا لها ولدولتها. عندئذ نطهر بلادنا من براثن الاستعمار وعملائه ومن رجس مبدئه العلماني وما ينبثق عنه من مفاهيم وأفكار وأنظمة ديمقراطية فاسدة، وعندئذ سنتفوق على كافة الدول الغربية وعلى رأسها أمريكا، ونعود دولة كبرى بل الدولة الأولى في العالم بإذن الله كما بشر بها رسول الله r.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست