ألمانيا والدور القادم
ألمانيا والدور القادم

الخبر: دعا الناطق الرسمي باسم وزارة الخارجية الألمانية، مارتن شيفر، اليوم الجمعة، إيران إلى تجنب أي أعمال من شأنها زيادة حدة التوتر في الخليج، وذلك في إشارة إلى أزمة قطع العلاقات الدبلوماسية بين قطر وعدد من الدول العربية.

0:00 0:00
Speed:
June 17, 2017

ألمانيا والدور القادم

ألمانيا والدور القادم

الخبر:

دعا الناطق الرسمي باسم وزارة الخارجية الألمانية، مارتن شيفر، اليوم الجمعة، إيران إلى تجنب أي أعمال من شأنها زيادة حدة التوتر في الخليج، وذلك في إشارة إلى أزمة قطع العلاقات الدبلوماسية بين قطر وعدد من الدول العربية.

التعليق:

أولا: تقع ألمانيا في وسط أوروبا، ويحدها من الشمال: بحر الشمال، والدنمارك وبحر البلطيق، ومن الجنوب: النمسا، وسويسرا، ومن الشرق: بولندا، والتشيك، ومن الغرب: فرنسا، ولوكسمبورغ، وبلجيكا وهولندا.

تبلغ مساحتها: 357.021 كلم مربع، ويبلغ عدد سكانها 81,751,602 نسمة، وهي تعتبر الدولة الأكثر عدداً وكثافة بالسكان في دول الاتحاد الأوروبي وهي أيضاً ثالث أكبر دولة من حيث عدد المهاجرين إليها.

ثانيا: لقد سبق أن عارضت ألمانيا في زمن المستشار الألماني جيرهارد شرودر القيام بأي عمل عسكري أمريكي ضد العراق، ولا زلنا نذكر كيف حاول الرئيس الأمريكي السابق جورج بوش الابن القيام بضغوط كبيرة على شرودر من أجل الحصول على الدعم الألماني في الحرب التي كانت الإدارة الأمريكية تعد لها. إلا أن شرودر قاوم الضغوط الأمريكية وأصر على رفض تقديم الدعم للحرب على العراق عام 2003.

ثالثا: لقد بدأت أمريكا تلاحظ "شبه تمرد" ألماني على أمريكا وكيف تحاول ألمانيا أن تتصدر أوروبا في مواجهة أمريكا وبخاصة أنها تصدرت الكثير من المواقف الأوروبية وتسعى لفرض نفسها كقوة عالمية، حتى بدون امتلاكها للأسحلة النووية مع ملاحظة جديرة بالاهتمام وهي توفر المناخ السياسي لبروز القوة الألمانية من حيث خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي والتي كانت سببا رئيسيا في منع الوحدة الأوروبية ثم ضعف السياسة الأمريكية خاصة في عهد ترامب وبروز ساسة جدد في فرنسا من خارج الأحزاب التقليدية، بالإضافة إلى عوامل القوة الألمانية الذاتية. ولقد ظهر هذا الأمر بشكل جلي في تصريحات المسؤولين الألمان، فقد وجه وزير الخارجية الألماني سيغما غابرئيل انتقادات حادة للرئيس الأمريكي ترامب ووصف سياسته بأنها "قصيرة النظر" وأن أمريكا تحت قيادته لم يعد لها موقع قيادي في المجتمع الدولي الغربي، ونقل عن الوزير الألماني قوله (إن تحركات الرئيس الأمريكي دونالد ترامب "أضعفت" الغرب. وأضاف أن "أي شخص يعمل على تسريع التغير المناخي من خلال إضعاف حماية البيئة، ويبيع المزيد من الأسلحة في مناطق النزاع ولا يرغب فى حل النزاعات الدينية سياسيا، يعرض السلام في أوروبا للخطر"، مؤكدا أن سياسات واشنطن "القصيرة النظر تلحق أضرارا بمصالح الاتحاد الأوروبي".)، وقد جاءت تصريحات الوزير الألماني بعد يوم واحد من تصريحات صادمة هي الأخرى للمستشارة الألمانية ميركل (أعلنت أنغيلا ميركل أنها اقتنعت أخيرا أنه لا يمكن لأوروبا بعد اليوم أن تعول على الآخرين، في إشارة إلى واشنطن التي مارست خلال الأيام الأخيرة ضغوطا كبيرة لانتزاع مكاسب من حلفائها. وقالت ميركل: "لقد ولى الزمن الذي كنا نتكل فيه بالكامل على الآخرين. هذا ما أدركته في الأيام الماضية... يجب علينا نحن الأوروبيين أن نأخذ زمام أمورنا بأيدينا...").

وأخيرا إن المشهد الأوروبي مقبل على مزيد من البروز للقيادة الألمانية على المستويين السياسي والاقتصادي، وما يشير إلى هذا ويؤكده هو تَصدُّر المسؤولين الألمان للرد على السياسات الأمريكية، وإعلان رغبة ألمانيا بنقل الخلاف مع أمريكا إلى العلن... وهذا إن توسع كثيراً فإنه سيخلخل أوروبا بشكل كبير، وقد يدفع في نهايته إلى تسلح سريع لألمانيا ومن العيار الثقيل وهذا مشروط:

- بتوفر الإرادة السياسية والقرار السياسي، وفيما يبدو أنه متوفر حسب المعطيات الحالية خاصة وأن جميع الأحزاب الألمانية سلطة ومعارضة مجمعة على هذا الدور

- وإذا لم تتدارك أمريكا ما هي عليه من سياسات إقصائية

- وبسرعة إخراج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي والعمل بوتيرة مغايرة لما كانت عليه.

كل هذه العوامل إن توفرت سوف تجعل من ألمانيا دولة كبرى بلا شك.

لقد ورد في كتاب مفاهيم سياسية لحزب التحرير ما نصه (وأما ألمانيا فإنها من حيث الشعب الألماني، والدولة الألمانية في التاريخ كانت تعتبر دولة كبرى، ولكنها بعد هزيمتها في الحرب العالمية الثانية سقطت عن اعتبارها دولة كبرى تماماً مثل سقوطها بعد هزيمتها في الحرب العالمية الأولى؛ ولذلك فإنه كما عادت بعد الحرب العالمية الأولى بقليل دولة كبرى، فإنها من الممكن أن تعود دولة كبرى مرة ثانية مهما طال الزمن، وتحرُّكُها مع فرنسا في بعض القضايا الدولية يدل على ذلك).

وورد أيضا (ويلاحظ مؤخراً في السياسة الألمانية أنها بدأت تظهر اهتماماً متزايداً في النواحي العسكرية والسياسية ذات البعد العالمي، ومن الأمثلة على ذلك مساهمتها المتزايدة في نشاطات حلف شمال الأطلسي في أفغانستان، وفي البوسنة، وكوسوفا، ومشاركة وزير خارجيتها في نشاطات سياسية مع نظيريه الفرنسي والبريطاني، كما حصل في الزيارة الثلاثية للوزراء الثلاثة لإيران، والضغط عليها من أجل قبولها بالتوقيع على بروتوكول إضافي، للتفتيش المباغت على منشآتها النووية، ومنها أيضاً قيام ألمانيا بدور نشط في الوساطة الناجحة في مسألة تبادل الأسرى بين الكيان اليهودي وحزب الله.

وهكذا فإننا نرى تطوراً في السياسة الألمانية يتمثل في الخروج من الدور الانعزالي السابق، الذي جعل ألمانيا تنكفئ على النواحي الاقتصادية فقط، بحيث أصبح المراقب يلاحظ دور الألمان السياسي المتعاظم الذي بدا وكأنه مكافئ ومساوٍ للدور الفرنسي والدور البريطاني).

وختم الكلام بقوله في المفاهيم السياسية (وإذا أرادت ألمانيا تسريع عودتها دولةً كبرى، فيجب أن تبادر إلى الصناعة الحربية، وتجعلها قضيةً مصيريةً لها. وكذلك أن تكون واعيةً سياسياً على لقاءاتها مع فرنسا وبريطانيا، حيث إنه ومن المعلوم أن فرنسا وبريطانيا تسعيان إلى تسخير الاتحاد الأوروبي من أجل دعم نفوذهما الدولي، وأنَّ فرنسا تتقوى بألمانيا لتبرز هي في أوروبا، وبريطانيا تستعمل دهاءها السياسي في لقاءاتها مع فرنسا وألمانيا لتحقيق مصالحها هي. فالواجب على ألمانيا، وإن استمرت في التنسيق مع فرنسا خاصة، وباقي دول الاتحاد بشكل عام، أن تلتفت هي نفسها لأن تكون قوة عسكرية ذات ثقل سياسي ألماني داخل الاتحاد، لكي لا تسخر فقط من أجل مصالح الآخرين. وأن تراقب الموقف الدولي من منظور ألماني لا أوروبي، ولتتخذ من تاريخ أوروبا موعظة).

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست