المعيار المزدوج للرأسماليين يفضح أيديولوجيتهم الزائفة
المعيار المزدوج للرأسماليين يفضح أيديولوجيتهم الزائفة

الخبر:   ذكرت هيئة الإذاعة البريطانية أن مجلس الوزراء الهندي قد وافق على تمويل لإجراء إحصاء سكاني وإجراء مسح للسكان العام المقبل على الرغم من احتجاجات استمرت لأسابيع على قانون الجنسية الذي يقول النقاد بأنه معادٍ للمسلمين. تقول السلطات إن السجل الوطني السكاني المحدّث سيكون عبارة عن قائمة شاملة لجميع السكان. ومع ذلك، يقول النقاد إنها ستكون قائمة لـ"المواطنين المشكوك فيهم" وعليهم إثبات أنهم هنود. وقد قتل أكثر من 20 شخصاً في الاحتجاجات ضد قانون الجنسية. ...

0:00 0:00
Speed:
December 29, 2019

المعيار المزدوج للرأسماليين يفضح أيديولوجيتهم الزائفة

المعيار المزدوج للرأسماليين يفضح أيديولوجيتهم الزائفة

 ( مترجم ) 

الخبر:

ذكرت هيئة الإذاعة البريطانية أن مجلس الوزراء الهندي قد وافق على تمويل لإجراء إحصاء سكاني وإجراء مسح للسكان العام المقبل على الرغم من احتجاجات استمرت لأسابيع على قانون الجنسية الذي يقول النقاد بأنه معادٍ للمسلمين.

تقول السلطات إن السجل الوطني السكاني المحدّث سيكون عبارة عن قائمة شاملة لجميع السكان. ومع ذلك، يقول النقاد إنها ستكون قائمة لـ"المواطنين المشكوك فيهم" وعليهم إثبات أنهم هنود. وقد قتل أكثر من 20 شخصاً في الاحتجاجات ضد قانون الجنسية.

وتقول السلطات إن الهدف من هذا السجل الوطني السكاني هو إنشاء قاعدة بيانات شاملة للهوية لكل "مقيم عادي" في البلاد.

"المقيم العادي" هو الشخص الذي عاش في منطقة لمدة ستة أشهر على الأقل أو شخص يخطط للعيش في منطقة لمدة ستة أشهر أو أكثر. وهذا يعني أن الأجانب الذين يعيشون في الهند سيتم تضمينهم في السجل الوطني السكاني.

ويقول المنتقدون إن السجل الوطني السكاني هو الخطوة الأولى نحو إنشاء ما يسمى بالسجل الوطني للمواطنين مثيرٍ للجدل سيتم تبنيه من حزب بهاراتيا جاناتا الحاكم، لكن الحكومة نفت ذلك. وقد تم بالفعل إنشاء هذا السجل في ولاية آسام الشمالية الشرقية.

ويوم الثلاثاء، نظم الآلاف مسيرة احتجاج أخرى في العاصمة دلهي، على الرغم من أن الشرطة فرضت قانوناً يمنع الناس من التجمع.

وخلال الأسبوعين الماضيين، احتشد مئات الآلاف في الشوارع في مدينتي بنغالور الجنوبية وتشيناي  ( مدراس سابقاً ) . في عطلة نهاية الأسبوع، ونظم ما يقرب من 300 ألف شخص مسيرة احتجاج في مدينة جايبور الشمالية.

التعليق:

لقد دعمت الدول الغربية الاستعمارية الهند على الرغم من احتلالها لكشمير، واعتقالها للمسلمين في آسام، واضطهادها التاريخي والممنهج للمذابح على أيدي السياسيين من حزب بهاراتيا جاناتا، مثل مودي.

وتم انتخاب ترامب في أمريكا بينما وعد بمنع المسلمين من دخول أمريكا. وتسجن الصين ملايين من المسلمين الإيغور في تركستان الشرقية، لمجرد كونهم مسلمين. في الوقت الذي يشجع فيه حكّام المسلمين الخائنون، مثل عمران، وأردوغان وسلمان، مثل هذا الاضطهاد، أو غض الطرف عن ذلك، أو يقدمون في أفضل الأحوال كلمات إدانة فارغة وذرف دموع التماسيح، لكنهم لا يمكن أن يخدعوا أحداً أكثر من ذلك لتقصيرهم في حماية المسلمين والدفاع عنهم في الداخل، ناهيك عن الخارج.

كراهية المسلمين تسري في عروق نظام مودي حتى إنهم لا يتظاهرون بإخفائه.

بالنسبة لقضية مواطنة المسلمين في الهند، فإننا لا نحتج ضد حقيقة عدم حصولنا على الجنسية الهندية، بل ضد المعايير المزدوجة التي تعامل بها الأمة.

مَن هذا الذي يريد أن يكون مواطناً في دولة هشة وضعيفة لدرجة أن هندوس الهند أنفسهم أدت بهم أيديولوجية هندوتفا أن يوضعوا على القائمة بصفتهم أقلية؟!

هذه المعايير المزدوجة الآن متوقعة من أتباع المبدأ الرأسمالي العلماني. إنها السمة المميزة للمبادئ الباطلة. لا تفرز الرأسمالية والديمقراطية إلاّ دولاً فاسدة أينما ذهبت.

لا يوجد في الإسلام مثل هذه المعايير المزدوجة فيما يتعلق برعايا الدولة الإسلامية.

لن يصبح أبناء الأمة الإسلامية رعايا حقاً إلاّ في ظلّ الخلافة على منهاج النبوة. إن الدولة الإسلامية التي أقامها الرسول r لن تحمي المسلمين فقط بل كل رعاياها، بل ستقوم بحمل الدعوة الإسلامية بقوة لتقضي على النظام الرأسمالي الظالم في العالم.

إنّ الأنظمة الديمقراطية في جميع أنحاء العالم تضطهد العرقيات الصغيرة، وخاصة المسلمين ضمن الواقع الحالي بسبب الانتشار الواسع للإسلام.

لكن، الإسلام وحده هو الذي استطاع تأمين حقوق كل الرعايا، بغض النظر عن عرقهم أو دينهم، ليعيشوا في أمان دون ظلم. لم يكن هذا بمثابة معروف من المسلمين بل هو شريعة الله، الخالق الذي يحدد هذه السياسة. إنها ليست سياسة خاضعة لأهواء الأحزاب أو الدول أو الحكام الذين يبدلون ويغيرون وفقاً لمصالح مجموعة أو أخرى.

يتعرض المسلمون اليوم للاضطهاد في كل مكان، على أيدي الديمقراطيين والرأسماليين، لأننا نتمسك بمفهوم وحدة الأمة، الأمة الواحدة التي لا تعترف بالقومية المصطنعة التي وضعها المستعمرون لكي يفرقونا بها.

لكن هذه هي نتائج وجود الحكام العملاء الذين تخلّوا عن الأمة وباعوها للغرب الكافر المستعمر للسيطرة عليها.

 لا يجب أن يكون المسلمون بلا جنسية على يد الهند، لأن الهند نفسها أصبحت بلا هوية منذ هدم الخلافة قبل مائة عام تقريباً.

يقول رسول الله r : «إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ»، إنه فقط خليفة المسلمين الذي يحكم بما أنزل الله، وهو الذي يمكنه استعادة الهوية والكرامة لجميع المسلمين. هو الوحيد الذي يمكنه الدفاع عنهم وحمايتهم من السجن ظلماً والإبادة الجماعية والقمع الذي نشهده اليوم في الهند وغيرها. وحده فقط القادر على إفشال خطط الولايات المتحدة في البلاد الإسلامية، محطماً "أخاند بهارات"  ( الهند الكبرى )  من خلال توحيد أفغانستان والخليج الفارسي وآسيا الوسطى مع باكستان بالخلافة. عندها لن تجرؤ الدولة الهندية على مواصلة احتلالها لكشمير أو اضطهاد المسلمين الذين يعيشون في الهند.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يحيى نسبت

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في بريطانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست