المحافظة على "الستاتسكو التاريخي" تقليعة جديدة  من تعميمات وزارة الخارجية الأمريكية لتثبيت كيان يهود!
المحافظة على "الستاتسكو التاريخي" تقليعة جديدة  من تعميمات وزارة الخارجية الأمريكية لتثبيت كيان يهود!

  الخبر: كشف تقرير لصحيفة الشرق الأوسط يوم الأربعاء، بأن رئيس السلطة الفلسطينية محمود عباس يدرس اتخاذ قرارات صعبة، في محاولة للضغط على كيان يهود وأمريكا وأطراف دولية أخرى، لإطلاق عملية سياسية.

0:00 0:00
Speed:
June 01, 2022

المحافظة على "الستاتسكو التاريخي" تقليعة جديدة من تعميمات وزارة الخارجية الأمريكية لتثبيت كيان يهود!

المحافظة على "الستاتسكو التاريخي" تقليعة جديدة

من تعميمات وزارة الخارجية الأمريكية لتثبيت كيان يهود!

الخبر:

كشف تقرير لصحيفة الشرق الأوسط يوم الأربعاء، بأن رئيس السلطة الفلسطينية محمود عباس يدرس اتخاذ قرارات صعبة، في محاولة للضغط على كيان يهود وأمريكا وأطراف دولية أخرى، لإطلاق عملية سياسية.

وأشار عباس، إلى أن الوضع الحالي لا يمكن السكوت عليه أو تحمله، في ظل غياب الأفق السياسي والحماية الدولية لشعبنا الفلسطيني، وتنصل سلطات الاحتلال من التزاماتها وفق الاتفاقات الموقعة وقرارات الشرعية الدولية، ومواصلة الأعمال أحادية الجانب، وبخاصة في القدس، والاعتداءات المتواصلة على المسجد الأقصى المبارك من مجموعات المتطرفين من المستوطنين وبأعداد كبيرة وأداء الصلوات في باحاته، والسماح لهذه المجموعات المتطرفة برفع أعلام كيان يهود بحماية قواته التي تمنع الفلسطينيين من أداء شعائرهم الدينية بحرية في المسجد الأقصى المبارك وكنيسة القيامة، في انتهاك صارخ للستاتسكو التاريخي.

بدوره، أكد وزير الخارجية الأمريكي، التزام إدارة الرئيس بايدن بحل الدولتين ووقف التوسع الاستيطاني والحفاظعلى الوضعالقائم ووقف طرد الفلسطينيين من أحياء القدس ووقف الأعمال الأحادية من الجانبين، مؤكداً التزام الإدارة بإعادة فتح القنصلية الأمريكية في القدس، وأن الإدارة الأمريكية سترسل وفداً رفيع المستوى للتحضير لزيارة الرئيس بايدن ومناقشة كل القضايا التي طرحها الرئيس أبو مازن في هذا الاتصال، وإعداد المناخ المناسب لإنجاح زيارة الرئيس بايدن لفلسطين والمنطقة.

وكان قد استقبل عباس أمس في مقر الرئاسة في مدينة رام الله، وزير الخارجية الأردني أيمن الصفدي، ومدير المخابرات العامة الأردنية اللواء أحمد حسني، اللذين حملا رسالة العاهل الأردني الملك عبد الله الثاني.

وجدد الصفدي تأكيده على دعم الأردن الثابت للقضية الفلسطينية ولحقوق الشعب الفلسطيني، وتعليمات العاهل الأردني بمواصلة التنسيق والمشاورات لحشد دولي لمواجهة ممارسات يهود التي تنتهكالوضعالتاريخي في الحرم الشريف والتوسع الاستيطاني وجرائم المستوطنين.

التعليق:

تواصل السلطة الفلسطينية القيام بمهامها في تنفيذ الرؤية الأمريكية المتمثلة بحل الدولتين والحفاظ على الوضع القائم أو ما يسمونه "ستاتسكو التاريخي" والذي يتكرر الآن في تصريحاتهم. ويأتي ذلك في سياق حشد الإدارة الأمريكية لأدواتها في بلادنا قبيل زيارة متوقعة للرئيس بايدن للمنطقة، فهذه التصريحات والزيارات ليست بريئة ولا ذاتية، فما يصدر عن السلطة والنظام الأردني يأتي في سياق التحضير للزيارة ومحاولة لإنجاحها بأوامر أمريكية تسخن القضية قبيل وصول سيدهم الأمريكي.

فسيدهم الأمريكي لا يرى حلا لقضية الأرض المباركة إلا في الحفاظ على الوضع القائم "الستاتسكو التاريخي"، وحل الدولتين المقزم وتنفيذ القرارات الدولية التي تقسم الأرض بين أهلها ومغتصبيها قسمة ضيزى وتضمن الشرعية للغاصب وتعترف بوجوده وتثبت أركانه وتعتبر مقاومته إرهابا وتطرفا يجب محاربته والتنسيق الأمني للتعاون في إخماده! وهذا هو جوهر عملية السلام التي تسعى السلطة والأنظمة الحاكمة في بلاد المسلمين لاعادة إطلاقها بأوامر أمريكية صرفة.

إن التقليعة الجديدة والنغمة التي ترددها السلطة والنظام الأردني وغيره من الأنظمة والحركات المرتمية في أحضانها المتمثلة بالحديث عن الحفاظ على الوضع التاريخي "الستاتسكو التاريخي" يعكس السقف المتدني الذي وضعته الإدارة الأمريكية لتحركاتها في المنطقة والهدف من سياستها في ظل استحالة ما يسمى حل الدولتين عبر ما قام به كيان يهود من توسيع مستمر للاستيطان وتكريس لسيادته على القدس ومحاولته الجادة لتهويد المسجد الأقصى وتقسيمه زمانيا ومكانيا، في تصرفات نسفت عمليا حل الدولتين القائم أساسا على إعطاء جل الأرض المباركة لكيان يهود مقابل كيان أمني للسلطة يسمى دولة مهمته حفظ كيان يهود وجلد ظهور أهل فلسطين وإخضاعهم أمنياً وسياسيا واقتصاديا وثقافيا للمحتل والمستعمرين الغربيين.

إن السلطة والأنظمة الحاكمة في بلادنا لا تخرج في تصرفاتها ودندناتها الفارغة عن أوامر أسيادها فيرددون كالببغاوات ما جاء في التعميمات والخطوط العريضة التي تصلهم من موظف من الدرجة الثالثة في وزارة الخارجية الأمريكية، فحديثهم وإجماعهم على المحافظة على الوضع التاريخي هو الأفق الذي رسمته لهم الإدارة الأمريكية والسقف الذي وضعته لتصريحاتهم ومطالباتهم الفارغة المحتوى والمضمون والتي لا تقدم إلا الهواء ممزوجا بتعميمات وزارة الخارجية الأمريكية يخرج من أفواه لا تملك إرادتها في الكلام، وأنى لهذه الأنظمة ولهؤلاء الساسة الذين تتحكم بكلماتهم ومصطلحاتهم عدوة الأمة الإسلامية أمريكا أن يقدموا شيئا لقضية مصيرية للأمة الإسلامية كقضية الأرض المباركة؟! فجل همهم هو تنفيذ الرؤية الأمريكية في إدارة هذه القضية.

إن حل قضية الأرض المباركة لا يكون عبر المحافظة على الستاتسكو التاريخي، الذي يضمن وجود كيان يهود ويؤسس لشرعيته واعتباره جزءاً من المنطقة، فإن ذلك ليس حلا بل هو خيانة وتمكين لكيان يهود وتثبيت لأركانه تحت ذلك المسمى الخبيث.

إن الحل الشرعي لقضية الأرض المباركة يسكن في عقول وقلوب الأمة الإسلامية تحت رموز لا يمكن للإدارة الأمريكية أن تقتلعها من عقولهم وقلوبهم؛ فسورة الإسراء والبطل صلاح الدين ومعركة حطين رموز تقابل الستاتسكو التاريخي ودندنات عملاء أمريكا، فتحرير الأرض المباركة واقتلاع كيان يهود هو الحل الشرعي الذي تسعى له الأمة الإسلامية وتتطلع لتحقيقه ولن تستطيع أمريكا وأذنابها أن يحولوا دون تحقيقه.

آن للأمة الإسلامية وجيوشها وكل القوى الحية فيها أن تفعل ذلك الحل الشرعي وتنهي وجود هذا الكيان الغاصب للأرض المباركة وتقتلعه من جذوره وتخلص الأمة وأهل فلسطين من شروره، وآن للأمة أن تقتلع حكامها الببغاوات وتقيم الخلافة على منهاج النبوة التي تحرر الأرض وتحمل الإسلام رسالة نور ورحمة للعالم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور مصعب أبو عرقوب

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في الأرض المباركة (فلسطين)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست