المجاعة تفتك باليمن والصومال والسودان والنيجر فماذا قدم الغرب للمسلمين غير الموت؟؟!
المجاعة تفتك باليمن والصومال والسودان والنيجر فماذا قدم الغرب للمسلمين غير الموت؟؟!

قالت المفوضية السامية لشؤون اللاجئين التابعة للأمم المتحدة إن مخاطر انتشار المجاعة على نطاق واسع في كل من الشمال الشرقي لنيجيريا والصومال وجنوب السودان واليمن باتت مرتفعة بسبب الجفاف والصراعات التي تضرب هذه الدول. وقال الناطق باسم المفوضية "ندق ناقوس الخطر مرة أخرى اليوم بالتحذير من أن خطر موت جماعي من الجوع بين سكان القرن الإفريقي واليمن ونيجيريا يتزايد... فالوضع بات في غاية الخطورة ويتفاقم بسرعة من غرب إفريقيا إلى شرقها".

0:00 0:00
Speed:
April 16, 2017

المجاعة تفتك باليمن والصومال والسودان والنيجر فماذا قدم الغرب للمسلمين غير الموت؟؟!

المجاعة تفتك باليمن والصومال والسودان والنيجر

فماذا قدم الغرب للمسلمين غير الموت؟؟!

الخبر:

قالت المفوضية السامية لشؤون اللاجئين التابعة للأمم المتحدة إن مخاطر انتشار المجاعة على نطاق واسع في كل من الشمال الشرقي لنيجيريا والصومال وجنوب السودان واليمن باتت مرتفعة بسبب الجفاف والصراعات التي تضرب هذه الدول.

وقال الناطق باسم المفوضية "ندق ناقوس الخطر مرة أخرى اليوم بالتحذير من أن خطر موت جماعي من الجوع بين سكان القرن الإفريقي واليمن ونيجيريا يتزايد... فالوضع بات في غاية الخطورة ويتفاقم بسرعة من غرب إفريقيا إلى شرقها".

وكان 260 ألف شخص، نصفهم من الأطفال، قد قضوا في منطقة القرن الإفريقي نتيجة المجاعة قبل ست سنوات.

التعليق:

إن يد الغرب حيثما حلت وامتدت فإنها تُحِلّ الخراب والدمار والموت!! لأن المبدأ الرأسمالي الفاسد المُفقِر هو سبب الشقاء والبؤس والمجاعة التي تهدّد القرن الإفريقي واليمن والنيجر بسبب جشع الرأسمالين وحرصهم على مصالحهم وملء جيوبهم وبطونهم على حساب الأرواح والدماء!!

إن المجاعة التي تُهدّد هذه الشعوب المسلمة لا تقف على سوء تدبير حكوماتهم وفشلهم في إدارة الأزمات وحسب أو الدخول في سقف المديونية أو حتى اغتيالهم للأموال العامة وتصدّر أعلى مؤشرات الفساد!! إن المشكلة أكبر من ذلك بكثير، إنه الصراع الغربي على بلاد المسلمين بزعامة بريطانيا وأمريكا، سواء بالتدخل المباشر والدخول في عمليات اقتتال مع الدول، أو من خلال الشركات الرأسمالية الناهبة والاستثمار الأجنبي، أو بالتدخل الخبيث عن طريق إذكاء الصراعات وتأجيج الانقسامات والنفخ في نار الخلافات الإقليمية والحروب الأهلية، ليتدخل الغرب فيما بعد بطلاً يرفع شعار الديمقراطية والحرية وإحلال السلام، وديمقراطيته لا تكون إلا قنابل وصواريخ وقتلاً ونهباً واحتلالاً ومجاعة!!

وهذا ما يحدث في هذه البلدان التي تستثمر الحروب الأهلية كما يحدث في الصومال والسودان أو التصدّي (للجماعات الإرهابية) كالحوثيين وبوكو حرام كما هو حال في اليمن والنيجر أو تأجيج الحروب الإقليمية كتدخل السعودية في اليمن وغيره من أشكال دموية للحرب... وكل ذلك للتغطية على الصراع الدولي على هذه المناطق... فماذا ستكون النتيجة من بعد؟ مجاعة تودي بحياة الملايين من الناس أغلبهم من الأطفال وتُهدد بقاء ملايين آخرين يُعانون من سوء التغذية الحاد وسوء الرعاية الصحية وانتشار الأوبئة كالتهابات السحايا والكوليرا!! ومن لم يقتله السلاح فهو مُخيّر بين المجاعة والأمراض!

وهنا يتساءل البعض:

لماذا يتجاهل المجتمع الدولي محنة الجياع في هذه الدول؟

وأين هو الضمير العالمي لحماية ضحايا المجاعة والصراعات؟

طالبت الأمم المتحدة المجتمع الدولي بتوفير 4.4 مليار دولار لمكافحة المجاعة في الدول الأربع إلا أنها لم تتوصل حتى اليوم سوى بمبلغ 984 مليون دولار. وتقول المفوضية إن هذه الأرصدة المالية غير كافية لمواجهة الوضع وهذا ما يُجيب على التساؤلات، فالسكوت والتهميش والتجاهل هو في حد ذاته موقف دولي وآلية لإبادة الشعوب لتصبح "زائدةً" لا حاجة لها، بعد أن دُفعَت للموت والمجاعة والأوبئة والفوضى المقصودة والمنظمة بتعميم عصابات القتل والحروب الداخلية والإقليمية والأهلية!

مفارقة قاسية مؤلمة؛ أن يموت المسلمون جوعا فيما تزخر أراضيهم بالثروات والخيرات التي تغنيهم وتكفيهم وتقلب لهم معادلة الفقر والبؤس والمجاعة إلى الرخاء والرفاه والعيش الكريم على أرقى مستوى!!

فاليمن يحتضن في أعماقه أكبر مخزون من احتياطي الجرانيت والرخام في الشرق الأوسط بالإضافة إلى أرضه الغنية بالمعادن الثمينة (الذهب والفضة) وبنسب مرتفعة جداً، هذا بالإضافة لمعادن مهمة واحتياطيات عالية من معادن الرصاص والزنك خاصة في مدن صنعاء وحضرموت وشبوة... أما النيجر فهو أكبر مصدر للبترول في أفريقيا كما أن أرضه غنية باليورانيوم الذي يُساهم في تمويل جزء كبير من مشاريع فرنسا من الطاقة النووية وتزويدها باحتيجاتها من الطاقة الكهربائية! أما الصومال فيوجد فيه ثروات طبيعية هائلة مثل اليورانيوم وخامات الحديد والقصدير والملح والغاز الطبيعي، وقد تم التأكد من وجود النفط، والجبس والنحاس... بالإضافة إلى الثروات البحرية الكثيرة. وأما السودان فيعتبره البعض قارة لوحده! ومن أهم الثروات الطبيعية في السودان الماء، والأراضي الزراعية، والثروة الحيوانية، والبترول، واليورانيوم والثروة المعدنية.

إن خيرات بلدان المسلمين تؤكد على أن المجاعة هي أزمة مُفتعلة سببها الاقتصاد الرأسمالي المتوحش، فليست المشكلة في انعدام الثروات كما يُروّج وإنما في تقسيمها بالعدل بين العباد.

أيها المسلمون في النيجر واليمن والسودان والصومال:

ثرواتكم أسالت لعاب الغرب فأسالوا دماءكم وقتلوكم وجوّعوكم لأجلها! إن ما تملكونه من خيرات هو ما جعلكم مطمعاً للدول الغربية التي تريد أن يكون لها نصيب الأسد في كل شيء، فأشغلتكم بالصراعات الداخلية والنزاعات الإقليمية والطائفية ووكَلت عليكم حكاما فاسدين مفسدين أذلوكم وأضلوكم السبيل.

فلا تنازعوا فتذهب ريحكم وانبذوا عنكم تجارة العمالة والخيانة مع مليشيات الإجرام وعصابات الموت ومافيات الحكومة، واعلموا أن النظام الاقتصادي الإسلامي هو القادر على أن يوفر لكم ولهذه الأمة وللعالم أجمع سياسة اقتصادية عادلة، يقوم الحاكم فيها على تنمية الثروات وتوزيعها بالعدل بين الناس، ولا يكون هذا إلا في ظل دولة تحميكم وتحمي ثرواتكم وأمتكم؛ هي دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

فوحّدوا صفوفكم أيها المسلمون، واعملوا مع العاملين على بيعة حاكم راع مسؤول عن رعيّته يُتقى من ورائه ويُحتمى به.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نسرين بوظافري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست