المخابرات تعتقل شباب حزب التحرير... في السودان والأردن!
المخابرات تعتقل شباب حزب التحرير... في السودان والأردن!

الخبر: ذكر المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير وبعض وسائل الإعلام خبر اعتقالات شنتها الأجهزة (الترويعية) الأمنية ضد شباب حزب التحرير في الأيام القليلة الماضية في السودان والأردن.

0:00 0:00
Speed:
May 08, 2017

المخابرات تعتقل شباب حزب التحرير... في السودان والأردن!

المخابرات تعتقل شباب حزب التحرير... في السودان والأردن!

الخبر:

ذكر المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير وبعض وسائل الإعلام خبر اعتقالات شنتها الأجهزة (الترويعية) الأمنية ضد شباب حزب التحرير في الأيام القليلة الماضية في السودان والأردن.

التعليق:

أولا: كلمة إلى شباب حزب التحرير المعتقلين:

إنَّ هذا هو طريق النبيّ rوطريق سائر الأنبياء صلوات الله وسلامه عليهم جميعاً، وطريق الصحابة الكرام رضوان الله عليهم، وهو امتحان لما في قلوب المؤمنين، والنصوص الشرعية في ذلك أكثر من أن تحصى، ومنها قوله تعالى: ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءامَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾.

وأضرب هنا مثلا لرفع الهمم والمعنويات مدللا على أن شباب حزب التحرير لا ولن تلين لهم قناة بإذن الله. فقبل عقد تقريبا التقى أحد الصحفيين بأحد شباب حزب التحرير صغار السن في أوزبيكستان وسأله إن كان حقا يتقاضى 20 دولارا مقابل توزيعه لنشرات الحزب، فأجاب الشاب بكل عزة وإباء (أنا أعطيك 100 دولار وأتحداك أن تجرؤ على توزيع نشرات حزب التحرير).

ثانيا: كلمة إلى رجال الأمن:

والله إنا لا نرضى لكم أن تكونوا ككفار قريش في محاربتهم لدعوة تمكين الإسلام، بل نرضى لكم أن تكونوا كسحرة فرعون الذين أصبحوا سحرة فجرة وأمسوا شهداء بررة.

وإنا والله لنعلم أنكم تعلمون أن الأنظمة التي تعملون لصالحها قد اهترأت، فكيف ترضون لأنفسكم أن تكونوا أداة لهم ضد أمتكم وأنتم رجال وأحفاد الرجال الذين حملوا الإسلام بالجهاد وفتحوا البلاد ووطدوا دعائم الخلافة؟!

واعلموا أن عملكم في أجهزة المخابرات لا يجوز في الإسلام، لأن أجهزة المخابرات تتجسس على الناس وتنتهتك حرمات بيوتهم بالمراقبة والاقتحام وهذا ما حرمه الله تعالى حيث قال ﴿وَلَا تَجَسَّسُواْ﴾. ثم إن أجهزة المخابرات تتعدى على حرمات المسلمين بالاعتقال والضرب والتعذيب والإهانة والمذلة والسجن، والإسلام يحرم تعذيب الناس وإيذاءهم، حيث قال عليه الصلاة والسلام: «صنفان من أهل النار لم أرهما... قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس»، وقال عليه الصلاة  والسلام: «كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه» وغير ذلك كثير...

كما أن عملكم يفسد أمة الإسلام ويذلها ويقتل فيها الجرأة وروح النضال مما يجعلها لا تجرؤ على أن تعلن عن رأيها بصراحة أو أن تطالب بحقوقها المهضومة أو بما تراه صوابا مع أن محاسبة الحكام هي من أهم أعمال الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر التي أوجبها الإسلام والتي اعتبرها الرسول rمن أفضل الجهاد حيث قال: «أفضل الجهاد كلمة حق تقال عند ذي سلطان جائر».

فكفوا أيديكم عن حملة دعوة الإسلام قبل أن يأتيكم العذاب من حيث لا تحتسبون.

كلمة إلى أمة الإسلام:

قديما قالوا إن أحباب ومتابعي الشيخ الراحل عبد الحميد كشك تجمهروا عقب الإفراج عنه مطالبين بعودته للخطابة في مسجده في منطقة العباسية حيث كان الشيخ رحمه الله يخطب هناك لسنوات قبل اعتقاله، وكان التجمهر عقب صلاة الجمعة، ظل المصلون يهتفون مطالبين بعودة الشيخ للخطابة، وفجأة ظهرت سيارة نقل كبيرة محملة بالبيض وقفت على مقربة منهم ونادى مناد "بيض طازج بنصف السعر"!! وقف المتظاهرون قليلاً، ثم بدأوا يتسللون ناحية السيارة للحاق بالفرصة، وسط تساؤل البعض: ما المشكلة أن نبتاع البيض ثم نكمل المظاهرة؟ دقائق قليلة والتف المئات حول السيارة، نفد البيض في أقل من ربع ساعة، بعدها بدقائق حضرت قوات مكافحة الشغب والتي كان من المتوقع أن تخوض معركة حامية الوطيس في تفريق المتظاهرين ولكن حدث ما هو غير متوقع، فلقد وقف كل متظاهر ينظر للجنود وهم ينزلون من سيارات الشرطة ثم ينظر للبيض الذي في يده والذي حصل عليه بسعر (لقطة)، محاولاً تصور مصير هذا البيض في حالة مواجهة قوات مكافحة الشغب!! والنتيجة كانت انصراف المتظاهرين بدون صدام.

إن كانت هذه القصة حدثت فعلا في الماضي، فكيف ترضونها لأنفسكم اليوم؟! بل ارموا البيض والدنيا بما فيها وراء ظهوركم فهي زائلة، فلميتة في سبيل الله خير من حياة في معصيته، واعملوا مع حَمَلة الدعوة من شباب حزب التحرير، وغُذُّوا السَّيْرَ في سبيل إقامة حكم الله في الأرض، بإقامة الدولة الإسلامية، دولةِ الخلافة، دولة الهدى والنور ورعاية شؤون الناس بالعدل والحق، ولا يلفتنَّكم عن ذلك وعدٌ أو وعيد، ولا مِنَحٌ أو مِحَن ﴿وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ﴾.

وأخيرا، إن دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة ستهدم بإذن الله جميع أجهزة المخابرات التي أقيمت لقهر الأمة والتجسس عليها وسوف لا تبقي لها أثرا وستجعل المسلمين يتنفسون الصعداء من كابوس المخابرات الرهيب وستترك لهم أن يعبروا عن آرائهم ضمن إطار الشرع وعن محاسبتهم للحكام بمنتهى الصراحة حتى تعود الأمة الإسلامية خير أمة أخرجت للناس تأمر بالمعروف وتنهى عن المنكر وتؤمن بالله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غسان الكسواني – بيت المقدس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست