المكتوب واضح من عنوانه
المكتوب واضح من عنوانه

الخبر: وكالات: نشر ملك الأردن عبد الله الثاني ورقة نقاشية سادسة بعنوان (سيادة القانون أساس الدولة المدنية).

0:00 0:00
Speed:
October 23, 2016

المكتوب واضح من عنوانه

المكتوب واضح من عنوانه

الخبر:

وكالات: نشر ملك الأردن عبد الله الثاني ورقة نقاشية سادسة بعنوان (سيادة القانون أساس الدولة المدنية).

التعليق:

المكتوب واضح من عنوانه، فليس صحيحا أن سيادة القانون هي أساس الدولة المدنية، بل إن أساس الدولة المدنية هو العقيدة العلمانية، فصل الدين عن الحياة ومن ثم عن الدولة بكونها صاحبة السلطة في تنفيذ ذلك وتطبيق ما انبثق عن هذه العقيدة من أنظمة اجتماعية واقتصادية وفي الحكم.

وبما أن القانون هو مجموع التشريعات الناظمة لشؤون الناس في كل مناحي حياتهم، فهذه التشريعات إما أن تكون من عند الله خالق البشر والعالم بما يصلح لهم من قوانين تنظم حياتهم على الوجه الصحيح والآمر بأخذ تشريعاته دون غيره سبحانه، وإما أن تكون من عند البشر العاجزين عن الإحاطة والعلم بما يصلح لهم من نظم وتشريعات تنظم حياتهم.

وبما أن سيادة القانون تكون بتطبيقه بكل تفاصيله والدفاع عنه وبمحاسبة من يقصر في تطبيقه وبالانصياع التام والتسليم الكامل له دون أي حرج فلا بد للقانون (التشريعات) حتى يحظى بالسيادة والاحترام أن يكون منبثقا عن عقيدة الناس الذين يطبق عليهم والتي تشكل عندهم هذه العقيدة القاعدة الفكرية الكلية التي تستند لها كل القوانين والتشريعات، سواء أكانت عقيدتهم صحيحة تقنع العقل وتوافق الفطرة كالعقيدة الإسلامية فقط، أم كانت غير صحيحة لا تقنع العقل ولا توافق الفطرة كباقي العقائد وعلى رأسها عقيدة فصل الدين عن الحياة والتي ثبت عمليا فسادها وعجزها عن معالجة مشاكل البشر معالجة صحيحة، فعن أي احترام وسيادة لهذا القانون المنبثق عن هذه العقيدة الباطلة يتحدثون ويحاولون تضليل الأمة عن حقيقة الدولة المدنية وبشاعتها وكفرها بوضع قناع لها لا يقل سوءاً عن حقيقة وجهها. عن أي قانون يتحدثون؟ عن القانون الذي يحارب الإسلام باسم محاربة (الإرهاب)؟ أم عن القانون الذي يلاحق الدعاة والعاملين لتطبيق شرع الله، أم عن القانون الذي أقر بوجود كيان يهود وأقر التنسيق معه؟ أم عن القانون الذي يرخص شرب الخمر وصناعته وبيعه؟ أم عن القانون الذي يسمح بوجود القواعد العسكرية الصليبية في بلادنا؟ أم عن القانون الذي يكمم أفواه الخطباء والعلماء؟ أم عن القانون الذي يسمح لأعداء الدين بالتطاول عليه؟ أم عن القانون الذي يسمح بالفسق والفجور تحت ذريعة حماية الحريات؟ أم عن القانون الذي يسمح بالزنا بالتراضي؟ أم عن القانون يرسخ التبعية السياسية والاقتصادية والثقافية للغرب الكافر؟ أم عن القانون الذي يقر ويرسخ التخاذل عن نصرة المسلمين؟ أم عن القوانين الاقتصادية التي رسخت النظام الربوي الرأسمالي؟ أم عن القانون الذي مكن أعداء الأمة من السيطرة على مقدراتها وثرواتها؟ أم عن القانون الذي أعطى مجلس النواب حق التشريع؟ أم عن القانون الذي يرسخ أنظمة الحكم غير الشرعية ويؤكد على شكل الدولة غير الشرعي؟ أم عن أبي القوانين (الدستور الوضعي) الذي أنتجته عقول البشر لترتكز عليه كل القوانين في كل المجالات ترسيخا لعقيدة فصل الدين عن الحياة؟!! أما وأننا مسلمون نعتقد بعقيدة التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله ونعتز ونفتخر بها ونؤمن ونقر ونسلم بكل ما انبثق عنها من أحكام شرعية تنظم شؤون كل البشر خير تنظيم في كل زمان وفي أي مكان، وبما أننا مأمورون برفض غيرها رفضا قاطعا، وبما أننا نقر لله وحده بحق التشريع ونؤمن بأن هذه التشريعات توضع موضع التطبيق والتنفيذ كقوانين عن طريق دولة الخلافة الكيان السياسي الشرعي الوحيد للمسلمين، فلا قدسية ولا احترام ولا إقرار عندنا لسيادة أي قانون على عقيدتنا الإسلامية وما انبثق عنها من أحكام (قوانين) ولا تسليم عندنا لغيرها، ولا رضا ولا قبول إلا بها ولا إقرار عندنا لنظام حكم يقوم على غير أساسها حتى وإن استعار بعض قوانينها ﴿مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾ ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلاّ للهِ﴾ ﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾.

وأخيرا، يجب أن يعرف المسلمون أن الدافع الذي دفعهم لكتابة ما سموه بالورقة النقاشية السادسة التي أنكروا فيها علمانية الدولة الأردنية وحاولوا فيها تضليل الأمة بمحاولتهم تغيير أساس الدولة المدنية وتشبيهها بالدولة الإسلامية التي أنشأها رسول الله r في المدينة وهي بعيدة كل البعد عنها في الأساس الذي قامت عليه وفي المعالجات وفي والغايات، إنما الدافع هو إدراكهم لكره المسلمين المتعاظم للعلمانية ولفظ دعاتها والمنظرين لها واحتقار المنادين بها، ووعي المسلمين على الدولة المدنية بأنها الاسم اللطيف للدولة العلمانية، وقوة فكرة دولة الخلافة ورغبة المسلمين المتزايدة للعيش تحت ظل أحكام الإسلام العظيم.

إن هذه الورقة النقاشية السادسة عنوان لهزيمة العلمانيين الفكرية والتي هي مقدمة لهزيمتهم السياسية والتي سيغطونها بأعمالهم العسكرية والأمنية القمعية القهرية ليتمكنوا من تحقيق سيادة القانون أو القوانين المرفوضة والمبنية على غير أساس العقيدة الإسلامية وليحموا أنفسهم وأنظمة حكمهم المهترئة...

وأخيرا ﴿إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الإِسْلامُ

فأشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله

رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسول الله r نبيا ورسولا

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ممدوح أبو سوا قطيشات

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست