المنطقة الآمنة هي أولاً المنطقة الخالية من أمريكا وأي مستعمرين آخرين   (مترجم)
المنطقة الآمنة هي أولاً المنطقة الخالية من أمريكا وأي مستعمرين آخرين   (مترجم)

  الخبر:قال أردوغان إنه تم التوصل إلى اتفاق مع أمريكا حول منطقة آمنة في سوريا، وسوف تبدأ العملية من خلال إنشاء مركز العمليات المشتركة مع الأمريكيين. وقال الرئيس أردوغان، الذي واصل حديثه قائلاً إن الاجتماعات ستستمر، "لكن الآن، تم اتخاذ خطوة. لن أذكر موعداً، لكن مع أمريكا قررنا إنشاء مركز للعمليات. مع إنشاء مركز للعمليات ستبدأ العملية، وبالتالي، فإن السؤال عما إذا كانت الخطوة قد اتخذت أم لا، وجدت إجابتها. كانت القضية الرئيسية هي اتخاذ خطوة في الجانب الشرقي للفرات ونحن نفعل ذلك الآن مع الأمريكيين". (وكالات الأنباء)

0:00 0:00
Speed:
August 30, 2019

المنطقة الآمنة هي أولاً المنطقة الخالية من أمريكا وأي مستعمرين آخرين (مترجم)

المنطقة الآمنة هي أولاً المنطقة الخالية من أمريكا وأي مستعمرين آخرين


(مترجم)


الخبر:


قال أردوغان إنه تم التوصل إلى اتفاق مع أمريكا حول منطقة آمنة في سوريا، وسوف تبدأ العملية من خلال إنشاء مركز العمليات المشتركة مع الأمريكيين. وقال الرئيس أردوغان، الذي واصل حديثه قائلاً إن الاجتماعات ستستمر، "لكن الآن، تم اتخاذ خطوة. لن أذكر موعداً، لكن مع أمريكا قررنا إنشاء مركز للعمليات. مع إنشاء مركز للعمليات ستبدأ العملية، وبالتالي، فإن السؤال عما إذا كانت الخطوة قد اتخذت أم لا، وجدت إجابتها. كانت القضية الرئيسية هي اتخاذ خطوة في الجانب الشرقي للفرات ونحن نفعل ذلك الآن مع الأمريكيين". (وكالات الأنباء)

التعليق:


تستمر المناقشات بين أمريكا وتركيا حول منطقة آمنة يُتوقع إنشاؤها في شمال سوريا لفترة طويلة. في هذا الصدد، قرر الطرفان إنشاء "مركز عمليات مشترك". وفي هذا الصدد، أجرى وفد عسكري أمريكي بعض عمليات التفتيش في مدينة شانلي أورفا.


بينما تريد تركيا القيام بعملية في شمال سوريا في أقرب وقت ممكن، تنفذ أمريكا سياسة مماطلة تجاه تركيا. في حين يبدو أن أمريكا تقدم ردودا إيجابية على طلبات تركيا من ناحية، فإنها تعرقل تركيا من ناحية أخرى. إلى جانب استمرار الاجتماعات حول هذه المسألة بين المسؤولين الأمريكيين والأتراك، من المعروف أنه لم يتم الحصول على أية نتائج مهمة من الاجتماعات المذكورة. بالإضافة إلى ذلك، إذا كانت تركيا ستقوم بعملية في شرق الفرات، فسيكون ذلك ممكناً بموافقة أمريكا وقبولها، فبدون علم أمريكا لا يمكن لتركيا اتخاذ خطوة واحدة.


يمكن تقييم مشكلة المناطق الآمنة التي تريدها تركيا من عدة جوانب:


1. من خلال عمليات "غصن الزيتون" و"درع الفرات" التي قامت بها تركيا سابقاً، تم تسليم النظام كلاً من الغوطة وحلب. الآن، يتم تنفيذ الخطة الغادرة نفسها مرة أخرى. هيئة تحرير الشام أنشئت في المقام الأول تحت سيطرة تركيا وبالمثل جميع الجماعات المسلحة الأخرى في إدلب، من خلال أبراج المراقبة التي أنشأتها، وجعلتهم يمتثلون للخطة الأمريكية. بالإضافة إلى ذلك، مهدت الطريق للقيام بعمليات في إدلب من روسيا والنظام، من خلال تبادل المعلومات الاستخباراتية مع روسيا من خلال أبراج المراقبة هذه. لذلك، من خلال هذه الخطوات التي اتخذتها تركيا، اكتملت الحلقة الأخيرة من سلسلة الخيانة ومهدت الطريق لاستيلاء النظام على إدلب. بمعنى آخر، سيتم تسليم إدلب إلى النظام عن طريق ضمان انتقال السكان المحليين إلى ما يسمى المنطقة الآمنة أو المناطق الأخرى، نتيجة لقصف روسيا والنظام لإدلب.


2. بغض النظر عن الكيفية التي ستنتهي بها الثورة، لن تكون أمريكا الكافرة مطمئنة تجاه سوريا كما في السابق. حتى إذا حصلت على النتيجة التي تريدها، فلن تكون سوريا هي سوريا القديمة. ستعيش أمريكا مع هذا الخوف. إنها تريد وضع عقبة بين المنطقة الآمنة أو المنطقة العازلة المراد إنشاؤها وعميلها الأسد. بمعنى آخر، إنها تريد أن تمنع المسلمين المخلصين الذين سينهضون من الرماد، من تأمين الشام.


3. خسر أردوغان وحزبه الأصوات خلال الانتخابات المحلية التي أجريت في 31 آذار/مارس و23 حزيران/يونيو وخسروا الانتخابات في إسطنبول وأنقرة بشكل خاص وغيرهما من المناطق. حتى قبلت أمريكا بوصول صواريخ إس-400 إلى تركيا التي اعترضت عليها، من أجل جعل رجلها أردوغان يزدهر مرة أخرى أمام الرأي العام. وبالطريقة نفسها، تقول إنه تم التوصل إلى اتفاق متبادل بشأن مسألة "المنطقة الآمنة" في بعض النواحي لتعزيز قبضة أردوغان، الذي يعاني من خسارة الانتخابات، أمام المجتمع وحزبه؛ ومن ناحية أخرى، فإنها تماطل تركيا في مسألة المنطقة الآمنة.


الحقيقة هي أن تركيا اتبعت بالكامل الخط الأمريكي بشأن سياسة سوريا منذ بداية الثورة في عام 2011 حتى الآن، ولم تتخذ أبداً حتى خطوة واحدة دون إذنها وموافقتها. كما ذكرت أعلاه، تم تنفيذ عمليات "غصن الزيتون" و"درع الفرات" بواسطة تركيا بموافقة أمريكا. بالإضافة إلى ذلك، فإن الاتفاقيات الموقعة بين تركيا وروسيا وإيران في سوتشي وأستانة هي خطوات اتخذت في هذا الإطار. خانت تركيا الثورة السورية من خلال هذه الخطوات وباعت الشعب السوري للنظام مقابل ثمن بسيط. بالإضافة إلى ذلك، لم ترد على الهجمات التي شنها النظام على قواعدها في إدلب. تركيا تتذوق طعم الانتقاص بعد الانتقاص. فهي لا تزال تعتبر أمريكا كحليف قام بتزويد حزب الاتحاد الديمقراطي بعشرات الشاحنات، بينما تراه هي كمنظمة إرهابية. بالطريقة نفسها، فهي ترى روسيا التي تقتل المسلمين في سوريا وإدلب كصديق وتلتزم الصمت حيال المذابح الروسية.


وبالتالي، سوف تسلم تركيا إدلب إلى النظام من خلال منطقة آمنة في شمال سوريا ترغب في أن تنشئها أمريكا. بهذه الخيانة تشارك تركيا في مذابح أمريكا وروسيا والنظام الخسيس.


أخيراً، ليست سوريا وحدها بل العالم كله ليس آمنا. كل مكان وكل بلدة يوجد بها الكفار المستعمرون هي غير آمنة. لقد فشل المستعمرون الغربيون في جعل العالم مكاناً آمناً وقابلاً للعيش. كما كان في الماضي، فإن جعل العالم ملاذاً آمناً مرة أخرى، لن يكون ممكناً إلا بخلافة راشدة بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست