المرأة السياسية اليوم هي مطية لتمرير السياسات الظالمة
المرأة السياسية اليوم هي مطية لتمرير السياسات الظالمة

أعربت أمينة أمانة شؤون المرأة بالمؤتمر الوطني الأستاذة قمر خليفة هباني عن مباركتها للخطوات التي اتخذها رئيس الجمهورية بإصداره لقرارات إعادة هيكلة أجهزة الدولة مؤكدة أن ذلك يأتي في سياق منظومة الإصلاح الشامل وتطوير كافة مؤسسات الدولة على كل المستويات وتقييم وتقويم مجمل الأوضاع وصولا للمزيد من الجودة في الإنتاج والإنتاجية مما يعد مؤشرا للإسهام في إنهاء الأزمات العابرة والتحديات الماثلة والنهوض بالوضع الاقتصادي، وشكرت هباني المواطن وخاصة النساء على صبرهم وتحملهم لكافة أشكال التحديات التي واجهت البلاد. (سونا، 2018/09/12)

0:00 0:00
Speed:
September 13, 2018

المرأة السياسية اليوم هي مطية لتمرير السياسات الظالمة

المرأة السياسية اليوم هي مطية لتمرير السياسات الظالمة

الخبر:

أعربت أمينة أمانة شؤون المرأة بالمؤتمر الوطني الأستاذة قمر خليفة هباني عن مباركتها للخطوات التي اتخذها رئيس الجمهورية بإصداره لقرارات إعادة هيكلة أجهزة الدولة مؤكدة أن ذلك يأتي في سياق منظومة الإصلاح الشامل وتطوير كافة مؤسسات الدولة على كل المستويات وتقييم وتقويم مجمل الأوضاع وصولا للمزيد من الجودة في الإنتاج والإنتاجية مما يعد مؤشرا للإسهام في إنهاء الأزمات العابرة والتحديات الماثلة والنهوض بالوضع الاقتصادي، وشكرت هباني المواطن وخاصة النساء على صبرهم وتحملهم لكافة أشكال التحديات التي واجهت البلاد. (سونا، 2018/09/12)

التعليق:

في عصر ما قبل الإسلام اشتهرت زرقاء اليمامة ببعد النظر، وجهينة بالخبر اليقين، وحليمة بيوم حليمة... فكنّ خير معين للقادة السياسيين وقت الأزمات، أما اليوم فنرى عجباً لم نره حتى في الجاهلية حيث المرأة تتعاطى أدواراً سياسية تساند الظلم والطغيان وتشهد ظلما ليس له مثيل يقع على مجمل الناس، وبخاصة المرأة من سياسات أفقرت وقتلت، وجوعت، وباعت، عرض المرأة في الشارع العام، عندما تركتها دون تطبيق حكم الشرع عليها، فتركتها تتسول لقمة العيش في الشارع وتركتها للحروب المشتعلة في أطراف البلاد تتسول لقمة العيش والدواء عبر ما يسمى بجمعيات إنسانية ثبت أنها تدس السم في الدسم، وتركتها لغلاء المعيشة تصارع الأمرين، ثم بعد كل هذا العناء نرى السياسيّات يطبلن لسياسات إصلاح مزعوم ويشكرن النساء على آلام لا يعلمون عنها شيئاً، ولأحزاننا يتجاهلون ولا يأبهون، ودموعنا تحرق وجناتنا فلا يشعرون، ولورود أحلامنا الناعمة يقطفون، وبقسوةٍ يمزقون، وبوحشيّة الطغيان يدوسون، ولمراكب أطفالنا في أعنف الأمواج يُغرِقون...

على السياسيات في هذا الزمان أن يعلمن أن عمل المرأة في السياسة ليس بأن تكون مطية  للسياسات الفاشلة المهلكة للحرث والنسل، في حكومات سايكس بيكو التي شهدت على نفسها بالفشل من أول يوم، لتركها منهاج الحق والعدل شريعة الإسلام، فأصبحت المرأة السياسية تتسلق أفكار الديمقراطية الرأسمالية الغربية فتقنع بإلقامها منصبا أو انضمامها للحزب الحاكم فتصبح مشاركتها في العمل السياسي، ضرباً من الارتزاق، وبالاً على المرأة والمجتمع.

إن من الأحكام الشرعية العامة التي خاطب بها الله تعالى المرأة والرجل على السواء، ووعدهم على إقامتها جزيل الثواب، العمل السياسي على أساس الإسلام، وهو يشمل أموراً عظيمةً مثل حملِ دعوة الإسلام وتحملِ الأذى في سبيلها، والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، والعمل في حزب سياسي على أساس الإسلام لمحاسبة الخليفة إن لم يُحسن تطبيق الإسلام...

أما حمل الدعوة وتحمل الأذى... فقد كان للمرأة منذ فجر الإسلام النصيب الوافر فيه، فقد حملت النساء الدعوة إلى الإسلام في مكة ضمن كتلة الرسول صلى الله عليه وسلم وصحابتِه، بل إنهنّ تحمَّلن في سبيل حمل الدعوة أشد أنواع العذاب والتنكيل من كفار مكة، ومن ذلك ما رواه البخاري عن سعيدٍ بنِ زيدٍ أنه قال: «لَوْ رَأَيْتُنِي مُوثِقِي عُمَر عَلَى الإسلام، أَنَا وَأُخْتُهُ، وَمَا أَسْلَمَ...»، فقد كان عمر يعذبهما قبل إسلامه. ومواقف أم المؤمنين خديجة رضي الله عنها المؤازرة للرسول صلى الله عليه وسلم من أول بعثته، وسمية أول شهيدة في الإسلام، وغيرهن من الصحابيات الجليلات، هي مواقف مضيئة في تاريخ الإسلام. وهكذا ضربت الصحابيات مثلاً سامياً في التضحية والصبر على الأذى، ثم كانت الهجرة إلى الحبشة ثم الهجرة من مكة إلى المدينة، وما تعرضت له المرأة المسلمة من ترك الأوطان والغربة والحياة القاسية والمعاناة الشديدة، ودورها في بناء الدولة الإسلامية في المدينة، والسيرة مليئةٌ بنماذجَ مضيئةٍ للمهاجرات مثل أسماء بنت أبي بكر وأم سلمة وأم أيمن وغيرهنّ رضي الله عنهن.

أما عمل المرأة المسلمة ضمن حزب سياسي فلا يكون لمساندة الظلمة والوقوف فى خندق واحد معهم، كما يحدث اليوم بل بالعمل الجاد لاستئناف الحياة الإسلامية بإقامة دولة الخلافة إن لم تكن موجودة كما هو الحال اليوم، فإن الدليل الشرعي يخاطب القادرين من الرجال والنساء على حدٍ سواء، يقول تعالى: ﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمّةٌ يَدْعونَ إلى الخَيرِ وَيأمرونَ بِالمَعروفِ وَيَنْهَوْنَ عَن المُنْكَرِ وأولئكَ هُمُ المُفْلِحون﴾، هذه الآية خاطبت المؤمنين والمؤمنات وأمرتهم بإنشاء حزب يكون عمله الدعوة إلى الإسلام (الخير). وكذلك الأحاديث الشريفة التي يستدل بها على وجوب إقامة الخلافة كقوله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ ماتَ وَليسَ في عُنُقِهِ بَيْعَةٌ ماتَ مَيْتَةً جاهِلَيّة»، فكلمة "من" عامة تشمل الرجال والنساء، ومن المعلوم أن نسيبة بنت كعب أم عمارة، من بني مازن بن النجار، وأسماء بنت عمرو أم مَنيع من بني سلمة بايعن الرسول صلى الله عليه وسلم في بيعة العقبة الثانية ، وقد بايع الرسول صلى الله عليه وسلم النساء اللواتي هاجرن بعد إقامة الدولة، قال تعالى: ﴿يَآ أيُّها النّبِيُّ إذا جَاءَكَ المُؤمناتُ يُبايعنَكَ على أنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيئاً وَلا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنينَ وَلا يَقْتُلنَ أولادَهُنّ وَلا يَأتينَ بِبُهتانٍ يَفْتَرينَهُ بينَ أيديهِنَّ وَأرْجُلِهِنَّ وَلا يَعْصينَكَ في مَعروفٍ فبايِعْهُنَّ﴾ [الممتحنة: 12]، وعليه فإن المَيتة الجاهلية تشمل النساء أيضا ممن لم يكن في أعناقهن بيعة أو لم يتلبسن بالعمل لإيجاد خليفة يستحق البيعة.

هذه بعض أحكام شرعنا الحنيف المتعلقة بالمرأة ودورها السياسي، فيجب على المرأة المسلمة أن تقتدي بالعظيمات من أمهات المسلمين والصحابيات ومن جاء بعدهن، لإظهار دين الله على الدين كله، بأن يكون لهنّ شرف العمل لاستئناف الحياة الإسلامية والنهوض بالمسلمين، حتى يظهر الله أمره ويعز دينه.

 

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة عبد الجبار (أم أواب)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست