المرصد يبرر إجرام النظام ويجادل عنه فمن يجادل الله عنه وعنهم يوم القيامة؟!
المرصد يبرر إجرام النظام ويجادل عنه فمن يجادل الله عنه وعنهم يوم القيامة؟!

نقلت جريدة اليوم السابع الأربعاء 2019/2/20م، أن مرصد الفتاوى التابع لدار الإفتاء أوضح في تقرير أصدره أن وحدة التحليل والمتابعة المنبثقة عنه رصدت خلال الأيام الماضية دعوات لشباب الجماعة على صفحات التواصل تحثهم على ممارسة العنف وقتل قوات الأمن، خاصة الشباب الإخواني الهارب خارج مصر، بسبب تورطهم في ممارسات العنف وصدور أحكام قضائية ضدهم، حيث قال أحمد المغير، أحد شباب الإخوان بتركيا، في منشور له على "الفيسبوك": "بقول لكل شاب متمتش هدر ومتسلمش نفسك حي وإن استطعت خد معاك قدر ما تستطيع منهم، خلي لروحك تمن".

0:00 0:00
Speed:
February 22, 2019

المرصد يبرر إجرام النظام ويجادل عنه فمن يجادل الله عنه وعنهم يوم القيامة؟!

المرصد يبرر إجرام النظام ويجادل عنه

فمن يجادل الله عنه وعنهم يوم القيامة؟!

الخبر:

نقلت جريدة اليوم السابع الأربعاء 2019/2/20م، أن مرصد الفتاوى التابع لدار الإفتاء أوضح في تقرير أصدره أن وحدة التحليل والمتابعة المنبثقة عنه رصدت خلال الأيام الماضية دعوات لشباب الجماعة على صفحات التواصل تحثهم على ممارسة العنف وقتل قوات الأمن، خاصة الشباب الإخواني الهارب خارج مصر، بسبب تورطهم في ممارسات العنف وصدور أحكام قضائية ضدهم، حيث قال أحمد المغير، أحد شباب الإخوان بتركيا، في منشور له على "الفيسبوك": "بقول لكل شاب متمتش هدر ومتسلمش نفسك حي وإن استطعت خد معاك قدر ما تستطيع منهم، خلي لروحك تمن".

وأضاف المرصد: إن شهادات عناصر الجماعة المتواترة في ممارسة العنف والتحريض عليه أصبحت علنية وبشكل مستمر ودائم ما دامت هناك دول توفر لهم الأمن والمأوى والدعم، وتمنع يد العدالة المصرية من تطبيق القانون عليهم، مما يستلزم على المجتمع الدولي مواجهة هذا الأمر ومعالجة ملف إيواء العناصر (الإرهابية) من بعض الدول، لا سيما أن الحاضر والماضي قد أثبتا بما لا يدع مجالا للشك أن جماعة الإخوان (الإرهابية) هي المورد البشري الرئيسي للتنظيمات (الإرهابية) كالقاعدة و(داعش).

التعليق:

بعيدا عما ذكره المرصد من دعوات لا نعلم مدى صدقها ولا نقرها كطريقة للتغيير ولإقامة دولة الإسلام، فالمرصد هو كالدار التابع لها والنظام الذي هو جزء منه يردد ما لا يعقل. إن (الإرهاب) الذي اهتدى مرصد الدار لمورده لا يوجد له تعريف دولي حتى الآن، فأمريكا عندها تعريفان للإرهاب لم تستقر على أحدهما، وكذلك المجتمع الدولي لم يتفق على معنى محدد للإرهاب وكأنهم يقولون عرفنا مورد ما لا نعرف.

وبعيدا عن التعريف الاصطلاحي الذي لم يتفقوا ولن يتفقوا عليه أبدا فإن المعنى اللغوي للكلمة يعتبر أساسا لكل التعاريف المطروحة للإرهاب، وهو بث الرعب والخوف في المجتمعات. وبإسقاط هذا المعنى العام على الواقع يتبين لنا أن منشأ الإرهاب في العالم هو أمريكا بقوتها العسكرية والاقتصادية وهيمنتها السياسية، فقواعدها منتشرة في أرجاء المعمورة لبث الرعب فيها (كشف موقع "غلوبال ريسيرش" الأمريكي، عن وجود 800 قاعدة عسكرية للولايات المتحدة في العالم، مشيراً إلى أن من بينها 6 قواعد رئيسية في العراق)، تستخدم أمريكا هذه القواعد لتهدد روسيا والصين وأوروبا وتثير الرعب والخوف في باقي العالم، فمن قاعدة إنجرليك التركية انطلقت الطائرات الأمريكية فدمرت سوريا وأفغانستان، ومن قواعدها في الخليج دمرت العراق، وبتلك القواعد تبتز حكام الخليج عملاء الإنجليز وتضغط عليهم كي يخضعوا للسياسات الأمريكية.

أما على الصعيد الاقتصادي فهي تثير الرعب في المجتمعات بثالوثها القاتل؛ البنك وصندوق النقد الدوليين واتفاقية التجارة (الجات) عن طريق إغراق البلاد في الديون ثم ابتزازها بفرض قوانين صندوق النقد على هذه الدول التي كبلت اقتصاديات تلك الدول وجعلتهم كعبيد يعملون في مزرعة لسيدهم.

أما على الصعيد السياسي، فهيمنة أمريكا على السياسة الدولية لا تخفى على أحد، فهي من تنشئ التحالفات وهي من يلغيها، بالأمس أعلنت أمريكا تعليق اتفاقية الصواريخ قصيرة المدى ومتوسطة المدى مع روسيا، مما أثار الخوف والقلق في أوروبا، وروسيا، والصين، من عودة الصراع النووي على أرض أوروبا، وهي من تتحكم في سياسات الدول عالميا، بل ومحليا، بل وصل الأمر، أن تفرض علينا في مصر سياسة تعليمية، وتفرض علينا ثقافتها، وفوق ذلك تجدد لنا خطابنا الديني، حسب قولهم، فجعلت قيمها الرأسمالية الباطلة، أساسا لفهم ديننا الحنيف، ووصفت كل من يعارضها على لسان الأنظمة التابعة لها بـ(الإرهابي) و(المتطرف)، بينما إرهاب أمريكا لا يحتاج لمرصد يرصده فهو ظاهر بين لا تخطئه عين.

إن ما رصده المرصد، هو صرخة ضحية من ضحايا الإرهاب الدولي، فأمريكا والغرب الكافر منذ أن هدموا الخلافة، مزقوا بلاد المسلمين إربا، وفرضوا عليها دساتير الغرب وقوانينه العلمانية الرأسمالية، ويقفون بالمرصاد يراقبون كل حراك يريد التخلص من هيمنتهم، وقوانينهم الجائرة، ويعيد للمسلمين دولتهم، فبعد الربيع العربي، شعرت أمريكا أن وعيا دب في الأمة على مشروعها، وأن الأمة اهتدت لطريق خلاصها، فاستخدمت كل أدوات الإرهاب التي صنعتها للقضاء على حراك الأمة، استخدمت قواعدها فضربت سوريا وما زالت، واستخدمت صندوق النقد فأغرقت مصر في الديون، واستخدمت عملاءها فقتلت على يد السيسي رجلِها المخلص الآلافَ من المسلمين، وسجنت الكثير منهم وتلاحق من نجا من القتل والسجن كي تسومهم سوء العذاب.

فتلك الصرخة التي رصدها مرصد دار الإفتاء، هي صرخة مظلوم من أمة محمد صلى الله عليه وسلم لم تجد منهم إلا تحريضا للعالم كله على هذا المسكين كي يفتكوا به.

أعميت أعينكم عن جرائم أمريكا والغرب بحق أمتكم، وكلكم آذان صاغية لصرخات المستضعفين من أمة محمد، تحرضون عليهم العالم وتستعينون عليهم بالنصارى واليهود، تستجلبون بذلك رضاهم عنكم ألا تستحون من الله؟!

أيها القائمون على مرصد الفتاوي، إنكم لستم على شيء، حتى تصبح عقيدة الإسلام أساسا لتفكيركم، ووجهة نظر لكم، ومن خلالها وعلى أساسها تنظرون للأشياء، وتناقشون وتعالجون المشكلات، ولو حدث هذا حقا لما رأيناكم تعرفون الإرهاب بوجهة نظر السادة في البيت الأبيض، ولكنتم في صف الأمة لا في صف حكامها العملاء الخونة، أداة لتضليلها وتركيعها لعدوها وعدو دينها، وإنكم على ما رُزقتم به من علم لمسؤولون أمام الله عز وجل، ماذا فعلتم به وقد رأيتم حرمات الله تنتهك؟! وشرعه مضيع ودولته غائبة، فما نصرتم مظلوما ولا أغثتم ملهوفا ولا فككتم عانيا ممن يقتلهم النظام تحت سمعكم وبصركم بل وبشراكتكم، فجهزوا أنفسكم فقد امتلأت صحائفكم وعند الله تجتمع الخصوم، وإننا لا نشكو إلى الله ضعفا في الأمة ولا قلة حيلة وإنما نشكو هوانها عليكم حتى صرتم ترون دماء إخوانكم ماء تشاركون في قتلهم وتترحمون على قاتلهم، ألا فإن الله حسبنا ووكيلنا وسيعلم الظالمون أي منقلب ينقلبون.

﴿هَا أَنتُمْ هَٰؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَن يُجَادِلُ اللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلاً * وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُوراً رَّحِيماً

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مؤمن الحارس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست