المساعدات الأمريكية سم زعاف
المساعدات الأمريكية سم زعاف

الخبر:   وصلت إلى ميناء بورتسودان الخميس 2021/07/29، سفينتان تحملان 87 ألف طن متري من القمح من حكومة الولايات المتحدة الأمريكية إلى شعب السودان، وبدأتا تفريغ حمولتيهما فورا. ووفق وكالة السودان للأنباء (سونا)، فإن السفينة الأولى تحمل 48 ألف طن متري من القمح قادمة من حكومة الولايات المتحدة الأمريكية إلى حكومة وشعب السودان. وبدأت في تفريغ حمولتها من القمح في إطار المنحة الأمريكية لحكومة السودان (الدفعة الثانية)، وأبلغ مصدر أن سفينة أخرى محملة بـ 39 ألف طن متري من القمح قد بدأت أيضا في تفريغ حمولتها في ميناء بورتسودان وهي موجهة إلى برنامج الغذاء العالمي، وكان البرنامج قد استقبل في أواخر الشهر المنصرم في بورتسودان سفينة محملة بـ33,900 طن متري من الذرة الرفيعة الحمراء التي تبرعت بها الوكالة الأمريكية للتنمية الدولية لشعب السودان لتلبية الاحتياجات الغذائية الإنسانية. ...

0:00 0:00
Speed:
August 07, 2021

المساعدات الأمريكية سم زعاف

المساعدات الأمريكية سم زعاف

الخبر:

وصلت إلى ميناء بورتسودان الخميس 2021/07/29، سفينتان تحملان 87 ألف طن متري من القمح من حكومة الولايات المتحدة الأمريكية إلى شعب السودان، وبدأتا تفريغ حمولتيهما فورا. ووفق وكالة السودان للأنباء (سونا)، فإن السفينة الأولى تحمل 48 ألف طن متري من القمح قادمة من حكومة الولايات المتحدة الأمريكية إلى حكومة وشعب السودان. وبدأت في تفريغ حمولتها من القمح في إطار المنحة الأمريكية لحكومة السودان (الدفعة الثانية)، وأبلغ مصدر أن سفينة أخرى محملة بـ 39 ألف طن متري من القمح قد بدأت أيضا في تفريغ حمولتها في ميناء بورتسودان وهي موجهة إلى برنامج الغذاء العالمي، وكان البرنامج قد استقبل في أواخر الشهر المنصرم في بورتسودان سفينة محملة بـ33,900 طن متري من الذرة الرفيعة الحمراء التي تبرعت بها الوكالة الأمريكية للتنمية الدولية لشعب السودان لتلبية الاحتياجات الغذائية الإنسانية.

وقال البرنامج حينها إن تلك الحمولة هي جزء من أكثر من 284 مليون دولار من المساعدات الإنسانية التي قدمتها الوكالة الأمريكية للتنمية الدولية هذا العام، إلى جانب 20 مليون دولار من القمح الذي تم التبرع به لمعالجة النقص في السودان. (سودان تربيون) وفي 26 آذار/مارس من هذا العام أيضا دفعت واشنطن 1.15 مليار دولار عبارة عن مساعدات للسودان، وفي 24 تشرين الأول/أكتوبر من العام المنصرم أعلنت أمريكا تقديمها مساعدات بقيمة 81 مليون دولار استجابة للأزمة الإنسانية بالسودان.

التعليق:

إن المساعدات هي من الأساليب التي تتبعها أمريكا في استعمار الشعوب وبسط السيطرة والنفوذ، فهذه المساعدات المسمومة التي أطلقوا عليها "التعاون" هي من صلب سياسة أمريكا للنفاذ إلى أعماق المنطقة وصناعة العملاء، ونهب الثروة ومص الدماء... وقد استعملت أمريكا أسلوب المساعدات في استعمار إندونيسيا أيضا فلما رفض سوكارنو في الخمسينات المساعدات الأمريكية استمرت في مضايقته في التهديد والوعيد إلى أن قبل المساعدات ومن ثم دخل النفوذ الأمريكي إندونيسيا. إن ما تسميه أمريكا في قاموسها مساعدات إنسانية هي مشاريع استعمارية بواجهة اقتصادية حتى لأصدقائها! فإن مشروع مارشال بعد الحرب العالمية الثانية المعنون "إنقاذ أوروبا" كان مدخلاً للشركات الأمريكية لتكون شريكاً فاعلاً في مفاصل كثيرة للاقتصاد الأوروبي، وما إن مرت بضع عشرة سنة حتى صارت اقتصاديات أوروبا بشكل عام ملكاً للشركات الأمريكية.

والغريب أن حكام هذا البلد يعلمون علم اليقين أن أمريكا لا تعطي دون مقابل ورغم ذلك يقبلون مثل هذه السموم من المعونات! فقد أوردت رويترز في 2020/11/28 أن رئيس مجلس السيادة السوداني، عبد الفتاح البرهان، قال: إن الولايات المتحدة ليست جمعية خيرية تعطي بلا مقابل، وذلك في إطار حديثه عن رفع اسم بلاده من قائمة "الدول الراعية للإرهاب". وتابع: "أمريكا ليست جمعية خيرية تعطي بلا مقابل، فقط علينا أن نحسن التعريف ببلدنا وموارده وما يمكن أن تجنيه واشنطن، وما يمكن أن نستفيده نحن".

إن المساعدات شرٌّ كلها، فالواقع ينطق بأن الدول الكافرة المستعمرة، وبخاصة أمريكا، لا تقدم مساعدات إلا لبسط النفوذ والهيمنة، وخدمة مصالحها، والمساعدات الأمريكية ضرر وأي ضرر، والرسول ﷺ يقول: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» أخرجه الحاكم في المستدرك، وقال: "هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ" ووافقه الذهبي، فقبول هذه المساعدات جريمة كبرى في الإسلام لأنها تجعل سبيلاً للكفار المستعمرين على بلاد المسلمين نفوذا واقتصاداً وسياسة... والله سبحانه يقول: ﴿وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾.

أما ما يشيعونه عما يصيب البلاد من فقر وأزمات اقتصادية إن لم تكن هذه المساعدات، فهو قول مريض سقيم، فإن فقر بلاد المسلمين هو فقر مصطنع من قلةٍ تتربع على الحكم وعلى مصادر القرار، فتضيع ثروة الأمة وملكيتها العامة في مسالك فاسدة ضارة بالبلد وأهله، فبدل أن توزع الملكية العامة على الأمة وهو حقها، فإنها تستقر في جيوب الحكام وفي الحسابات البنكية الداخلية والخارجية، ثم تربط البلاد بالبنك الدولي وصندوق النقد الدولي وبسموم أمريكا المسماة مساعدات. هذا هو سبب الفقر في بلاد المسلمين، وإلا فهي زاخرة بما منحها الله من ثروة تفيض عن حاجتها إذا أُحسن وضعها في مواضعها خاصة السودان ذلك البلد الغني بموارده وخيراته، وكل ما تحتاجه هو حاكم رباني يحكم الناس بالإسلام تحت ظل دولته الخلافة، يستغل هذه الأراضي الزراعية البكر خير استغلال ويسخر الأيادي العاملة لفلاحة الأرض، لا حاكماً مأجوراً عميلاً ظلاً لهذه الدول الكبرى ينفذ مخططاتها الماكرة فيفتح البلاد على مصراعيها لألد أعداء الله والإنسانية!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الخالق عبدون علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست