المسلمون المهاجرون الذين غادروا أوزبيكستان غررت بهم كلمات الرئيس شوكت ميرزياييف الكاذبة!
المسلمون المهاجرون الذين غادروا أوزبيكستان غررت بهم كلمات الرئيس شوكت ميرزياييف الكاذبة!

في 2 تموز/يوليو، أذاع راديو الحرية "آي إيه" ما يلي: "في 28 أيار/مايو، تم توقيف الأخوين أبرول وشخرات دوسمو خاميدوف في المطار في طشقند، واللذين كانا على قائمة المطلوبين في الخمس سنوات الماضية وعادوا إلى بلادهم، مصدّقين كلمات المدعي العام بأنه لن يتم إرسالهم إلى السجن في حال عادوا طوعا للبلاد. وأعلمت زوجة شخرات دوسمو خاميدوف محسودة دوسمو هاميدوف "أوزودليك" بذلك. فبحسب ما قالته، فقد تمكنت في المطار من رؤية زوجها وسلفها والتحدث لهما لأقل من خمس دقائق.

0:00 0:00
Speed:
July 26, 2018

المسلمون المهاجرون الذين غادروا أوزبيكستان غررت بهم كلمات الرئيس شوكت ميرزياييف الكاذبة!

المسلمون المهاجرون الذين غادروا أوزبيكستان غررت بهم كلمات الرئيس شوكت ميرزياييف الكاذبة!

(مترجم)

الخبر:

في 2 تموز/يوليو، أذاع راديو الحرية "آي إيه" ما يلي: "في 28 أيار/مايو، تم توقيف الأخوين أبرول وشخرات دوسمو خاميدوف في المطار في طشقند، واللذين كانا على قائمة المطلوبين في الخمس سنوات الماضية وعادوا إلى بلادهم، مصدّقين كلمات المدعي العام بأنه لن يتم إرسالهم إلى السجن في حال عادوا طوعا للبلاد. وأعلمت زوجة شخرات دوسمو خاميدوف محسودة دوسمو هاميدوف "أوزودليك" بذلك. فبحسب ما قالته، فقد تمكنت في المطار من رؤية زوجها وسلفها والتحدث لهما لأقل من خمس دقائق.

- في 28 أيار/مايو، سافر زوجي وأخوه جوا من إسطنبول إلى طشقند مصدقين المرسوم الرئاسي. ولكن تم أخذهما من مبنى المطار دون إعطائنا حتى خمس دقائق للتحدث بشكل ملائم، فقد أخذوهما لرئيس مديرية الشؤون الداخلية. وبعدها بيوم تم نقلهما إلى مركز إم أي إيه للاحتجاز، وبعدها بيوم دعت محكمة دولة وحكمت بإرسال زوجي وأخيه إلى السجن في مقاطعة زانجياتينسكي في منطقة طاش، "حسب ما قالته محسودة دوسمو هاميدوف لمحطتنا الإذاعية".

التعليق:

بعد موت طاغية أوزبيكستان الرئيس كريموف، تولى رئيس الوزراء شوكت ميرزياييف رئاسة البلاد. وحيث إنه أصبح رئيسا، قام شوكت ميرزياييف بإدلاء العديد من التصريحات، من بينها تصريحات حول المسلمين. وقد تعلقت التصريحات حول قسمين، الأول المسلمين المدانين القابعين في سجون النظام الطاغي، والثاني المسلمين الذين غادروا بلادهم، هاربين من الظلم الذي يقع عليهم بسبب معتقداتهم الدينية.

واليوم يوجد آلاف المسلمين الذين غادروا أوزبيكستان بسبب المحاكمات القضائية التي تقع عليهم على أسس دينية. حيث ترك العديد منهم منازلهم لأكثر من عشر سنوات مضت، وبعضهم حتى قبل ذلك. والآن وبعد موت الطاغية كريموف، كان لديهم أمل بأنهم سيتمكنون من العودة إلى ديارهم دون الخوف من ملاحقة السلطات لهم حيث أعلن ميرزياييف عن بعض التغييرات، على السياسات المحلية والخارجية للبلاد.

وفي حزيران/يونيو 2017، وفي اجتماع مع الأئمة، قال ميرزياييف إن هناك ضرورة لمراجعة "القائمة السوداء"، "إعادة معاينة القضايا وإحقاق العدالة للبريئين" ووعد بإعادة تأهيل أعضاء العائلات المدانة على أسس دينية. لاحقا، دعا ميرزياييف كل الخارجين من البلاد مع الضمان لهم بأنهم لن يتعرضوا لأي ملاحقة، ومن أنهم سيتمكنون من العيش بسلام في أوزبيكستان، في الوقت الذي تم فيه إطلاق سراح بعض المعارضين من السجون.

هذه الإجراءات من جهة السلطات الحكومية غررت ببعض المسلمين للعودة إلى بلادهم أوزبيكستان. ومن مختلف دول العالم، مسلمو أوزبيكستان، البعيدون عن السياسة وما يحدث حول العالم، وبأمل الحصول على الرحمة من الطاغية، بدأوا بالعودة إلى بلادهم، ولكن ليس بسرعة. ففي الأشهر الماضية، وبعد العودة من خارج أوزبيكستان، العديد من المسلمين تم اعتقالهم، وآخرون منهم اختفوا.

إن الجهل السياسي والانفصال عن السياسة سببت البلاء ليس لمسلمي أوزبيكستان فقط، بل لمسلمي العالم. فكل سياسي وكل من يدرس السياسة يعلم أن الدولة وكل مؤسساتها لا تتكون فقط من رئيس الدولة وتصريحاته المفقودة. بل إن سياسة الدولة متصلة بفكرة، والتي يتم تطبيقها في الحياة.

فلو ألقينا نظرة على سياسة القوى الطاغية في أوزبيكستان، والتي لا تملك أية أيدولوجية، يمكننا وبسهولة أن نرى أنها مبنية على أفكار علمانية وتمارس الديكتاتورية الوحشية. والدستور كغيره من القوانين في أوزبيكستان تم اختراعه من قبل الشعب، والدين تم عزله عن الحياة. وشعب أوزبيكستان ورغم كونه مسلما يؤمن بالله سبحانه، لكنه لا يطبق الشريعة الإسلامية في الحياة. وبهذا فإننا نرى أن المسلمين يعانون من الملاحقات القضائية من العلمانيين الطغاة الذين يحكمون السيطرة بأيديهم ويكرهون الإسلام والمسلمين.

إن التغييرات الحقيقية في أوزبيكستان ستتحقق فقط عندما يفهم مسلمو أوزبيكستان الإسلام كمبدأ، وعندما يلقون بالدستور والقوانين التي اخترعها الشعب والتي تُطبق على المسلمين اليوم بعيدا في النفايات، وعندما يأخذ مسلمو أوزبيكستان الشريعة كتطبيق عملي في حياتهم اليومية، وعندما يصبح السلطان في الدولة بيد الناس والحكم فيها لله، حينها فقط يمكن لمسلمي أوزبيكستان الذين تركوا بلادهم العودة لها دون خوف من الملاحقات والقتل. وفقط حينها سيتمكن مسلمو أوزبيكستان من ممارسة شعائر الإسلام بسلام وازدهار دون خوف على حياتهم وحياة أحبائهم. فليكن الله في عوننا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست