المسلمون في آسيا الوسطى يريدون التغيير لكن ما الذي يجب تغييره؟!
المسلمون في آسيا الوسطى يريدون التغيير لكن ما الذي يجب تغييره؟!

الخبر:   في 4 تموز/يوليو، ذكرت وكالة أنباء فرغانة نقلاً عن مكتب المدعي العام وجهاز أمن الدولة: "في 1 و2 تموز/يوليو، اندلعت احتجاجات حاشدة ضد إدخال تعديلات على الدستور من شأنها حرمان الجمهورية من وضعها القانوني.. وفقاً للمحققين، في 1 تموز/يوليو الساعة 14:50، أرسل المدون ورئيس تحرير صحيفة "في خدمة الشعب" دولتمورات تازيموراتوف نداءً بالفيديو عبر قناة Makan.uz Telegram دعا فيه إلى مسيرة أمام مبنى البرلمان من أجل حرية جمهورية كاراكالباكستان. ...

0:00 0:00
Speed:
July 27, 2022

المسلمون في آسيا الوسطى يريدون التغيير لكن ما الذي يجب تغييره؟!

المسلمون في آسيا الوسطى يريدون التغيير

لكن ما الذي يجب تغييره؟!

(مترجم)

الخبر:

في 4 تموز/يوليو، ذكرت وكالة أنباء فرغانة نقلاً عن مكتب المدعي العام وجهاز أمن الدولة: "في 1 و2 تموز/يوليو، اندلعت احتجاجات حاشدة ضد إدخال تعديلات على الدستور من شأنها حرمان الجمهورية من وضعها القانوني.. وفقاً للمحققين، في 1 تموز/يوليو الساعة 14:50، أرسل المدون ورئيس تحرير صحيفة "في خدمة الشعب" دولتمورات تازيموراتوف نداءً بالفيديو عبر قناة Makan.uz Telegram دعا فيه إلى مسيرة أمام مبنى البرلمان من أجل حرية جمهورية كاراكالباكستان. وفي الساعة 15:30، تمّ نقل تازيموراتوف إلى قسم شرطة نوكوس لدعوته المواطنين إلى تنظيم مسيرة غير قانونية عبر الشبكات الاجتماعية. وبعد أن علمت باحتجاز المدون، توجّهت مجموعة من أنصاره إلى إدارة الشؤون الداخلية بالمدينة للمطالبة بالإفراج عن تازيموراتوف. وفي الطريق إلى سوق المزارعين المركزي قاموا بأعمال شغب. وتم إطلاق سراح تازيموراتوف، ولكن أعمال الشغب لم تتوقف، والآن وقعت بمشاركة المدون".

التعليق:

كان عام 2022 عاماً مضطرباً لمسلمي آسيا الوسطى. اندلعت الاضطرابات الشعبية في كازاخستان وطاجيكستان وكاراكالباكستان بأوزبيكستان. وفي كلّ مرّة يعارض الشعب استبداد السلطة ويرغب في تغيير وجودهم الكارثي، يتّهم الحكام جميعا "قوى خارجية" بتنظيم الاضطرابات في البلاد، ويعلنون حالة الطوارئ ويطلقون النار على شعوبهم. ففي أوائل شهر كانون الثاني/يناير، ذهب الناس في كازاخستان، غير الراضين عن سياسة السلطات، إلى مظاهرات حاشدة. وحث رئيس كازاخستان قاسم جومارت توكاييف الناس "على عدم الانصياع لنداءات الأشخاص المدمرين. كان علينا التعامل مع قطاع طرق مسلحين ومدربين، محليين وأجانب". وشدّد توكاييف على أنهم كانوا قطاع طرق وإرهابيين. وقد تعرضت ألماتي وحدها، وفقاً للرئيس، للهجوم من نحو 20 ألف متطرف. وأضاف توكاييف أن "ما يسمى بالإعلام الحر والشخصيات الأجنبية لعبت دوراً تحريضياً في البلاد". وقام الجيش والشرطة بقمع المظاهرات بوحشية.

وفي منتصف شهر أيار/مايو، لم يكن لدى مسلمي المنطقة الجبلية في طاجيكستان الوقت للاحتجاج على الحكم الاستبدادي للسلطات، حيث تمّ تطويقهم وبدأ إطلاق النار عليهم، بعد أن أبلغت السلطات بنجاح عن هزيمة العصابات الإرهابية. وجاء في بيان السلطات: "الجماعات الإجرامية المنظمة لإقليم غورنو - بدخشان المتمتع بالحكم الذاتي، بقيادة وتمويل المنظمات الدولية المتطرفة والإرهابية، من أجل انتهاك أمن الدولة، وتقويض أسس النظام الدستوري، وإعاقة أنشطة وكالات إنفاذ القانون، وتخويف السكان، هاجمت قافلة من المركبات الخاصة بفرق مكافحة الإرهاب الخاصة بجمهورية طاجيكستان". كما تمّ قمع المظاهرات بوحشية على يد الجيش والشرطة. وفي بداية شهر تموز/يوليو، نقلت وسائل الإعلام أنباء عن احتجاجات حاشدة في كاراكالباكستان في أوزبيكستان. القشة الأخيرة في كأس صبر الشعب على الحكم المستبد للسلطة، كانت التعديلات الجديدة للدستور، والتي تتعلق بوضع الجمهورية. السؤال يتعلق بالجزء الذي يقول إنه في الدستور الحالي للبلاد، يمكن للشعب أن يتمتع بالسيادة وينفصل عن أوزبيكستان بالتصويت، وفي التعديل الجديد يريدون إزالة هذا الاحتمال.

ما إن نزل الناس إلى الشوارع حتى سمحت السلطات للقوات لإطلاق النار وتفريق الناس الساخطين. وقال رئيس أوزبيكستان شوكت ميرزياييف: "بالطبع، لم يتم تنظيم هذه الأحداث في يوم أو 10 أيام، بل تمّ التحضير لهذه الأعمال لسنوات من طرف قوى خارجية خبيثة". وتم قمع هذه المظاهرات بوحشية من طرف الجيش والشرطة.

كما نرى، فإنه في جميع حالات استياء الناس من الحكم الاستبدادي للسلطات، يمكن تتبع هذا النمط؛ السلطات تلوم العدو الوهمي الخارجي، ولا تفهم ولا تقول إن الناس قد سئموا من الجرائم، والاضطهاد والإفلات من العقاب لمن هم في السلطة. يريد الشعب استقالة السلطة وأن تتغير الحياة للأفضل. يقدم الناس تضحيات، حتى على حساب حياتهم، لكن لا شيء يتغير بل تبقى القوة الإجرامية، والواقع الشرير لا يتغير، وتصبح الحياة أكثر صعوبة.

نعم الناس سئموا من جرائم الطغاة ويريدون التغيير، لكن لا يكفي أن نريد التغيير. أولاً، عليك أن تقرّر الأساس الذي سيتمّ على أساسه إجراء التغييرات! فإذا كانت التغييرات تستند إلى الدستور الوضعي، فكيف يكون هذا هو الحال اليوم؟! وبصفتك رئيس أوزبيكستان شوكت ميرزياييف تقول: "الشعب هو المصدر الوحيد للدستور ومؤلفه". وهذا يعني أن الإنسان مشرع، وهذا أساس ديمقراطي-علماني. على هذا الأساس، ووفقاً لمبدأ فصل الدين عن الحياة، يكون الإنسان مشرّعاً، وهكذا تعيش جميع دول العالم تقريباً. أصبح هذا الأساس هو المشكلة الرئيسية للبشرية، فانطلاقا من رغبات الإنسان، يلغي القوانين القديمة ويصدر قوانين جديدة. يوضح مثال الاستفتاء على تعديلات دستور أوزبيكستان أنه من المتوقع إجراء أكثر من 200 تغيير على 64 مادة من القانون الأساسي، بالإضافة إلى إدراج مواد جديدة. يحاول الإنسان، بعقله المحدود، إنشاء نظام حياة لنفسه، محكوماً نفسه بمعاناة واضطراب دائمين، وفي كل مرة يزداد الأمر سوءاً، وهذا ما يستخدمه الطّغاة وراعيهم في تغيير وتعديل القوانين لصالحهم.

يا شعوب آسيا الوسطى! نحن مسلمون ودولتنا يجب أن تقوم على الإسلام. قال الله تعالى في كتابه الكريم: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ﴾، ويقول سبحانه: ﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّهُ إِلَيْكَ﴾، والعديد من الآيات القرآنية الكريمة التي تشير إلى أنّ الله هو المشرع، وأنّ الدستور هو فقط القرآن والسنة النبوية. أيها المسلمون! لقد أنزل الله تعالى علينا رحمته؛ الإسلام! فالإسلام هو نظام حياة المجتمع والدولة. الإسلام هو الأساس الذي يجب أن نعود له من أجل التغيير، عندها فقط سنجد النجاح والازدهار. وقد أعدّ حزب التحرير، على أساس الكتاب والسنة، مشروع دستور لدولة الخلافة الإسلامية. فسارعوا للانضمام إلى حزب التحرير في العمل لاستئناف الحياة الإسلامية في دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوّة. وفقنا الله!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست