المسلمون ليسوا إرهابيين، بل هم صانعو التغيير في العالم
المسلمون ليسوا إرهابيين، بل هم صانعو التغيير في العالم

الخبر:   أكد الوزير الإندونيسي المنسق للشؤون السياسية والقانونية والأمنية محفوظ، أن الأعمال الإرهابية منبوذة بوضوح من جميع التعاليم الدينية، بما في ذلك الإسلام. وقال محفوظ "الإسلام ليس دين إرهاب. 87 في المائة من سكان إندونيسيا مسلمون، لكن إذا كان هناك إرهابيون مسلمون، فلا يوجد سوى عدد قليل من الناس. الإسلام دين سلام". على الرغم من وصفه بأنه دين إرهابي، إلاّ أنّ محفوظ قال إن الإسلام دين يحب السلام. جاء ذلك خلال اجتماعه مع القادة الدينيين والمجتمعيين في سورابايا، تحت عنوان "الاعتدال الديني من منظور الوزارة" في ماكودام وبرواجايا، في 17 آذار/مارس، كما ذكرت سي إن إن إندونيسيا وكومباران في إندونيسيا. وحسب قوله، طورت المنظمات الدينية بشكل عام فهماً معتدلاً منذ الماضي، حتى لا تتحول الاختلافات إلى انقسامات.

0:00 0:00
Speed:
March 21, 2021

المسلمون ليسوا إرهابيين، بل هم صانعو التغيير في العالم

المسلمون ليسوا إرهابيين، بل هم صانعو التغيير في العالم

(مترجم)

الخبر:

أكد الوزير الإندونيسي المنسق للشؤون السياسية والقانونية والأمنية محفوظ، أن الأعمال الإرهابية منبوذة بوضوح من جميع التعاليم الدينية، بما في ذلك الإسلام. وقال محفوظ "الإسلام ليس دين إرهاب. 87 في المائة من سكان إندونيسيا مسلمون، لكن إذا كان هناك إرهابيون مسلمون، فلا يوجد سوى عدد قليل من الناس. الإسلام دين سلام". على الرغم من وصفه بأنه دين إرهابي، إلاّ أنّ محفوظ قال إن الإسلام دين يحب السلام. جاء ذلك خلال اجتماعه مع القادة الدينيين والمجتمعيين في سورابايا، تحت عنوان "الاعتدال الديني من منظور الوزارة" في ماكودام وبرواجايا، في 17 آذار/مارس، كما ذكرت سي إن إن إندونيسيا وكومباران في إندونيسيا. وحسب قوله، طورت المنظمات الدينية بشكل عام فهماً معتدلاً منذ الماضي، حتى لا تتحول الاختلافات إلى انقسامات.

التعليق:

نعم، إنّ الإسلام بالتأكيد ليس دين إرهاب والمسلمون ليسوا إرهابيين. إن السرد الذي يصنف الإسلام بالإرهاب هو رواية تنبع من الغرب بتعريف غير واضح وإشكالي. ويتم تصدير هذه الرواية إلى أنحاء مختلفة من العالم لتسهيل أجندة الولايات المتحدة للحرب على الإسلام. لا يمكن فصل اختيار عقيدة الإرهاب عن بعض الأطراف التي تشعر بالتهديد من الإسلام، حيث يفهم العالم الغربي، بما في ذلك مثقفوه، حقاً أن وجود الإسلام يتحدى مبدأهم.

من ناحية أخرى، يجب أن يكون محفوظ أيضاً حريصاً في استخدام مصطلحات الدين السلمي والمعتدل، لأن السلام لا يعني القبول والخضوع للعلمانية والليبرالية التي تتعارض بشكل أساسي مع الإسلام، تماماً مثل وجهة نظر أجندة الوسطية الإسلامية، إلى هذا الحد. إنّ أجندة الاعتدال الموجودة اليوم لديها مصلحة خفية في تعيين أنّ الأديان يمكن أن تتعايش مع الرأسمالية العلمانية ليس في مصلحة التوفيق بين الأديان. لذا فهو غير مقبول، خاصة بالنسبة لأحكام الإسلام.

جاء رفض أجندة الاعتدال للأحكام الإسلامية في إندونيسيا من المفكرين الإندونيسيين المسلمين. ففي حزيران/يونيو 2020، في منتدى الدكاترة المسلمين لرعاية الأمة، قال البروفيسور حميد فهمي الزركشي إن أجندة الاعتدال في الإسلام جعلت الأمة تشك في أحكام الإسلام، ولم يكونوا فخورين بدينهم، وشكلوا التوفيق مع الأفكار الخارجية من الإسلام. وأكد أن هذه الأجندة هي شكل من أشكال الفكر الاستعماري لشل صحوة الأمة وإضعاف القيم الإسلامية. باختصار، حسب قوله، الاعتدال الإسلامي يعني إضعاف النظرة الإسلامية للعالم.

إنّ الإسلام رحمة للعالمين، تتطلب أحكامه العظيمة أن يصبح أتباعه عظماء أيضاً. إذا تمسكت الأمة بالإسلام فمن المستحيل أن يصبح أبناؤها مجرمين كما يصفهم الغرب. في الواقع، تُعِدّ الأحكام الإسلامية المسلمين ليصبحوا فاعلين عالميين قادرين على إحداث تغييرات على مسرح تاريخ العالم. لقد أعد القرآن المسلمين لأن المسلمين كانوا قليلين في العدد وفي وضع ضعيف للغاية. نزلت سورة الروم في مكة عندما كان المسلمون قليلي العدد وضعفاء ومضطهدين. تحتوي هذه الرسالة على أخبار عن المعركة بين بلاد فارس والروم. وعندما ذكرها القرآن، كانت شبه الجزيرة العربية كلها باستثناء مكة والمدينة، مدرجة في أراضي الفرس أو الروم. قال الله تعالى: ﴿الم * غُلِبَتِ الرُّومُ * فِي أَدْنَى الأرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ * فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الأمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾.

برأيكم، ما هي الحاجة الملحة المهمة لهذا المجتمع الصغير، الذي لا علاقة له ببلاد فارس وروما، لتلقي هذه الأخبار؟ علينا أن ندرك أنها كانت طريقة القرآن لغرس الوعي السياسي لدى المؤمنين في ذلك الوقت. الدرس هو أن المسلمين بحاجة إلى معرفة ديناميكيات التغيرات الجيوسياسية من حولهم قبل أن يواجهوها بأنفسهم بوقت طويل. لقد أعدنا القرآن لنصبح صانعي تغيير رئيسي للعالم.

خلال العقود القليلة التالية بعد نزول سورة الروم، كان من الواضح أن المسلمين قد ولدوا وأصبحوا قوة سياسية كبرى في العالم. وتجلى النظام الجيوسياسي الإسلامي في شكل مؤسسة الخلافة الإسلامية لعشرات القرون، وحتى أراضي الدولتين الرومانية والفارسية أصبحت في النهاية جزءاً من خريطة دولة الخلافة.

المسلمون الذين يسمَّون اليوم إرهابيين حفروا تاريخا ذهبيا من حيث الإخلاص بمساعدة اليهود الباحثين عن اللجوء، على عكس أوروبا والولايات المتحدة اليوم، الذين قاموا ببناء جدران للمهاجرين الضعفاء والمطرودين. ففي عام 1492، في ظل الخلافة الإسلامية، أرسل السلطان بايزيد الثاني أسطوله البحري بأكمله لإنقاذ 150 ألف يهودي أوروبي تعرضوا للاضطهاد على يد حكام إسبانيا النصارى خلال محاكم التفتيش الإسبانية، وُجلبوا إلى أراضي الخلافة، وعوملوا كرعايا في دولة الخلافة، وسمح لهم بالازدهار في ظل الحكم الإسلامي.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست