المسلمون يجمعون أكثر من 200.000 جنيه إسترليني تبرعات لضحايا هجوم إطلاق النار داخل كنيس بيتسبرغ
المسلمون يجمعون أكثر من 200.000 جنيه إسترليني تبرعات لضحايا هجوم إطلاق النار داخل كنيس بيتسبرغ

جمعت منظمتان إسلاميتان ما يقرب من 200 ألف دولار لمساعدة الضحايا وعائلاتهم عقب مجزرة إطلاق النار في كنيس "شجرة الحياة" في بيتسبرغ يوم السبت. كان جمع التبرعات عبر الإنترنت جزءاً من مصادر تدفق المساعدات على نطاق واسع رداً على الهجوم المعادي للسامية، والذي أسفر عن مقتل 11 شخصاً وإصابة ستة آخرين بجروح، بما في ذلك حملات التبرع بالدم والوقفات الاحتجاجية وحملة تمويل جماعي منفصلة جمعت مئات الآلاف من الدولارات.

0:00 0:00
Speed:
November 02, 2018

المسلمون يجمعون أكثر من 200.000 جنيه إسترليني تبرعات لضحايا هجوم إطلاق النار داخل كنيس بيتسبرغ

المسلمون يجمعون أكثر من 200.000 جنيه إسترليني

تبرعات لضحايا هجوم إطلاق النار داخل كنيس بيتسبرغ

(مترجم)

الخبر:

جمعت منظمتان إسلاميتان ما يقرب من 200 ألف دولار لمساعدة الضحايا وعائلاتهم عقب مجزرة إطلاق النار في كنيس "شجرة الحياة" في بيتسبرغ يوم السبت.

كان جمع التبرعات عبر الإنترنت جزءاً من مصادر تدفق المساعدات على نطاق واسع رداً على الهجوم المعادي للسامية، والذي أسفر عن مقتل 11 شخصاً وإصابة ستة آخرين بجروح، بما في ذلك حملات التبرع بالدم والوقفات الاحتجاجية وحملة تمويل جماعي منفصلة جمعت مئات الآلاف من الدولارات.

وقال طارق المسيدي، وهو ناشط في شيكاغو، إنه علم بإطلاق النار على الكنيس في مكالمة هاتفية صباح السبت من صديق يدير موقع "إيدج غوود" الإسلامي لجمع التبرعات. وقد سأل صديقه السيد المسيدي إذا كان بإمكانه فعل شيء لمساعدة الضحايا، ووافق على ذلك. (نيويورك تايمز)

التعليق:

الإسلام دين سامٍ وشمولي يحث على المحافظة على علاقات حسنة مع الجيران والمجتمع. إن الحد من الضوضاء والفوضى والاهتمام برفاهية مجتمعنا بغض النظر عن العرق أو الدين أمر إلزامي وجدير بالثناء.

ولكن عندما تحدث حوادث مؤسفة، مثل حوادث إطلاق النار الأخيرة في كنيس بيتسبرغ، أو كما رأينا في الماضي عندما تعرضت الكنائس للهجوم والحرق، أو عندما تم تخريب المقابر؛ فإن علينا أن نتساءل لماذا وكيف ينبغي أن يظهر دعمنا؟

كما نعلم فإن الصدقة والمجتمع من الجوانب المهمة للإسلام. ومع ذلك يجب أن نسأل قبل القيام بأي فعل، ما إذا كان مسموحاً لنا حتى بناء أو المساهمة في بناء أماكن العبادة للمجموعات الدينية الأخرى. وإذا ما كانت هناك بالفعل حاجة لتغطية ثمن جنازات الكفار؟ هل هي لفتة رجعية أم صدقة ضرورية في حال عُدِم أقارب أو أصدقاء أو أشخاص تابعون للمجتمع الديني للمتوفين، ولا توجد دولة يمكن أن تساعد في ذلك أيضا؟

يجب أن تكون الأسئلة الجماعية كلها منصبة حول هل هذا من واجبنا؟ وإذا كان الأمر كذلك، هل هو إلزامي؟ هل يحتاج إلى استفراغ وسع لتحقيقه؟ وهل ننخرط نحن في المقابل في مسؤولياتنا تجاه أمتنا العظيمة، وذلك من خلال مناقشة المشاكل والحلول الإسلامية التي تعد حيوية وضرورية لما سنُسأل عنه أمام الله سبحانه وتعالى، ولنجاحنا كأمة وسببا لراحة إخواننا وأخواتنا؟

هل نحن بصدق مستعدون لجمع أموالنا، وأصواتنا وأقلامنا، بالحماس ذاته لإغاثة إخواننا في الروهينجا، وكشمير، وجمهورية أفريقيا الوسطى، واليمن، وسوريا وفي أي مكان؟

إننا كمسلمين في الغرب، نواجه وسائل الإعلام والدعاية الحكومية اليومية التي تشوه صورة الإسلام والمسلمين، فمن الأهم الآن أن ننخرط فكرياً للمساهمة في إسقاط الروايات الخاطئة التي تثير الخوف من المسلمين وتظهر الإسلام بأنه أيديولوجية شريرة. وبصرف النظر عن السلوك الحكيم لشرح الإسلام لغير المسلمين إلا أن على المسلم أن يكون حازما في الالتزام بالهوية الإسلامية فذلك أمر بالغ الأهمية للحفاظ على واجبنا أمام الله سبحانه وتعالى. إن علينا أن نفكر فيما وراء الأفكار الضحلة وحلول الإصلاح السريع على المدى القصير، التي تثير إعجاب الجماهير بشكل مؤقت، إلا أنها لا تسفر عن نتيجة تعز دين الإسلام ككل.

وينبغي لنا أن نكون على درجة عالية من الدقة السياسية لنعلم أنه بعد سنوات من هذه الأعمال، ساء وضعنا في الداخل وعلى الصعيد العالمي ولم يتحسن.

إن علينا كمسلمين في الغرب، أن نكون من الشجاعة بمكان وأن ندافع عن الحقيقة مع شعور يقيني بأن الله سبحانه وتعالى هو حامينا وحافظنا. إن الآيات القرآنية التي ندرسها بدقة ونشارك بها في مجموعات واتساب يجب أن تحفزنا وتحولنا إلى أشخاص يفهمون بوضوح الدروس من ابتلاءات الأنبياء السابقين وطبيعة مجتمعاتهم؛ وذلك كقصة بني إسرائيل وعصيانهم المستمر، والحل الوسط والجبن، واستحضار قوة الله سبحانه وتعالى كما في سورة يس ﴿قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ * الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَاراً فَإِذَا أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ * أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ * إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ * فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾.

وما وعظنا الله تعالى به في سورة العنكبوت... ﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لاَ يُفْتَنُونَ * وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ * أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ * مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ * وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾.

وإلى أن تقوم الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، فإن وضع المسلمين في كل مكان سيستمر بالتراجع باستمرار. إننا نواجه تضارباً في الأفكار أظهرت القيم الإسلامية على نحو غير متسق، والإصلاح المطرد الذي نذعن له دون علم هدفه وضع حد لمحو الإسلام، حتى لا يصبح مجرد فكرة غامضة لا تطبيقات واضحة فيها.

نرجو من الله أن يعجل بعودة قائدنا الراشد ونظامنا الحق. آمين.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مليحة فهيم الدين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست