المتهم إرهابي حتى يتبين أنه غير مسلم!
المتهم إرهابي حتى يتبين أنه غير مسلم!

أفادت وسائل إعلام، منها جريدة الدستور وروسيا اليوم، أن الشرطة البلجيكية شنت حملة أمنية واسعة في محطة قطارات بمدينة أنتويرب شمال البلاد، وذلك على خلفية محاولة الهجوم (الإرهابي) الفاشلة في العاصمة بروكسل. وأفاد موقع VTM Nieuws البلجيكي بأن قوات الأمن فرضت طوقا حول منطقة "ستاتي"، بالإضافة إلى نشر القناصة وبإسناد من مروحية.

0:00 0:00
Speed:
June 22, 2017

المتهم إرهابي حتى يتبين أنه غير مسلم!

المتهم إرهابي حتى يتبين أنه غير مسلم!

الخبر:

أفادت وسائل إعلام، منها جريدة الدستور وروسيا اليوم، أن الشرطة البلجيكية شنت حملة أمنية واسعة في محطة قطارات بمدينة أنتويرب شمال البلاد، وذلك على خلفية محاولة الهجوم (الإرهابي) الفاشلة في العاصمة بروكسل. وأفاد موقع VTM Nieuws البلجيكي بأن قوات الأمن فرضت طوقا حول منطقة "ستاتي"، بالإضافة إلى نشر القناصة وبإسناد من مروحية.

التعليق:

يبدو أنَّ الجهود والأموال التي تنفق على مؤتمرات حوار الأديان، وسياسات الدمج التي تتبعها الدول الغربية مع المسلمين هناك، لا تؤتي أكلها. وقد يبدو للناظر للأمور للوهلة الأولى، أنَّ هناك خللاً في تركيبة المسلمين الفكرية التي تجعل القتل والدمار يلاحقهم أينما حلُّوا أو ارتحلوا! فها هي بلادهم تحترق بويلات الحروب، ولم تسلم منها بلدٌ إلا ما ندر. وها هم في بلاد الغرب يرفضون التعايش مع مجتمعاتهم، بل ويهاجرون إلى هناك فإذا بالهجمات على المدنيين الغربيين تطل من كل حدب وصوب!

لكنَّ نظرة أعمق تري أنَّ المسلمين هم الخاسر الأكبر وهم الضحية في هذه الحروب كلِّها. وإن كانت قُلعت للغرب عينٌ فقد فَقَدَ المسلمون عيونهم وأموالهم وبنيهم وأعراضهم وديارهم في هذه الحروب التي لا ناقة لهم فيها ولا جمل. ولو نظرنا لبلاد المسلمين لوجدنا أن ثرواتهم منهوبة وبلادهم مستباحة ودماءهم مسفوحة، والفاعل في كل ذلك واحد وإن تعددت الوجوه. فالغرب هو الذي أباد مسلمي البوسنة والهرسك كما أباد الهنود الحمر من قبل، وهو الذي دمَّر العراق وقتَّل أهلها كما دمر الأندلس من قبل وأباد مسلميها. وهو الذي ارتقى بفعل رصاصه مليون شهيد من الجزائر وحدها... فكيف نعجب من ردَّات الفعل الفردية التي تحدث في عقر داره كنتيجة طبيعية لما يفعله في بلاد المسلمين؟ هذا إن سلَّمنا بأن منفذي هذه الهجمات في بروكسل وغيرها هم مسلمون تدفعهم عقيدتهم، وليست عبارة عن مخططات حيكت في دهاليز أروقة المخابرات الغربية، لتشويه الإسلام أو اتخاذها مطية لتنفيذ تدابير أمنية أو مصالح سياسية معينة.

لكنَّ الحاصل أنه - وقد غابت دولة المسلمين، فغاب أمنهم ودرعهم الحامي - صار المسلمون فزاعةً، وصارت مثل هذه الهجمات التي تنفذ في بلاد الغرب، على يد حركات شوهت الإسلام كتنظيم الدولة في العراق والشام وغيره، صارت فزاعة يخوِّف بها الغرب شعوبه، وأوجدت ردَّة فعل عنيفة تجاه المسلمين هناك، هذه الأعمال "المتشددة" كما يسميها الإعلام الغربي توجد ردة فعلٍ عنيفة في أروقة الحكومات ضد المسلمين.

والغرب في سبيل الحرب على المسلمين هناك والتضييق عليهم، لا يترك سبيلاً ولو كان ذلك بالدوس على قيمه ومفاهيمه والتخلي عن القوانين التي طالما تغنى بها وتفضّل بها على المسلمين لأنه من أوجدها. فتيريزا ماي رئيسة وزراء بريطانيا صرحت في حزيران/يونيو الجاري أنها على استعداد لتقليص حقوق الإنسان لمحاربة (التطرف). ولا يخفى على عاقل أنَّ (التطرف) عند الغرب يعني الإسلام، والحرب عليه هي ستار للحرب الفعلية على الإسلام والمسلمين، وما اجتماع ترامب بحكام المسلمين الرويبضات في الحجاز واتفاقهم على محاربة (الإرهاب) إلا تأكيد واضح على هذا.

اللافت في الأمر أن ردة الفعل الغربية تجاه هجمة بروكسل أو لندن أو باريس والتي يكون منفذها مسلما، تتسم بالعنف والتهويل مقارنة بردة الفعل على هجمات مشابهة يقوم بها مدنيون غربيون ضد المسلمين هناك كما حصل قبيل أيام في 3 حزيران/يونيو الجاري حيث شهدت لندن هجوما مزدوجا ضد المسلمين في مسجد "فينسبري بارك"، حيث وُصف المجرم حينها بأنه مختل عقلياً ويعاني من مشاكل واضطرابات وتصرفاته غير سويَّة!! وبمقارنة هذه التصريحات بالحملة الأمنية الواسعة التي تقوم بها بلجيكا لأن مغربياً حاول تفجير قنبلة لم تُصٍبْ أحداً وتم قتله قبل تفجيرها، سنعلم مدى الكذب الذي تتسم به حكومات الغرب.

7 قتلى في لندن لم يسترعوا انتباه العالم ولا بكى عليهم باكٍ، أما هجوم "فاشل" كما وصفته حكومة بروكسل فاستدعى حملة أمنية واسعة!! وهذا على سبيل المثال لا الحصر.

وفي الختام: إنَّ الأمر المؤكد أنَّ المسلمين لا بواكيَ لهم، وهم كالأيتام على مائدة اللئام، متهمون سلفاً بـ(التطرف والإرهاب والإجرام)، وتذهب دماؤهم رخيصة في سبيل حماية مصالح أعدائهم، كل هذا بسبب غياب الإمام الجُنَّة الذي يرعاهم. ولا نحتاج هنا لذكر الأمثلة العطرة من التاريخ على قدسية دماء المسلمين عند خليفتهم، فالأمة باتت تدرك ذلك جيداً وتنتظر اليوم الذي يكرمها الله فيه بالانعتاق من حكامها الرويبضات الذين جعلوا للعدو عليها ألف سبيل لا واحداً. لتستعيد سلطانها، وتثأر لشهدائها، وتنشر رسالة ربها هدىً ونوراً تضيء به المعمورة وتزيل كل حائلٍ بين الإسلام والبشرية فتنعم شعوب الأرض بالأمن والأمان ويحل السلام حقاً لا شعاراتٍ كاذبة ووعوداً زائفة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أختكم: بيان جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست