المُعضلة السورية: بين التنافر المعرفي والأمل الحقيقي
المُعضلة السورية: بين التنافر المعرفي والأمل الحقيقي

      بعد 14 عاماً من الحرب والقمع، تبدو سوريا مستعدة للتغيير مع سقوط بشار الأسد واستيلاء قوات المعارضة بقيادة الجولاني على دمشق. ومع ذلك، فإن الآمال في مستقبل مشرق تتضاءل بسبب النفوذ القوي للقوى الخارجية كأمريكا وتركيا، التي توجّه مسار سوريا في ظلّ أطر علمانية مدعومة غربيا مثل قرار الأمم المتحدة 2254. وهذا يثير تساؤلات حاسمة حول ما إذا كان الأمل الحقيقي يمكن أن يوجد دون رفض الهيمنة الأجنبية وإعطاء الأولوية للمبادئ الإسلامية.

0:00 0:00
Speed:
December 26, 2024

المُعضلة السورية: بين التنافر المعرفي والأمل الحقيقي

المُعضلة السورية: بين التنافر المعرفي والأمل الحقيقي

(مترجم)

الخبر:

بعد 14 عاماً من الحرب والقمع، تبدو سوريا مستعدة للتغيير مع سقوط بشار الأسد واستيلاء قوات المعارضة بقيادة الجولاني على دمشق. ومع ذلك، فإن الآمال في مستقبل مشرق تتضاءل بسبب النفوذ القوي للقوى الخارجية كأمريكا وتركيا، التي توجّه مسار سوريا في ظلّ أطر علمانية مدعومة غربيا مثل قرار الأمم المتحدة 2254. وهذا يثير تساؤلات حاسمة حول ما إذا كان الأمل الحقيقي يمكن أن يوجد دون رفض الهيمنة الأجنبية وإعطاء الأولوية للمبادئ الإسلامية.

التعليق:

إنّ هذه التطورات تجبرنا على التفكير في طبيعة الأمل الحقيقي ودور التنافر المعرفي في المأزق الحالي الذي تعيشه سوريا.

التنافر المعرفي يشير إلى التوتر الداخلي الذي ينشأ عند مواجهة معتقدات أو أفعال متضاربة. وفي حالة سوريا، يتجلى هذا بوضوح في أولئك الذين يأملون في مستقبل أفضل مع الإسلام بينما يعترفون في الوقت نفسه باستمرار الدولة العلمانية والديمقراطية، وأن القوى الغربية مثل أمريكا وقرار الأمم المتحدة رقم 2254 تظلّ مسيطرة. ويؤكد هذا القرار على أن سوريا يجب أن تظلّ دولة علمانية، وهو ما يضمن في الأساس أن الجهات الفاعلة الاستعمارية التي سيطرت على البلاد لسنوات تحتفظ بنفوذها. وتؤكدُ ذلك كلمات وزير الخارجية الأمريكي أنتوني بلينكن خلال اجتماع عقد مؤخراً في الأردن. فقد أكد بلينكن على أهمية ما يسمى بالمستقبل الشامل والديمقراطي لسوريا، مشدداً على هيمنة أمريكا وحلفائها. وعلاوةً على ذلك، يبدو أن نظام بشار المجرم قد غادر من الباب الأمامي، ليعود من الخلف في شكل آخر.

إنّ هذا التنافر المعرفي يقود الكثيرين إلى تبني مشروع الجولاني دون تقديم انتقادات صادقة. فهم يربطون هذا الدعم، من بين أمور أخرى، بالأمل، على الرغم من التسوية الواضحة بين اختيار نموذج علماني على الحكم الإسلامي والاعتماد على القوى الخارجية. وهذا يديم الوهم بأن مستقبلاً أفضل يمكن تحقيقه دون وضع المبادئ الإسلامية في المركز أولاً.

في الإسلام، الأمل ضروري، ومرتبط ارتباطاً عميقاً بالعقيدة الإسلامية، ولكنه مقيد أيضاً بشروط. يتطلب الأمل الحقيقي العمل والثقة في الله سبحانه وتعالى مع الوفاء بكل الجهود لدعم المبادئ الإسلامية. إن تغذية الأمل دون تلبية هذه الشروط - مثل قبول دولة علمانية وديمقراطية تحت الهيمنة الغربية - هو وهم. إنه لا يؤدي إلى النصر بل إلى الاستمرار في الخضوع للهياكل الاستعمارية نفسها.

إنّ الوضع الحالي في سوريا يثبت أن الأمل الحقيقي ليس مجرد رغبة في التغيير بل أيضاً الاستعداد لمواءمة هذا التغيير مع القيم الإسلامية. وهذا يعني أن المسلمين في سوريا يجب ألا ينحنوا للقوى الغربية بل يجب أن يسعوا بدلاً من ذلك إلى مجتمع يحكمه الإسلام.

لقد قدم الشعب السوري بالفعل تضحيات هائلة. لقد حان الوقت الآن لاتخاذ الخطوة التالية. وهذا يتطلب جهداً جماعياً لرفض هيمنة القوى الخارجية والمطالبة بما لا يقلّ عن الحلّ الإسلامي.

في عالم حيث تواصل الولايات المتحدة والقوى العالمية الأخرى إملاء مستقبل دول مثل سوريا، من الضروري أن ندرك أن الأمل الحقيقي لا يكمن في قبول شروطهم، وإنما في الثقة بالله سبحانه وتعالى والعمل وفقاً لتوجيهاته. حينها فقط يمكن لسوريا أن تحقق النصر الحقيقي ومستقبلاً يكرّم تضحيات شعبها.

إنّ الأحداث في سوريا بمثابة مثال مؤلم ولكنه مفيد لكيفية تضليل التنافر المعرفي وأوهام الأمل للأمة. من الأهمية بمكان استيعاب هذه الدروس وفهم أن الأمل الحقيقي ليس مجرد رغبة مجردة بل جهد ملموس يتماشى مع المبادئ الإسلامية. إن الميل الحالي إلى تبني مشروع الجولاني دون تمحيص يسلط الضوء على مخاطر الأمل الذي لا يتجذّر في الظروف الإسلامية. والآن أصبح لدى الشعب السوري الفرصة لتحويل هذا الأمل إلى حقيقة من خلال اختيار مسار لا ينحني للقوى الخارجية ولكنه ملتزم تماماً بالإسلام.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أوكاي بالا

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في هولندا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست