المؤتمر العالمي الختامي لحملة "في الذكرى المئوية لهدم الخلافة.. أقيموها أيها المسلمون"
المؤتمر العالمي الختامي لحملة "في الذكرى المئوية لهدم الخلافة.. أقيموها أيها المسلمون"

الخبر: ترقبوا #البث_الحي والمباشر للمؤتمر العالمي الختامي لحملة "في الذكرى المئوية لهدم #الخلافة.. #أقيموها_أيها_المسلمون" عبر تلفزيون #الواقية وذلك يوم السبت 29 رجب المحرم 1442 الموافق 13 آذار/مارس 2021م، الساعة 20 بتوقيت المدينة المنورة.

0:00 0:00
Speed:
March 12, 2021

المؤتمر العالمي الختامي لحملة "في الذكرى المئوية لهدم الخلافة.. أقيموها أيها المسلمون"

المؤتمر العالمي الختامي لحملة
"في الذكرى المئوية لهدم الخلافة.. أقيموها أيها المسلمون"


الخبر:


ترقبوا #البث_الحي والمباشر للمؤتمر العالمي الختامي لحملة "في الذكرى المئوية لهدم #الخلافة.. #أقيموها_أيها_المسلمون" عبر تلفزيون #الواقية وذلك يوم السبت 29 رجب المحرم 1442 الموافق 13 آذار/مارس 2021م، الساعة 20 بتوقيت المدينة المنورة.

التعليق:


على مدى شهر رجب المحرم كاملا، قام حزب التحرير بحملة عالمية لتذكير المسلمين بالسبب الرئيسي لكل الهزائم والنكبات التي لاحقتهم ولا زالت تلاحقهم منذ مائة سنة، وهي هدم الخلافة. هدم نظام الحكم في الإسلام والذي نتج عنه هدم أحكام الإسلام شيئا فشيئا حتى وصلنا إلى آخر شيء في الإسلام وهو الصلاة، التي تم هدم إقامتها في المساجد منذ سنة 2020 وحتى الآن، مصداقا لقول رسولنا الكريم ﷺ: «لَيُنْقَضَنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا، وَأَوَّلُهُنَّ نَقْضًا الْحُكْمُ وَآخِرُهُنَّ الصَّلَاةُ». رواه أحمد وغيره وصححه الحاكم والألباني.


وقد تم نقض الحكم قبل مائة عام عندما هدمت الخلافة باعتبارها نظام الحكم في الإسلام، فلما تم نقض نظام الحكم، سهل نقض أحكام الإسلام في الاقتصاد والتعليم والسياسة الخارجية التي كان أبرز أعمالها الجهاد، وكذلك تم نقض القضاء بأحكام الشريعة كالحدود والقصاص والتعزيز، وكذلك تم نقض النظام الاجتماعي بإباحة الاختلاط والسفور والشذوذ، وتوجوا ذلك باتفاقية سيداو، ومنذ عام أعلنوا الحرب على الشعائر التعبدية بمنع الحج والعمرة وإغلاق المساجد ومنع الصلاة فيها ومنع إقامة صلاة الجمعة، وصلاة التروايح بحجة الحفاظ على صحة الناس.


والحديث الشريف يصف حال المسلمين اليائس الذي يرضى بالواقع الأليم ويحاول التكيف معه بالاستسلام للجرائم التي سبقت والتشبت بما تبقى لهم من الإسلام، دون أن يسعوا بكل قوتهم لإزالة السبب الأول الذي سبب لهم الكوارث في الدين.


ولذلك استمر السقوط متواليا حتى وصلنا إلى الدرك الأسفل وهو القضاء على آخر ما يربط المسلم بدينه وهو الصلاة.


بدلا من البكاء والعويل فقط على المساجد التي أغلقت العام الماضي والصلوات التي عطلت والتي سيتم تكرارها هذا العام، انظروا أيها المسلمون رعاكم الله إلى السبب الأصلي وراء ذلك وعالجوه، إن كنتم حريصين على دينكم الذي به معاشكم واستقامة حياتكم.


السبب الأول لكل هذه المآسي هو هدم الخلافة، ولن نتخلص من مآسينا وكوارثنا إلا ببناء الخلافة مرة أخرى، فإعادة الخلافة إلى الوجود ومبايعة خليفة على العمل بكتاب الله وسنة رسوله هي القضية المصيرية التي يجب أن تبذلوا الغالي والنفيس في سبيل إقامتها.


وها هو حزب التحرير يقدم لكم مشروعا سياسيا متكاملا يصلح لإدارة أعظم دولة في التاريخ الماضي وستكون أعظم دولة في المستقبل... دستورا مستمدا من الكتاب والسنة فصّل فيه الأنظمة التي تحتاجها أية دولة:


أحكام عامة تبين شكل الدولة ونظامها وعلاقتها برعاياها
أحكام نظام الحكم
أحكام النظام الاقتصادي
أحكام النظام الاجتماعي
أحكام سياسة التعليم
أحكام السياسة الخارجية


وهي أحكام تمت دراستها بعناية وكتبت بطريقة عصرية يفهمها المسلمون اليوم، فمن أراد الحق فهذا هو الحق الذي ندعوكم إليه، ومن رفض هذا المشروع فليأتنا بمشروع آخر مستمد من كتاب الله وسنة رسوله، ولنتحاور بيننا. أما أن نترك أنفسنا نهبا للفرقة والاختلاف والتعصب الأعمى فهذا لا يزيدنا إلا ضعفا على ضعف، ويبقى وضعنا في الأسوأ.


فإلى العمل لإقامة الخلافة، وهو بالمناسبة نظام حكم متميز لا يدانيه أي نظام في الوجود لا أنظمة جمهورية ولا ملكية ولا رئاسية ولا أميرية ولا إمبرطورية ولا غيرها... فالخلافة هي نظام الحكم في الإسلام.


هذه الخلافة التي دعا إليها حزب التحرير منذ خمسينات القرن الماضي ولا يزال يدعو ولن يتخلف عن دعوته أبدا، وانتشر حزب التحرير في أكثر من أربعين دولة، وقد بايعه الكثيرون من أمة الإسلام ولكنه يحتاج إلى دعم المزيد، والكرة الآن في ملعبكم أيها المسلمون على مختلف توجهاتكم، وأكثر الناس قدرة على تلبية هذه الدعوة هي الأجهزة الأمنية والعسكرية، لأنهم هم القادرون على إحقاق الحق وإبطال الباطل لو أرادوا الله والدار الآخرة، لذا ندعوكم وندعو الحركات والأحزاب والسياسيين للوقوف إلى جانبنا، كما ندعو الأمة بكل أطيافها إلى أن تؤمن بفكرة الخلافة وتطالب بإقامتها بعلو الصوت، حتى تصبح رأيا عاما يكنس الأنظمة العلمانية التي ظهر فسادها في البر والبحر، وأن تعود الأمة الإسلامية خير أمة أخرجت للناس.


#أقيموا_الخلافة
#ReturnTheKhilafah
#YenidenHilafet
#خلافت_کو_قائم_کرو

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست