المؤتمرات والمؤامرات تشتد وتضيق على ثورة الشام
المؤتمرات والمؤامرات تشتد وتضيق على ثورة الشام

أورد موقع العربي الجديد بتاريخ 29/10/2015م خبرا تحت عنوان: "كيري: محادثات فيّنا أفضل فرصة لإنقاذ سوريا من الجحيم"

0:00 0:00
Speed:
October 30, 2015

المؤتمرات والمؤامرات تشتد وتضيق على ثورة الشام

الخبر:

أورد موقع العربي الجديد بتاريخ 2015/10/29م خبرا تحت عنوان: "كيري: محادثات فيّنا أفضل فرصة لإنقاذ سوريا من الجحيم" جاء فيه:

اعتبر وزير الخارجية الأمريكي، جون كيري، أن "المحادثات الدولية حول الأزمة السورية التي بدأت في فينّا لن تؤدي إلى حل سياسي فوري، لكنها قد تكون أفضل فرصة لإنقاذ سوريا من الجحيم".


وقال كيري، في كلمة حول السياسة في الشرق الأوسط في معهد كارنيغي للسلام الدولي، قبل مغادرته إلى فينّا: "بما أن محاولة إيجاد سبيل للتقدم حول سوريا لن تكون سهلة، ولن تكون تلقائية، فنرى أن هذه أكثر فرصة واعدة للانفتاح السياسي".

وأضاف أن "التحدي الذي نواجهه في سوريا اليوم هو تحديد طريق للخروج من الجحيم".

ولفت كيري أن "إيران، حليفة الرئيس السوري بشار الأسد، ستشارك في هذه المحادثات للمرة الأولى إلى جانب روسيا الداعم العسكري الرئيس لدمشق".

واعتبر أن لدى بلاده وروسيا "أرضية مشتركة واسعة حول هذا الأمر، إذ إن كلا الجانبين يريدان سوريا متحدة وعلمانية، حيث يمكن للمواطنين اختيار رئيسهم من خلال الانتخابات".

وأوضح أن الطرفين (الروسي والأمريكي) "متفقان على أنه يمكن تحقيق هذه الخطوات ويمكن إنقاذ سوريا من خلال تسوية سياسية فقط"، رافضاً "السماح لرجل واحد (الأسد) بالوقوف في طريق السلام".

كذلك، ربط كيري بين هزيمة تنظيم الدولة، وإنهاء الحرب في سوريا، مؤكداً أن "هذا هو هدف الولايات المتحدة".

التعليق:

ازدادت هذه الأيام وتيرة اللقاءات والدعوات لاجتماعات تتعلق بسوريا والكل يدعي حرصا عليها وعلى أهلها، فهذه روسيا تدعو لاجتماع وتدعو أطرافا بعينها، وتلك فرنسا من جهة أخرى تدعو لاجتماع وتدعو أطرافاً أخرى غير تلك، وأمريكا وروسيا تنسقان ومن أرضية مشتركة كما يصرح كيري وزير خارجية أمريكا والذي لم تنقطع اتصالاته ولقاءاته بنظيره لافرورف منذ أن تبنت روسيا الوقوف العلني والدعم المباشر لنظام الإجرام الأسدي في سوريا.

وفي هذا الخبر مجموعة أمور لافتة للنظر منها:

-      يصف كيري المحادثات الدولية أنها لن تؤدي لحل فوري.

-      ويصف الوضع في سوريا بالجحيم – وهو جحيم لهم على الحقيقة إن شاء الله

-      إيران ستشارك وللمرة الأولى بشكل علني حيث إنها لم تشارك سابقا لا في جنيف1 ولا جنيف2.

-      أمريكا وروسيا متفقتان على شكل الحل النهائي الذي يريدانه لسوريا؛ فهما يريدان دولة علمانية بمعنى لا دور للدين فيها (وهذا حقيقة ما يقض مضاجعهم؛ أن ينتصر المسلمون فيغيروا ليس فقط شكل وماهية النظام في سوريا بل أن تكون الشام نقطة ارتكاز لنظام عالمي، يظل الأرض بعدله ورحمته).

-      الرئيس الأسد ليس ذا أهمية في الحل.

-      هزيمة تنظيم الدولة لا تكون إلا بعد أن تحل الأمور في سوريا.

وفي هذا الاجتماع الدولي تشارك أوروبا أيضا ممثلة بفرنسا وبريطانيا ومسؤولة السياسة الخارجية بالاتحاد الأوروبي، بالإضافة للطراطير من الدول العربية (مصر والسعودية ولبنان والأردن).

طوال حوالي المائة عام الماضية بعد ضعف دولة الخلافة وزوالها لاحقا لم يتغير شيء يذكر في سياستنا وعند قادتنا نحن المسلمين، فما زالت فينّا وجنيف وباريس ولندن ولحقت بها نيويورك وواشنطن عواصم القرار لحكامنا وأنظمتنا، فلا يمكن أن يتخذ قرار واحد أو حل واحد لأي قضية تخصنا دون المرور على واحدة أو أكثر من هذه العواصم.

فسوريا وليبيا والعراق واليمن وفلسطين والسودان وكل الدول العربية، مشاكلها وقضاياها المصيرية تقرر في عواصم الدول الغربية الكافرة حصراً، ثم تنفذ قراراتهم وكأنها مقدسة دون نقاش حتى لو كان فيها السم الزعاف للمسلمين ولبلادهم وثرواتهم.

فمتى يمكن أن نستقل بإرادتنا السياسية وأن نتخذ قراراتنا فيما يخصنا دون أن نرجع للغرب ومستشاريه؟

هذا السؤال قطعا لن نستطيع جوابه أبدا ما دامت هذه الأنظمة ونواطيرها تجثم فوق صدورنا بغير إرادة منا، لا تملك أن تتخذ قرارا لا داخليا ولا خارجيا دون إذن فهي تنفذ علينا وفينا ما يخدم مصلحة الأسياد، ولا حل لنا ولكل قضايانا إلا إذا أعادت الأمة سلطانها لنفسها بأن تمتلك زمام أمرها وأن تختار من يحكمها بنظام صحيح منبثق من وحي ربها كما حكمت طوال ثلاثة عشر قرنا بنظام الخلافة، رضي من رضي وغضب من غضب، فمرضاة ربنا وتحكيم شرعه أغلى عندنا وأعز من مهجنا وأرواحنا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حاتم أبوعجمية - أبو خليل / ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست