الموت والدمار والفقر إرث الإيمان بالوعود الغربية
الموت والدمار والفقر إرث الإيمان بالوعود الغربية

الخبر:   قالت مفوضة الاتحاد الأوروبي للشؤون الداخلية في السادس عشر من حزيران/يونيو: "ليست لدينا جميع المعلومات حتى الآن عما حدث، ولكن يبدو أن هذه هي أسوأ مأساة رأيناها في البحر الأبيض المتوسط"، بعد انقلاب قارب يحمل مهاجرين من ليبيا إلى إيطاليا قبالة سواحل اليونان. حيث تم العثور على 78 جثة وفقد المئات معظمهم من النساء والأطفال ويفترض أنهم ماتوا. وقال رئيس الاتحاد الدولي لجمعيات الصليب الأحمر والهلال الأحمر، فرانشيسكو روكا "إنه لأمر مروع وغير مقبول أن الناس ما زالوا يموتون أمام حدود الاتحاد الأوروبي، بحثاً عن مكان آمن".

0:00 0:00
Speed:
June 19, 2023

الموت والدمار والفقر إرث الإيمان بالوعود الغربية

الموت والدمار والفقر إرث الإيمان بالوعود الغربية

(مترجم)

الخبر:

قالت مفوضة الاتحاد الأوروبي للشؤون الداخلية في السادس عشر من حزيران/يونيو: "ليست لدينا جميع المعلومات حتى الآن عما حدث، ولكن يبدو أن هذه هي أسوأ مأساة رأيناها في البحر الأبيض المتوسط"، بعد انقلاب قارب يحمل مهاجرين من ليبيا إلى إيطاليا قبالة سواحل اليونان. حيث تم العثور على 78 جثة وفقد المئات معظمهم من النساء والأطفال ويفترض أنهم ماتوا. وقال رئيس الاتحاد الدولي لجمعيات الصليب الأحمر والهلال الأحمر، فرانشيسكو روكا "إنه لأمر مروع وغير مقبول أن الناس ما زالوا يموتون أمام حدود الاتحاد الأوروبي، بحثاً عن مكان آمن".

التعليق:

يمكن وصف هذا بأنه أسوأ مأساة، ولكن هل المأساة هي الكلمة الصحيحة التي يجب استخدامها عندما تكون الظروف التي أدت إليها هي سياسة حكومية لسنوات؟ ومع ذلك، ألقت مفوضة الاتحاد الأوروبي للشؤون الداخلية اللوم على المهربين الذين يضعون الناس على متن القوارب بالقول: "إنهم لا يرسلونهم إلى أوروبا، بل يرسلونهم إلى الموت. هذا ما يفعلونه ومن الضروري جدا منعه"، وقالت: "عندما يتعلق الأمر بمحاربة المهربين، لا يمكننا الاعتماد على طريقة واحدة فقط للقيام بذلك. علينا استخدام المعلومات الاستخباراتية، علينا استخدام تحقيقات الشرطة المشتركة مع البلدان الأصلية ودول العبور ودول المغادرة".

هناك روايات متضاربة من الناجين والسلطات اليونانية حول ما إذا كان القارب قد غرق نتيجة لمحاولات فاشلة من خفر السواحل اليوناني أو سفينة أخرى لسحب القارب المتعثر. وبحسب ما ورد قال أحد الناجين دون الكشف عن هويته: "ابتعد قارب حرس السواحل لمسافة 3 كيلومترات بعد وقوع الغرق والذين نجوا هم من تمكنوا من السباحة لتلك المسافة"، ما يعني أن زورق حرس السواحل ترك أغلبية المهاجرين عمداً من القارب المنكوب غرقا. الناجون الوحيدون كانوا من الرجال. يتعلق بهذا السؤال لماذا لم يتخذ خفر السواحل أي إجراء عندما كانوا على اتصال بالقارب لمدة 12 ساعة قبل غرقه؟

قال خفر السواحل اليوناني "سفينة الصيد لم تطلب أي مساعدة من خفر السواحل أو من اليونان". وقال أيضاً إنه "بين الساعة 3:30 مساءً [12:00 بتوقيت جرينتش] و9 مساءً [18:00 بتوقيت جرينتش]، كان مركز عمليات وزارة البحرية التجارية على اتصال متكرر بسفينة الصيد عبر الهاتف الذي يعمل بالأقمار الصناعية. في جميع هذه الاتصالات، كرروا باستمرار أنهم يرغبون في الإبحار إلى إيطاليا ولا يريدون أي مساعدة من اليونان". تظهر قصة مختلفة من منظمة غير حكومية تسمى Alarm Phone، تراقب قوارب اللاجئين في البحر الأبيض المتوسط. وبحسب قولهم، كان اللاجئون يتوسلون للمساعدة قائلين إنهم "لا يستطيعون البقاء على قيد الحياة في الليل، وأنهم في محنة شديدة".

لدى المنظمة غير الحكومية تفسير مقنع للتناقض بين ما سمعوه من اللاجئين وما أفاد به خفر السواحل اليوناني. والسبب في عدم طلب اللاجئين من خفر السواحل اليوناني المساعدة هو أن "الأشخاص المهاجرين يعرفون أن الآلاف قد تعرضوا لإطلاق النار والضرب والتخلي عنهم في البحر من هذه القوات اليونانية". علاوة على ذلك، "إنهم يعرفون أن مواجهة خفر السواحل اليونانية أو الشرطة اليونانية أو حرس الحدود اليونانيين غالباً ما تعني العنف والمعاناة. ويرجع ذلك إلى عمليات الإعادة المنهجية التي تحاول القوارب تجنبها وتجنب اليونان، والإبحار في طرق أطول بكثير، والمخاطرة بحياتهم في البحر".

ما هي عمليات الصد المنهجي التي يخشاها اللاجئون كثيراً؟ خلص تحقيق أجرته صحيفة الجارديان في عام 2021 إلى أن الدول الأعضاء في الاتحاد الأوروبي أعادت "ما لا يقل عن 40 ألف لاجئ من حدود أوروبا أثناء الوباء، حيث تم ربط الأساليب بموت أكثر من 2000 شخص". وتعتبر عمليات الإرجاع والصد في البحر محفوفة بالمخاطر بشكل خاص، كما أنها شائعة جداً. وقد تم بالفعل نقل العديد من اللاجئين الذين وصلوا إلى الجزر اليونانية إلى البحر ووضعوا على قوارب صغيرة لتطفو بعيداً. وذكرت صحيفة الجارديان أحد الأمثلة: "في 15 أيلول/سبتمبر 2021، استقل سيدي كيتا من ساحل العاج وديدييه مارتيال كوامو نانا من الكاميرون زورقاً من تركيا إلى اليونان. وعلى الرغم من وصولهما إلى جزيرة ساموس اليونانية، تم العثور على جثتيهما بعد أيام، وقد تم دفعهما إلى الشاطئ في مقاطعة أيدين، على ساحل بحر إيجة. وقال الناجون إن "الشرطة ضربتنا بأكبر قدر من العنف" قبل رميهم في قوارب النجاة ودفعهم إلى البحر".

تتهم دعوى قضائية مرفوعة ضد الدولة اليونانية في المحكمة الأوروبية لحقوق الإنسان أثينا بمستوى مروّع من العنف في عمليات معقدة مشتركة بين الوكالات تشكل جزءاً من استراتيجية صد غير قانونية لوقف وصول اللاجئين والمهاجرين. هذا العنف هو من أجل ردع الناس عن القدوم، لكنهم ما زالوا يأتون. وقالت إحدى اللاجئات من دمشق: "لم أرغب حتى في الذهاب إلى اليونان. كنا نعلم أنهم كانوا يؤذون اللاجئين عند وصولهم، ولكن كان من المثير للصدمة تجربة الواقع، وهو أن أوروبا لا تهتم على الإطلاق بحقوق الإنسان والكرامة". ومع ذلك، قالت "رغم كل ذلك، سأحاول مرة أخرى لا يمكنني بناء حياة في سوريا أو تركيا". لماذا يحاول الكثير من الناس الوصول إلى أوروبا لدرجة أنهم يخاطرون بالكثير؟

كان الأوروبيون في يوم من الأيام يغارون من الحضارة والقوة الإسلامية في البحر الأبيض المتوسط، وكافحوا لقرون لتدمير دولة الخلافة العثمانية هناك حتى تم لهم ذلك في النهاية. لقد أطلقوا عليها اسماً متخلفاً، ووعدوا المسلمين بالديمقراطية والحرية وحياة جديدة رائعة بدون الخلافة. بدلاً من ذلك، تعرض المسلمون للاستغلال الاستعماري، والحكومات الفاسدة التي تخدم المصالح الغربية والسيطرة الخانقة على المزيد من مجالات حياتهم بشكل متزايد. حتى جهود المسلمين المخلصين للثورة على هؤلاء الحكام انحرفت بفعل التأثير الغربي. جاء عدد كبير من ضحايا المأساة الأخيرة من سوريا حيث تم إحباط ثورتهم ضد نظام الأسد الوحشي حيث فرض الاتحاد الأوروبي حظراً على بيع جميع الأسلحة للسوريين، بينما ألقت أمريكا بأموالها القذرة في سوريا، لتشكيل مليشيات تخدم مصالحها وليس مصالح الشعب السوري. إن الموت والدمار والفقر هو إرث الإيمان بالوعود والقيم الغربية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست