النائب الأول لرئيس السودان على خطا المشروع الأمريكي في محاربة الإسلام
النائب الأول لرئيس السودان على خطا المشروع الأمريكي في محاربة الإسلام

بحضور مدير جهاز الأمن والمخابرات، ونائب الأمين العام للأمم المتحدة، والهيئة الوطنية لمكافحة (الإرهاب)، وغيرهم عُقدت ورشة مكافحة (التطرف والإرهاب) بالخرطوم، وقد صرح النائب الأول لرئيس الجمهورية، بكري حسن صالح قائلا: "إن محاربة (الإرهاب) هدف إنساني نبيل، وأضاف أنهم سيمضون قدماً في تعاونهم مع المجتمع الدولي في سبيل محاربة (الإرهاب)". (صحيفة ألوان الخميس 17 آب/أغسطس 2017م)

0:00 0:00
Speed:
August 18, 2017

النائب الأول لرئيس السودان على خطا المشروع الأمريكي في محاربة الإسلام

النائب الأول لرئيس السودان

على خطا المشروع الأمريكي في محاربة الإسلام

الخبر:

بحضور مدير جهاز الأمن والمخابرات، ونائب الأمين العام للأمم المتحدة، والهيئة الوطنية لمكافحة (الإرهاب)، وغيرهم عُقدت ورشة مكافحة (التطرف والإرهاب) بالخرطوم، وقد صرح النائب الأول لرئيس الجمهورية، بكري حسن صالح قائلا: "إن محاربة (الإرهاب) هدف إنساني نبيل، وأضاف أنهم سيمضون قدماً في تعاونهم مع المجتمع الدولي في سبيل محاربة (الإرهاب)". (صحيفة ألوان الخميس 17 آب/أغسطس 2017م)

التعليق:

لا زالت الحكومة السودانية تصر على منافسة رويبضات حكام المسلمين في خدمتهم لأمريكا؛ راعية مشروع ما يسمى بمحاربة (التطرف والإرهاب)؛ أي الإسلام، وهي بذلك تضرب مثالاً حياً على هوان وذل الحكومات غير المحترمة، التي تنفذ الأجندة الأمريكية في بلادنا، وتعمل على محاربة الإسلام، باسم (الإرهاب).

الجدير بالذكر أن حكومة السودان لها السبق والقدح المعلى في خدمة أمريكا، ومحاربة الإسلام، فقد بادرت بإصدار تشريعات تنفيذاً للقرارات الدولية المعنية بمحاربة ما يسمى (الإرهاب) منذ العام 2001م، وأنشأت هيئة سمتها (بالوطنية) مختصة بمكافحة (الإرهاب) في العام 2003م، وأصدرت قانون مكافحة (الإرهاب) في العام 2010م، كما أنشأت لجنة فنية لتنفيذ قرارات مجلس الأمن ذات الصلة، في العام 2014م، فضلا عن إنشاء مراكز (المعالجات) المتصلة بالشباب ومقتضيات تحصيلهم والتي يتم تسميم عقولهم، من خلالها بالأفكار العلمانية والمفاهيم السرطانية.

وتجدر الإشارة إلى أن قضية محاربة (الإرهاب) أي الإسلام تقع تحت إشراف مباشر لرئاسة الجمهورية، حيث تم عقد مئات الفعاليات والأعمال المصاحبة، ترويجاً للأفكار الرأسمالية الهدامة، وتشويها لأفكار الإسلام، مما يكشف عن صدق الحكومة في تنفيذ أجندة المستعمر. هذا بالإضافة للدور الإقليمي الذي تقوم به الحكومة في هذا الاتجاه مما جعل منها شريكة أساسية وفاعلة في الحرب الأمريكية على الإسلام.

ونتابع هذه الأيام حملة مسعورة تقوم بها الدولة لتغيير المناهج الدراسية وسلخ الأفكار الإسلامية من المدارس والجامعات، فقد أوردت قناة الحرة الفضائية في 14 آب/أغسطس 2017م أن: "الحكومة السودانية تحذف أجزاء من مادة التربية الإسلامية، قالت إنها تدعو (للتطرف والإرهاب)، منها بعض دروس الفقه، والتوحيد، والإسلام دين التوحيد، وغيرها، حيث قامت وزارة التربية بتوزيع منشور على المدارس، طلبت فيه حظر تدريس تلك المواد".

وتأتي تلك الخطوة استجابة للتعليمات التي أصدرها الرئيس الأمريكي (الأحمق) ترامب لحكام المسلمين موخراً في القمة (الإسلامية) الأمريكية بالرياض، حيث جاء على لسان وزير خارجيته في استجواب له في الكونغرس، وكان يجيب عن أسئلة عضو الكونغرس السيناتور سكوت بيري في جلسة استماع الأربعاء 14 حزيران/يونيو 2017م، حيث قال تيلرسون: "أحد نتائج قمة الرئيس في الرياض كانت إنشاء مركز لمكافحة الخطاب الإسلامي (المتطرف)، المركز قائم الآن، وقد افتتح، ونحن هناك، وأضاف أن المركز له عدد من العناصر لمهاجمة (التطرف) حول العالم، وأحد العناصر التي تفقدناها معهم، وقد أخذوا خطوات بشأنها، هي أن ينشروا كتبا دراسية جديدة تدرس في المدارس الموجودة في المساجد حول العالم، هذه الكتب ستحل محل الكتب الدراسية الموجودة اليوم هناك، والتي تبرر للفكر (المتطرف) الذي يبرر العنف، وقد طالبناهم ليس فقط بنشر الكتب المدرسية الجديدة، لكن بسحب الكتب القديمة حتى نستعيدها، هذا مثال واحد فقط". وتابع تيلرسون "هذا المركز سوف يغطي نطاقا واسعا جدا من وسائل الاتصال (الاجتماعي) إلى الإعلام، وكذلك كيفية تدريب الأئمة الشباب بمراكز التعليم الإسلامية، ونحن نعمل معهم اليوم على تأسيس هذا المركز الجديد، بما في ذلك المعايير التي سنحاسب عليها".

بالتأكيد هذا يعني أن أمريكا بصدد تعليمنا ماهية الإسلام والفقه على المذهب الأمريكي الجديد، فهي حملة تنتظم المنطقة بأسرها تقودها أمريكا، وتسخر لها حكام المسلمين ومنهم النائب الأول لرئيس الجمهورية، الذي يقول في آخر نكاته السياسة "إن محاربة (الإرهاب) هدف إنساني نبيل"، والقاصي والداني، والصغير قبل الكبير يعلم أن محاربة (الإرهاب) هدف شيطاني برعاية أمريكية متوحشة بكل أشكال الدموية والبربرية، فالقيم الإنسانية في وادٍ، ومشاريع أمريكا الاستعمارية في وادٍ آخر.

 فالإسلام قادم لا محالة، والخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة في انتظار بيانها الأول، حتى يعلم الغرب أن أمة الإسلام لن تموت بتغيير مناهج، أو تبديل كتاب هنا أو هناك، فحربكم على الإسلام أيها الكفار الغربيون، خاسرة، ونتيجتها محسومة لصالح الإسلام، والمطلوب من أبناء الأمة أن يهبوا لإزاحة هؤلاء الحكام الرويبضات عن سدة الحكم، وإيصال الإسلام الذي تخشاه أمريكا والغرب، حتى تستأنف الأمة حياتها الإسلامية، وتتولى قيادة العالم مرة أخرى.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عصام الدين أحمد أتيم

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست