النصر سيكون حليف المؤمنين حقا، وليس حليف الخائنين
النصر سيكون حليف المؤمنين حقا، وليس حليف الخائنين

الخبر:   التقى الرئيس الروسي فلاديمير بوتين والرئيس التركي رجب طيب أردوغان في سوتشي ووقعا مذكرة مهمة تخص موضوع شمال سوريا، وتتضمن المذكرة انسحاب القوات الكردية خلال مئة وخمسين ساعة من الحدود التركية إلى مسافة ثلاثين كيلومتراً، وبعد أن تنتهي المئة وخمسون ساعة تبدأ دوريات روسية تركية بالانتشار في الداخل السوري بعمق عشرة كيلومترات ضمن عملية نبع السلام. بالإضافة إلى ذلك، أعلنت وزارة الخارجية الروسية أنها ستضع خمس عشرة نقطة تفتيش من الحراسة السورية على الحدود مع تركيا. (سبوتنيك، 2019/10/23م)

0:00 0:00
Speed:
October 26, 2019

النصر سيكون حليف المؤمنين حقا، وليس حليف الخائنين

النصر سيكون حليف المؤمنين حقا، وليس حليف الخائنين

الخبر:

التقى الرئيس الروسي فلاديمير بوتين والرئيس التركي رجب طيب أردوغان في سوتشي ووقعا مذكرة مهمة تخص موضوع شمال سوريا، وتتضمن المذكرة انسحاب القوات الكردية خلال مئة وخمسين ساعة من الحدود التركية إلى مسافة ثلاثين كيلومتراً، وبعد أن تنتهي المئة وخمسون ساعة تبدأ دوريات روسية تركية بالانتشار في الداخل السوري بعمق عشرة كيلومترات ضمن عملية نبع السلام.

بالإضافة إلى ذلك، أعلنت وزارة الخارجية الروسية أنها ستضع خمس عشرة نقطة تفتيش من الحراسة السورية على الحدود مع تركيا. (سبوتنيك، 2019/10/23م)

التعليق:

في هذا الصدد نرى كلام وزير الخارجية التركية مولود جاويش أوغلو عن عملية نبع السلام في الشمال السوري "تحظى عملية نبع السلام في الشمال السوري بموافقة وقبول كل من أمريكا وروسيا"، نرى كلامه هذا أكبر دليل على أن أمريكا استخدمت كلاً من روسيا وتركيا في هذه العملية لتمرير مخطاطاتها القذرة، وكما لا يخفى على أحد فإنه لم يحدث أي تغيير بعد كل من عمليات درع الفرات وغصن الزيتون ونبع السلام سوى استيلاء نظام الأسد على المزيد من التراب السوري. فبعد عملية درع الفرات سيطر النظام السوري على حلب، وبعد عملية غصن الزيتون سيطر على الغوطة والقنيطرة وجزء من ريف حماة، والآن بعد عملية نبع السلام يراد له أن يسيطر على الجزء الشمالي الشرقي من سوريا، بالنظر في كل هذا خلال مئة وخمسين ساعة انسحاب القوات الكردية على عمق ثلاثين كيلومتراً عن الحدود التركية، وبعدها بدأت عملية نبع السلام والتقدم باتجاه الغرب والشرق السوري بعمق عشرة كيلومترات عن الحدود مع تركيا، وانتشار دوريات روسية تركية ووضع خمس عشرة نقطة مراقبة من حرس الحدود السورية في هذه المنطقة، كل هذا وغيره دليل على أن بدء عملية نبع السلام ونهايتها وكيفيتها واتخاذ القرار بهذه العملية لم يكن من السلطات التركية. وبالنهاية نتيجة هذه العملية بالتأكيد ليست لصالح المسلمين في سوريا، وإنما هي لصالح رأس الكفر أمريكا، وعميلها في سوريا.

ومع أن كل شيء واضح وصريح بهذا الشكل، وعلى الملأ، ولكن الحكام الذين هم في السلطة الآن يحاولون إقناع المسلمين في سوريا خصوصا وباقي المسلمين عموما بأن هذه العملية هي من أجل مصلحة الأمة الإسلامية، لكن العكس هو الصحيح؛ فهم بهذه العملية يخدمون أسيادهم في الغرب من أجل الحفاظ على مواقعهم ومناصبهم ليس إلا، وفي ضوء هذه الأحداث والحقائق أناشد الأمة الإسلامية، أناشد المسلمين والمسلمات في جميع البلاد الإسلامية: بقول الله تعالى في كتابه العزيز: ﴿وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الصف: ١٣]، نعم النصر هو من نصيب المؤمنين، لكن أي مؤمنين:

- النصر ليس حليف الصامتين عن احتلال الكفار للبلاد الإسلامية وعن قتلهم المسلمين بأبشع الجرائم وعن اعتداء الكفار على أعراض المسلمات وعلى رمي المسلمات أنفسهن في البحر كي لا تمسهن أيدي الكفار، ولم يكتفوا بكل هذا بل يقيمون علاقات التعاون مع دول الاستعمار الكافرة، ولكن النصر سيكون حليف المؤمنين الذين يسعون لتنصيب خليفة شجاع القلب يقطع يد الكفار عن المسلمين وأعراضهم ولا يحاربهم على شاشات التلفزيون فقط.

- النصر ليس من نصيب من يطلق رصاصته على طفل بريء ويرديه قتيلاً على الشاطئ، ولا من نصيب من لا دم له يتحرك عندما يسمع استغاثات طفل يسأل أمه من جوعه "هل إذا ما مت سيعطونني الطعام في الجنة؟"، وإنما النصر حليف المؤمنين التواقين المشتاقين لقدوم خليفة عندما يسمع بالظلم يقول للظالم "قف عند حدك وإلا جاءتك جيوشنا".

- النصر ليس حليف حكامنا الذين يسعون جهدهم لسرقة أموال شعوبهم وتنمية ثرواتهم إلى مستويات غير معقولة وترك شعوبهم غارقة في العمل من أجل تحصيل لقمة عيشهم وأقل من ذلك، بل النصر هو حليف المؤمنين الذين تتوق أفئدتهم إلى خليفة يسأله الناس يا أمير المؤمنين لم يبق من يحتاج الزكاة فنعطيه إياها فيقول أمير المؤمنين انثروا القمح على رؤوس الجبال حتى لا يقال جاع طائر في دولة الإسلام، إلى خليفة يرفض ما لذ وطاب من الأطعمة ويقول لبطنه قرقري ما شئت فلن آكل من شيء لا يأكله أفقر شخص من رعيتي.

- النصر ليس من نصيب الساكتين والراضين عن احتلال يهود للأرض المباركة وتنجيسهم لها، وإنما النصر هو حليف المؤمنين الذين يعملون ليلا ونهارا من أجل إقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي يقودها خليفة يقول "لئن يقطعوا جسدي إربا إربا أهون علي من أن أفرط بشبر واحد من تراب فلسطين".

- النصر ليس حليف من يسمع صرخات المسلمين وآهاتهم في جميع البلاد الإسلامية ويشهد على ظلمهم وقتلهم وارتكاب أبشع المجازر بحقهم ويصمت على كل ذلك ويرضى بهذه الحياة الفانية ويتخلى عن الدعوة إلى الله، كل هذه المصائب علاجها واحد هو وصفة النبي r «إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ»، النصر هو حليف المؤمنين الذين يرون أن نهضة المسلمين لا تكون إلا بدولة الخلافة الراشدة ويعتبرون هذه القضية هي قضية حياة أو موت، اللهم انصرنا وثبت أقدامنا وأكرمنا بدولة الخلافة الراشدة. آمين

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رمضان أبو فرقان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست