النظام العالمي يتقدم نحو الهاوية
النظام العالمي يتقدم نحو الهاوية

في 11 من كانون الأول/ديسمبر 2017، طرحت مؤسسة راند، وهي منظمة غير ربحية في أمريكا، في تحليل لها، تساؤلات عن قدرة أمريكا على الحفاظ على النظام العالمي. وقد أصدرت لائحة اتهام ضد القوات العسكرية الأمريكية تدعو فيها إدارة الرئيس الأمريكي دونالد ترامب إلى إعادة تقييم الاستراتيجية الدفاعية للبلاد ووضعها الأمني. وأوضحت: "إذا كان الخصوم يعتبرون الجيش الأمريكي [...] غير كاف لمهام الردع والتصدي للإكراه أو العدوان، فإن صلاحية استراتيجية الأمن القومي لهذه الدولة بأكملها، بل وللنظام الليبرالي القائم على القواعد التي عُززت لأكثر من 70 عاما، ستصبح موضع تشكيك".

0:00 0:00
Speed:
December 17, 2017

النظام العالمي يتقدم نحو الهاوية

النظام العالمي يتقدم نحو الهاوية

(مترجم)

الخبر:

في 11 من كانون الأول/ديسمبر 2017، طرحت مؤسسة راند، وهي منظمة غير ربحية في أمريكا، في تحليل لها، تساؤلات عن قدرة أمريكا على الحفاظ على النظام العالمي. وقد أصدرت لائحة اتهام ضد القوات العسكرية الأمريكية تدعو فيها إدارة الرئيس الأمريكي دونالد ترامب إلى إعادة تقييم الاستراتيجية الدفاعية للبلاد ووضعها الأمني. وأوضحت: "إذا كان الخصوم يعتبرون الجيش الأمريكي [...] غير كاف لمهام الردع والتصدي للإكراه أو العدوان، فإن صلاحية استراتيجية الأمن القومي لهذه الدولة بأكملها، بل وللنظام الليبرالي القائم على القواعد التي عُززت لأكثر من 70 عاما، ستصبح موضع تشكيك".

التعليق:

كانت أمريكا هي من شيد العالم بعد الحرب العالمية الثانية. فبعد أن حققت الفارق الذي حول مسار الحرب، كانت أمريكا في وضع جيد لتملي شروط عالم ما بعد الحرب. وقام مؤتمر يالطا في عام 1945 بتوزيع الغنائم بين المنتصرين، ولكن في السنة السابقة في مؤتمر بريتون وودز تم إنشاء صندوق النقد والبنك الدوليين والاتفاق العام بشأن الضرائب والتعريفات الجمركية (GATT). وأكد معهد بروكينغز في تقرير له: "نظرت الولايات المتحدة إلى جميع المنظمات المتعددة الأطراف بما فيها البنك الدولي، كأدوات للسياسة الخارجية لاستخدامها في دعم أهداف ومصالح الولايات المتحدة الخاصة... ووجهات نظر الولايات المتحدة بشأن كيفية تنظيم الاقتصاد العالمي، وكيفية تخصيص الموارد وكيفية اتخاذ القرارات الاستثمارية المنصوص عليها في الميثاق والسياسات التشغيلية للبنك". كل ذلك يتطلب الحفاظ على وجود عسكري في أوروبا وآسيا. وفي أعقاب الحرب مباشرة، تجلى هذا في القرارات المهينة بحق اليابان وألمانيا والقيود الدستورية على حجم وعمليات القوات المسلحة لتلك البلدان. ومن هذا المنطلق ظهر الناتو في عام 1949 باعتباره الهيكل العسكري الشامل الذي تجلت من خلاله مظلة الأمن الأمريكية لأوروبا.

أدى انهيار الاتحاد السوفياتي ونهاية الحرب الباردة إلى فترة غير مسبوقة من الأسبقية والحرية في العمل بالنسبة لأمريكا ونظامها الليبرالي. وللمرة الأولى منذ عقود، أصبحت الفرصة متاحة الآن لهذه المؤسسات الدولية لخدمة الأهداف التي وضعتها أمريكا لها في أعقاب الحرب العالمية الثانية.

ومع ذلك، فإن الآمال الكبيرة لم تكن لتدوم، ويبدو أن تفكيك هذا النظام المؤسسي يجري على قدم وساق. وأظهرت عودة روسيا الناجحة للثورات الملونة في أوائل عام 2000 المدى الضئيل لالتزام أمريكا تجاه شركائها في منطقة آسيا الوسطى والقوقاز. وقد أكد غزو أوكرانيا دون معارضة بأن الالتزام لم يكن مستداما ولم يمثل قط مصلحة حيوية لأمريكا.

وقد أظهرت الأزمات الدولية الخطيرة في كل من سوريا والعراق إلى رواندا والكونغو عجز المجتمع الدولي وفشل الأمم المتحدة ومؤسساتها في تقديم ضمان جدي للسلام العالمي.

وكان الهدف من منظمة التجارة العالمية توفير وسيلة لدول السوق الحرة للتبشير بمذاهبها عند الدول الأقل نموا في العالم. وكان الهدف منها أيضا أن تفرض ضغوطا أكبر على الاقتصادات الناشئة لكي تتبع الوصفات الرأسمالية لتخفيض التدخل الحكومي في السوق، وزيادة مشاركة القطاع الخاص في توفير المنافع العامة كالمياه والطاقة والتعليم والرعاية الصحية. غير أن جولة مفاوضات الدوحة الإنمائية، التي كان يقصد بها أن تستمر في الفترة من عام 2001 إلى عام 2005 فقط، والتي تهدف لمعالجة أوجه الإجحاف في معاملة البلدان النامية، لم تنته بعد.

أما على الصعيد الداخلي، فقد أثبت القطاع المالي الذي طال أمده أنه عَقِبُ آخِيل وليس مصدرا لقوة الاقتصاد العالمي. وفي أعقاب الأزمة المالية العالمية، ينظر الآن إلى المؤسسات والاتفاقات التجارية التي ترتكز على الأسواق الدولية باعتبارها جزءا من المشكلة بدلا من الحل.

فالعوامل السياسية والاقتصادية التي أدت إلى إنشاء النظام الليبرالي لم تعد تلهم صناع السياسات، ولا تشكل جزءا من الذاكرة التاريخية للمجتمعات التي تدعم وجودها اليوم. وقد حلت النضالات الأوروبية في القرن العشرين محل الموارد الجديدة والجهات الفاعلة الجديدة التي تتطلب آليات جديدة يتعين معالجتها، في وقت عجزت فيه القوة العالمية عن حلها. وقد أكدت راند ما عرفه الكثيرون لبعض الوقت من أنه ومع العديد من المشاكل في العالم، فإن النظام الليبرالي يفشل أكثر من غيره، وبأن الوقت قد حان الآن للبحث عن بدائل.

 

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عدنان خان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست