النظام الأوزبيكي يواصل حربه على الحجاب!
النظام الأوزبيكي يواصل حربه على الحجاب!

الخبر:   نشرت مواقع التواصل مؤخراً الخبر التالى: هل يمكن التقاط صورة والمرأة محجبة لبطاقة التعريف (ID card)؟ ردت وزارة الداخلية: كما هو معلوم منذ 4 كانون الثاني/يناير من هذا العام بدأ في أوزبيكستان إعطاء بطاقات التعريف (ID cards) بدلاً من جوازات السفر البيومترية. ومع بدء إعطاء بطاقات التعريف أثير التساؤل بين الناس عما إذا كان من الممكن التقاط صورة مع الخمار لبطاقة التعريف؟ أجاب على هذا السؤال النائب الأول لرئيس المديرية الرئيسية للهجرة وتسجيل المواطنة بوزارة الداخلية شهرات خوجاييف بقوله: ...

0:00 0:00
Speed:
June 28, 2021

النظام الأوزبيكي يواصل حربه على الحجاب!

النظام الأوزبيكي يواصل حربه على الحجاب!

الخبر:

نشرت مواقع التواصل مؤخراً الخبر التالى:

هل يمكن التقاط صورة والمرأة محجبة لبطاقة التعريف (ID card ردت وزارة الداخلية:

كما هو معلوم منذ 4 كانون الثاني/يناير من هذا العام بدأ في أوزبيكستان إعطاء بطاقات التعريف (ID cards) بدلاً من جوازات السفر البيومترية. ومع بدء إعطاء بطاقات التعريف أثير التساؤل بين الناس عما إذا كان من الممكن التقاط صورة مع الخمار لبطاقة التعريف؟ أجاب على هذا السؤال النائب الأول لرئيس المديرية الرئيسية للهجرة وتسجيل المواطنة بوزارة الداخلية شهرات خوجاييف بقوله:

"تم إيراد جميع القواعد في قرار رئيس جمهورية أوزبيكستان بشأن تسجيل جوازات السفر البيومترية لمواطني أوزبيكستان للخروج إلى الخارج والمرسوم رقم 6065 بشأن إعطاءID cards (بطاقات التعريف). ووفقاً لهذا المرسوم يُحظر على مواطنينا ارتداء الخمار والنظارات عند التصوير لجوازات السفر البيومترية أو ID card (بطاقة التعريف). لأن هذا هو المعيار الذي وضعه المجتمع الدولي. فإذا رفض مواطن أن يتم تصويره بدون غطاء الرأس أو نظارات فقد ترفض نقطة قبول المعلومات عند تسجيل بطاقة التعريف أو جواز سفر بيومتري. هذا ما جاء في القرار والمرسوم المذكورين".

التعليق:

يتضح من هذا الجواب أن النظام في أوزبيكستان ينظر إلى المرأة من وجهة نظر الغرب. وأما في حضارة الإسلام فإن المرأة هي عرض يجب أن يصان مثل بؤبؤ العين! وفي حضارة الغرب تعتبر المرأة سلعة تشبع شهوة الرجال! لا يشن الغرب الآن هجوماً سياسياً واقتصادياً وعسكرياً على الأمة الإسلامية فحسب بل يشن أيضاً صراعاً حضاريا. في هذا الصراع الأنظمة العميلة في الدول القائمة في البلاد الإسلامية هي رؤوس حربة للغرب الكافر. فكما دمرت جيوش الأعداء الحصون التي كانت تحرس البلاد الواحدة تلو الأخرى وسيطرت عليها فإن هذه الأنظمة وهي جيوش الغرب الكافر تريد أن تنزع حجاب المرأة الذي هو حصن الأنثى وعفتها وشرفها، وتحرمها من الإنسانية وتحوّلها إلى سلعة!

إن الغرب الكافر خائف حتى الموت من حضارة الإسلام. فقد كتب المفكر السياسي الأمريكي المعروف صمويل هنتنجتون في كتابه "صدام الحضارات": "الإسلام هو الحضارة الوحيدة التي جعلت بقاء الغرب موضع شك..". هذا هو السبب في أن الغرب يحارب بشدة ضد أي مظهر من مظاهر حضارة الإسلام. فشهرات خوجايف في جوابه أعلاه لم يشر عبثا قائلا: "السبب هو المعيار الذي وضعه المجتمع الدولي". فيجب أن نبحث في هذا عن سبب حرب النظام الأوزبيكي على المفاهيم الإسلامية مثل الخمار واللحية وتعدد الزوجات والتعليم الديني للأطفال.

والآن السؤال الذي يطرح نفسه: ماذا سيجلب لنا هذا المجتمع الدولي؟ إنه لا يجلب إلا الدعارة والزنا وأولاد الزنا والشذوذ الجنسي وكل أنواع الرذيلة! دعونا نلتفت إلى الأرقام. فوفقاً ليورو سات في عام 2011 وُلد 55٪ من الأطفال سفاحا في فرنسا و46.9٪ في بريطانيا و49٪ في بلجيكا! وفي روسيا عام 2010 وُلد كل طفل ثالث من الزنا. هذه هي حالة المجتمع الدولي الذي يقلده النظام الأوزبيكي! وهذه هي بالطبع الثمرة النتنة للحريات في ديمقراطية الغرب. يحاول الغرب الكافر أن يغرس فينا نمط الحياة هذا ويوجِد "إسلاماً" غربياً! فقد صرح وزير الخارجية السابق لبريطانيا جاك سترو قائلاً "نريد المسلمين البريطانيين ونظراءَهم من الأوروبيين الآخرين أن يصبحوا أكثر وأكثر اندماجاً في طراز معيشتنا الديمقراطية، وستظهر مع مرور الوقت الضرورة الملحة للإسلام الأوروبي". يمكن أن يلاحظ المرء محاولة الغرب هذه في محاولة السماح للأشخاص المثليين في أوزبيكستان (في أيلول/سبتمبر 2018 ذكرت BBC أن المثليين الأوزبيكيين في الولايات المتحدة قد ناشدوا الرئيس ميرزياييف بدعوة من أجل الحرية). ويمكن رؤية هذه المحاولة أيضاً على سبيل المثال في خروج المثليين الأخير فى ميدان هاستي الإمام في طشقند وفي الجهود المبذولة لإدخال التربية الجنسية من رياض الأطفال إلى التعليم العالي. حيث شددت رئيسة مجلس الشيوخ تانزيلا نارباييفا على ضرورة توفير التربية الجنسية من رياض الأطفال إلى التعليم العالي!

وتجدر الإشارة إلى أنه حتى في الغرب الذي يقلده النظام الأوزبيكي يمكن التقاط صورة بالخمار للحصول على جواز سفر! على سبيل المثال بموجب القانون السويدي يُعد الخمار أمراً طبيعياً في صور جواز السفر ولا يُسمح بالنقاب فقط. وقد سمحت إدارة الشرطة لموظفيها بارتداء أغطية الرأس البديلة مثل العمامة والخمار. وتقبل سفارات الدول المشاركة في اتفاقية شنغن الصور الفوتوغرافية للحصول على تأشيرة دون قيود. من الطبيعي بالنسبة لهم أن تحضر المرأة معها صورة ملتقطة بالخمار للتقدم بطلب للحصول على تأشيرة وهذه ليست مشكلة.

في الختام، فإن السبب الشرعي الوحيد لارتداء اللباس الشرعي هو أن الله سبحانه وتعالى أمر المرأة المسلمة بارتدائه، أي هو حكم شرعي. المرأة المسلمة تطيع أمر الله سبحانه وتتعبد بارتداء هذا اللباس وتنال رضا الله وتكسب الثواب في الآخرة. الإسلام يبني مجتمعاً طاهرا نظيفاً بأحكامه. في هذا المجتمع ليست حياة الناس وممتلكاتهم فحسب بل أيضاً شرفهم وعفتهم آمنة ويعيشون حياة طيبة مطمئنين.

﴿يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست