النّظام الحاكم في أفغانستان؛ من الطّريق نحو الله إلى خارطة طريق الأمم المتحدة!!
النّظام الحاكم في أفغانستان؛ من الطّريق نحو الله إلى خارطة طريق الأمم المتحدة!!

الخبر: اختتمت اجتماعات الدوحة 3 بشأن أفغانستان، التي بدأت يوم الأحد 30 حزيران/يونيو، بحضور مبعوثين خاصين من 25 دولة وخمس منظمات دولية، بعد يومين متتاليين من المحادثات. وشارك وفد طالبان، بقيادة المتحدث باسم النظام الحاكم، وناقش القطاع الخاص والبنوك ومكافحة المخدرات. ووصف وكيل الأمين العام للأمم المتّحدة الذي قاد هذا الاجتماع بأنه "إيجابي". 

0:00 0:00
Speed:
July 07, 2024

النّظام الحاكم في أفغانستان؛ من الطّريق نحو الله إلى خارطة طريق الأمم المتحدة!!

النّظام الحاكم في أفغانستان؛ من الطّريق نحو الله إلى خارطة طريق الأمم المتحدة!!

(مترجم)

الخبر:

اختتمت اجتماعات الدوحة 3 بشأن أفغانستان، التي بدأت يوم الأحد 30 حزيران/يونيو، بحضور مبعوثين خاصين من 25 دولة وخمس منظمات دولية، بعد يومين متتاليين من المحادثات. وشارك وفد طالبان، بقيادة المتحدث باسم النظام الحاكم، وناقش القطاع الخاص والبنوك ومكافحة المخدرات. ووصف وكيل الأمين العام للأمم المتّحدة الذي قاد هذا الاجتماع بأنه "إيجابي".

التعليق:

عُقد هذا الاجتماع في أعقاب قرار مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة 2721، والذي انبثق عن التقييم المستقل الذي أجراه فريدون سينيرلي أوغلو، منسّق مجلس الأمن الخاص بأفغانستان. وتحثُّ هذه الوثيقة المعروفة باسم "خارطة طريق" الأمم المتحدة للتكامل السياسي للنظام الحاكم في النظام الدولي، على التزام أفغانستان بالقانون الدولي، وتشكيل حكومة شاملة، وبدء حوار وطني، وتعيين ممثل خاص لأفغانستان. وفي اجتماع الدوحة 3 الذي كان يهدف إلى ضمان تنفيذ خارطة الطريق هذه، لم يكن النظام الحاكم يحضر سوى كـ"مراسلين" لتقديم إنجازاته للأمم المتحدة. وبدا أنّ الأمم المتحدة راضية عن تقرير طالبان حيث وصف رئيس وفد الأمم المتحدة تفسير طالبان بأنه مقنع.

إنّ خارطة الطريق التي وضعتها الأمم المتحدة هي في الأساس خطة أمريكية لدمج النظام الحاكم في النظام العلماني العالمي بهدف تأمين صفقات سياسية واستخباراتية معهم. وعلى الرّغم من أنّ النظام الحاكم قد أعلن مراراً وتكراراً أنه يقبل أي اتفاق في إطار الشريعة الإسلامية، إلاّ أنّ اعتراف النظام الحاكم بخارطة الطريق التي وضعتها الأمم المتحدة واللّعب وفقاً لقواعد العدو جعل ادعاءه بالالتزام بالشريعة بلا معنى. ويبدو أنّ هذه الاجتماعات مدفوعة أكثر بالمصالح، وتؤجّل المناقشات القائمة على القيم. وتعتزم الولايات المتحدة، من خلال الدور القيادي للأمم المتحدة، المضي قدماً مع النظام الحاكم على أساس حزم الحوافز، ولهذا السبب تمّ وضع قضايا مثل حقوق الإنسان وتعليم المرأة وتعيين ممثل خاص، جانباً لكسب ودّ طالبان. وتريد الأمم المتحدة أولاً دمج النظام الحاكم في النظام العالمي لتكون قادرة على محاسبته. وبما أنّ طالبان لم تحضر اجتماع الدوحة الثاني، فقد أرادت الأمم المتحدة تشجيع مشاركتها في اجتماع الدوحة الثالث.

وعلى الرّغم من أنّ هذا الاجتماع ركز بشكل رئيسي على التفاعلات السياسية والاقتصادية، وأن طالبان تعتقد أنها ستستخدم منصة الأمم المتحدة لتحقيق أهدافها السياسية والاقتصادية، فإن الهروب من فرض القيم العلمانية بعد الاندماج في النظام العلماني العالمي هو خداع للذات. وكما ذكر المتحدث باسم طالبان فإنهم يقبلون الاتفاقيات الدولية إذا لم تكن مخالفة للشريعة. وهذا سوء فهم ووهم كامل. أولاً، إن العضوية في الأمم المتحدة نفسها تعني قبول أيديولوجيتها وهدفها الأساسي، وهو تعزيز الأيديولوجية العالمية والقيم الليبرالية. ولا يمكن إلاّ للقوى العظمى أن تتحدى تفويضات الأمم المتحدة. ويسمح النظام العالمي الحالي بالسيادة النسبية للدول، ما يحدّ من سيادتها المطلقة، ومع السيادة النسبية، لا يمكن تنفيذ قواعد الشريعة.

ورغم أن النظام الحاكم صرّح مراراً وتكراراً بأنّ القضايا المحلية تنتمي إلى شؤونه الداخلية، فقد ردّت الأمم المتحدة بأن تنفيذ القيم العلمانية ليس مجرد قضية دولية؛ بل يجب مراعاة هذه القيم في السياسات الداخلية والخارجية. فقد قالت روزماري ديكارلو وكيلة الأمين العام للأمم المتحدة للشؤون السياسية لطالبان: "لقد وقعت أفغانستان على العديد من المعاهدات والاتفاقيات الدّولية التي تركز على حقوق الإنسان والحقوق المدنية. ولا يهمّ إذا تغيرت الحكومة. لقد وقّعت هذه الدولة على هذه المعاهدات كدولة، وهذا يعني أنها ليست مجرد قضية داخلية، لقد أوضحنا ذلك".

لذلك، يجب أن يكون واضحاً أن خارطة الطريق هذه لا تؤدي إلى رضا الله سبحانه وتعالى ولا يمكن أن ترضي القوى الغربية إلاّ إذا قبلنا شروطها السياسية والاقتصادية والاستخباراتية والتمسك بقيمها.

إن استخدام خرائط الطريق وقواعد العدو يبعدنا عن الله سبحانه وتعالى في كل ساحة؛ حيث يريد النظام الحاكم أن يتصرف اليوم على أساس الدبلوماسية العلمانية، وهذا من شأنه أن يؤدي بهم إلى الوقوع في فخّ الغرب. من الآن فصاعداً، بدأت طالبان في ممارسة السياسة على أساس النمط الغربي. فعلى سبيل المثال، في هذا الاجتماع، أشار المتحدث باسم طالبان أيضاً إلى قضية غزة وقال: "إن أولئك الذين يرتكبون جرائم حرب وإبادة جماعية في غزة ليسوا في وضع أخلاقي يسمح لهم بإلقاء محاضرات علينا حول مراعاة حقوق الإنسان". ومن الواضح تماماً من تصريحاته أن هذا التذكير لم يكن للدفاع عن ضحايا غزة، بل كان استخداماً وتلاعباً لمعاناتهم لصالح طالبان. وقد أرادت طالبان تبرير أفعالها بهذه الحجّة.

لذا، قبل فوات الأوان، من الأفضل أن نتصرف بناءً على خارطة الطريق التي حددها الله سبحانه وتعالى وأن نسعى فقط إلى رضوانه. إن خارطة طريق الإسلام ليست هي إلا إقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، واستئناف الحياة الإسلامية. إذا لم نفعل هذا ولم نلتزم بعهد الله، فإن الله سبحانه وتعالى سيستبدل الذين يرتكبون الظلم والطغيان بإساءة استخدام السلطة والنفوذ.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يوسف أرسلان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست