النظام المصرفي القرغيزي أصبح غنيا من جيوب الناس
النظام المصرفي القرغيزي أصبح غنيا من جيوب الناس

  الخبر: أفادت التقارير أن النظام المصرفي في قرغيزستان حصل في عام 2022 على مستوى غير مسبوق من الأرباح. في عام 2022 حققت البنوك أرباحا أكثر بخمسة أضعاف مما كانت عليه عام 2021. وفقاً لبيانات لجنة الإحصاء الوطنية، تجاوز إجمالي دخل القطاع المالي 75 مليار سوم عام 2022، منها 65 مليار سوم كان دخل البنوك، وهو أعلى معدل في تاريخ النظام المصرفي.

0:00 0:00
Speed:
February 09, 2023

النظام المصرفي القرغيزي أصبح غنيا من جيوب الناس

النظام المصرفي القرغيزي أصبح غنيا من جيوب الناس

الخبر:

أفادت التقارير أن النظام المصرفي في قرغيزستان حصل في عام 2022 على مستوى غير مسبوق من الأرباح. في عام 2022 حققت البنوك أرباحا أكثر بخمسة أضعاف مما كانت عليه عام 2021. وفقاً لبيانات لجنة الإحصاء الوطنية، تجاوز إجمالي دخل القطاع المالي 75 مليار سوم عام 2022، منها 65 مليار سوم كان دخل البنوك، وهو أعلى معدل في تاريخ النظام المصرفي.

التعليق:

على سبيل المثال، إذا أخذنا البنوك الثلاثة ذات الدخل الأكبر، حقق بنك أيل 4.6 مليار سوم عام 2022 مقابل 280 مليون سوم في عام 2021. وحقق بنك باكاي 4.2 مليار سوم عام 2022 مقابل 325 مليون سوم عام 2021. وحصل بنك قرغيزستان التجاري على 2.8 مليار سوم عام 2022 مقابل 279 مليون سوم في عام 2021. وكما ترون، حققت البنوك أرباحاً ضخمة في عام 2022. الجزء الكبير من هذه الدخول جاء من معاملات الصرف الأجنبي وليس من معاملات الائتمان العادية. وفقاً لتحليل شركة بِنك للتمويل، في عام 2022، ازداد دخل البنوك في بلدنا من العمليات المتعلقة بالعملة الأجنبية بنسبة 539٪ ووصل إلى أكثر من 59.3 مليار سوم. لذلك، فإن أحد مصادر الدخل الكبيرة للبنوك هو المعاملات المتعلقة بالعملات الأجنبية. إن نقص الدولار الأمريكي والتكهنات التي أعقبت هذا النقص سمح للبنوك بتحصيل مثل هذه الأرباح.

هناك أسباب عدة لنقص الدولار في بلادنا؛ السبب المعتاد هو حجم التجارة الخارجية، التي وصل حجمها 10.6 مليار دولار في عام 2022، منها 2 مليار دولار من الصادرات و8.6 مليار من الواردات. إذن، الرصيد السلبي يبلغ 6.6 مليار دولار. هذا الوضع هو سبب النقص المعتاد للدولار. أما السبب غير المعتاد لنقص الدولار فهو يعود إلى روسيا، فمن المعروف أن روسيا غزت أوكرانيا في شباط/فبراير 2022، ونتيجة لذلك، تعرضت البنوك الروسية للعقوبات الغربية، بل واستُبعدت من نظام سويفت الذي يجري عمليات تحويل الأموال الدولية، بالإضافة إلى ذلك، تم إيقاف استيراد الغاز من روسيا إلى الغرب تقريباً وفُرضت قيود على النفط الروسي. نتيجة لهذه الإجراءات، كان هناك نقص في الدولارات في روسيا نفسها. وظهر سعر صرف للدولار في السوق السوداء غير سعر الصرف الرسمي بسبب ارتفاع الطلب عليه. من ناحية، تقوم الشركات الخاصة في روسيا بتجارتها الخارجية من خلال بنوكنا وتبادل الدولار بسبب العقوبات، بينما قام بعض الناس في روسيا بتحويل الأموال بالروبل والحصول على الدولارات من بنوكنا. ومن ناحية أخرى، كما أسلفنا، استفاد الناس والشركات وحتى البنوك من بيع الدولارات التي تم شراؤها من قرغيزستان في روسيا بسبب ارتفاع الطلب على الدولار هناك. لهذه الأسباب، بدأ الدولار الأمريكي في بلدنا يتدفق إلى روسيا. وحوّل الناس أكثر من مليار دولار إلى الخارج في عام 2022، وأكثر من 80٪ من هذه التحويلات تخص روسيا.

وهكذا، أصبح بلدنا "منطقة خارجية" حيث تتم فيها معاملات العملات الأجنبية. وقد استفادت البنوك من هذا الوضع وزادت من خدمة معاملات الصرف الأجنبي. على سبيل المثال، اعتادت البنوك فرض رسوم بنسبة 0.3٪ على خدمات تحويل العملات الأجنبية، لكنها الآن تفرض رسوماً تصل إلى 5٪! ومع ذلك، يمكن سحب 100 دولار فقط عند استلام العملة المحولة نقداً، وسيتم تقديم المبلغ المتبقي من السوم بسعر صرف منخفض. كما تتقاضى البنوك عمولة تصل إلى 10% على الأموال المحولة من بطاقة مصرفية إلى بطاقة أخرى. بالإضافة إلى ذلك، قامت البنوك بزيادة الهامش (الفرق بين بيع وشراء العملة) والذي وصل إلى 60٪ في بعض الحالات. كما أنهم يحددون سعر الصرف بطريقة تعود بالنفع عليهم وتضر بالناس. فالبنوك التي لا تفكر إلا في مصالحها الخاصة يزداد أصحابها ثراءً على حساب الناس العاديين بهذه الطريقة.

إن أصحاب هذه البنوك هم حفنة من الرأسماليين الفاسدين، الذين يزدادون ثراءً على حساب الناس. إنهم لا يهتمون إطلاقا بالناس ولا بمصالحهم ومعاناتهم. ويقع عبء هذا الوضع الثقيل فقط على عاتق عامة الناس. علاوة على ذلك، يؤدي هذا الوضع إلى ارتفاع الأسعار والتضخم، وتصبح أموال الناس التي حصلوا عليها بشق الأنفس عديمة القيمة. إذن ما الذي يسمح لحفنة من الرأسماليين بأن يصبحوا أثرياء بشكل لا يصدق على حساب سكان بلد بأكمله؟ إنه النظام الرأسمالي المطبق حاليا في قرغيزستان الذي يسمح لتلك الحفنة من الرأسماليين بمهاجمة جيوب الناس. لذلك، ما دام النظام الرأسمالي مستمراً، فلن ينتهي مثل هذا الوضع الذي يشكل كارثة على المسلمين. لذلك من الضروري العودة إلى إسلامنا وتطبيق أحكام الشريعة في مجال الاقتصاد وفي جميع المجالات. وبالطبع، لا بد من إقامة دولة الخلافة، التي بدونها يستحيل التنفيذ الكامل لأحكام الشريعة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هارون عبد الحق

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في قرغيزستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست