النظام المصري بين وهم السلام وخدعة صناعة التاريخ وصياغة المستقبل
النظام المصري بين وهم السلام وخدعة صناعة التاريخ وصياغة المستقبل

الخبر:   نقلت اليوم السابع الخميس 2022/1/13م، كلمة الرئيس المصري في حفل ختام منتدى شباب العالم والتي قال فيها إننا من نصنع التاريخ، ونصيغ المستقبل، ونعمل في الحاضر، ووحده الإنسان القادر على البناء والهدم بإرادته الحرة، واليوم نحن في أشد الحاجة لاستنهاض العزائم وإنفاذ الإرادة للضمير البشري لتحقيق البناء والتنمية، وتنحية الصراعات جانبا، ونمتلك القدرة على إدارة اختلافنا ليظل العامل باقى مفعم بالإنسانية، وتابع:

0:00 0:00
Speed:
January 19, 2022

النظام المصري بين وهم السلام وخدعة صناعة التاريخ وصياغة المستقبل

النظام المصري بين وهم السلام وخدعة صناعة التاريخ وصياغة المستقبل

الخبر:

نقلت اليوم السابع الخميس 2022/1/13م، كلمة الرئيس المصري في حفل ختام منتدى شباب العالم والتي قال فيها إننا من نصنع التاريخ، ونصيغ المستقبل، ونعمل في الحاضر، ووحده الإنسان القادر على البناء والهدم بإرادته الحرة، واليوم نحن في أشد الحاجة لاستنهاض العزائم وإنفاذ الإرادة للضمير البشري لتحقيق البناء والتنمية، وتنحية الصراعات جانبا، ونمتلك القدرة على إدارة اختلافنا ليظل العامل باقى مفعم بالإنسانية، وتابع: أنه من أجل هذا اجتمعنا ومن أجل ذلك نعمل وتتجرد إرادتنا لضمان مستقبل أفضل لمصر والعالم بأكملها، فحلم المصريين منذ فجر التاريخ بناء الحضارة الإنسانية وإقرار المحبة، وواصل قائلاً: "الله سبحانه وتعالى هو السلام والعدل، وندعوه بكل قلب يعبده في هذا العالم، أن يهبنا السلام والعدل لكل البشرية"، ثم قال "إنه وشباب مصر يسعى إلى أن يبقى هذا العالم أكثر سلاماً يليق بنا وبأوطاننا"، وتابع: "يهبنا السلام والعدل لكل البشرية ويكلل جهودنا الحثيثة من أجل السلام والمحبة".

التعليق:

من يرى الرئيس المصري ويستمع لحديثه خلال هذا المنتدى عن صياغة المستقبل ويعاين كم الإنفاق على مثل تلك الاحتفاليات وغيرها من الأمور التي لا طائل منها لا يظن أنه نفسه الرئيس الذي كان قبل أيام يتحدث عن الزيادة السكانية ويتهمها بالتهام التنمية ويتوعد المقبلين على الزواج بحذفهم من قائمة الـ50 جنيه دعم لبطاقة التموين، وكأنه ليس هو من رد على المرأة الأسوانية التي تقول إن لها ستة أبناء لا تستطيع إعاشتهم بأنه لديه 100 مليون لا يستطيع إعاشتهم، نعم فهناك خطابان لدى الرئيس المصري؛ خطاب للشارع يخاطب به أهل مصر المغلوبين على أمرهم، وخطاب آخر يخاطب به العالم ويسوق به نفسه كحارس لعلمانية الدولة وداعية لتجديد الإسلام وسلخه من عقيدته السياسية ورأس حربة في الصراع مع الإسلام نفسه ومن يعملون لتطبيقه ليصبح منهج حياة الناس كما أراد الله.

إن أي نهضة وأي حضارة بل وأي حياة كريمة لا يمكن أن تؤسس بمعزل عن العقيدة ولا أن تكون بلا أساس فكري قوي وثابت حتى لو كانت حتى يكتب لها الوجود والبقاء والاستمرار في الحياة، فالنهضة لا تقوم بدون عقيدة وأفكار وقوانين تنبثق عن هذه العقيدة وتبنى على أساس ما تفرع عنها من أفكار، وحتى تدوم النهضة وتستمر في إمداد الناس بالحياة الكريمة وتضمن لهم مستقبلا مشرقا يصبح فيما بعد تاريخا ناصعا، يجب أن تكون العقيدة صحيحة موافقة لفطرة الإنسان ومقنعة لعقله حتى لا تموت مبكرا كما حدث مع الاشتراكية ودولتها التي لم تكمل المئة عام وكما هو حال الرأسمالية التي تغرق وتغرق العالم معها، فكلتاهما بنيتا على أساس فكري خاطئ وهو النهج نفسه الذي يدعو الرئيس المصري لتبنيه رغم ثبوت فشله في علاج مشكلات الناس، بل أصبح هو نفسه سبب أزماتهم وسبب ضياع مستقبلهم وفقدانهم للأمن والسلام والحياة الكريمة، فأي حياة كريمة يمكن أن تتحقق في بلد ينهب الغرب ثرواته كاملة، بلد موارده تقريبا كلها من جيوب الناس وتقتطع من أقواتهم، بلد يمن فيها الحاكم على من تجب عليه كفالتهم بفتات ما يلقى لهم، بينما هو يعلم تماما كم ينهب من ثرواتهم وكونه كفيلاً بأن يغنيهم عن دعمه المشؤوم، ولهذا فلا توجد غير عقيدة واحدة تملك القدرة على إيجاد نهضة حقيقية وحياة كريمة وتنمية مستدامة ومستقبل مشرق وناصع، ألا وهي عقيدة الإسلام التي تنسجم مع مصر وأهلها وتعبر عنهم وعن فطرتهم، وقد سبق للإسلام أن طبق في مصر قرونا طويلة كانت مصر في ظله تنعم بالأمن والسلام ويعيش أهلها خير حياة لا فرق فيها بين مسلم وغير مسلم ولا غني وفقير، والشواهد على ذلك كثيرة نراها في القاهرة ومبانيها التي لا زالت تحدثنا عن رقي من حكموها بالإسلام ولم نشعر بالطائفية ولم نسمع مصطلح الأقلية إلا عند سيطرة الغرب واستعماره لبلادنا بنفسه وبجنوده أو بوكلائه من حكام بلادنا العملاء.

إن الحياة الكريمة والمستقبل والسلام والأمن أشياء يستحيل أن تضمنها الرأسمالية التي تكرس الفقر والطبقية وتعطي للأغنياء حق تملك الثروات واحتكار منابعها دون باقي الناس، فكل من يعيش في ظل الرأسمالية حياته ضائعة ولا أمن له ولا سلام، وبالطبع مستقبله مجهول، والضمان الوحيد لتحقيق هذه الأشياء يكون باقتلاع الرأسمالية وأدواتها ورموزها ومنفذيها، ما يعني وجوب اقتلاع هذا النظام برأسه وجذوره واستئناف الحياة الإسلامية التي عاشها أهل مصر من جديد في ظل الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وهذا الأمر ليس صعبا على الإطلاق فهو يحتاج إلى مشروع دولة حقيقي يقوم عليه مخلصون من أبناء الأمة واعون عليه وقادرون على تطبيقه، وقد كفا حزب التحرير الأمة كلها مؤونة هذا العمل ولا ينقصهم غير نصرة صادقة من أبناء الأمة المخلصين في الجيوش الذين يرون حال الناس ويشعرون بكم معاناتهم في ظل الرأسمالية وأدواتها من الحكام العملاء، فمن منهم يحمل راية رسول الله ﷺ وسيفه بحقه، فينصر الإسلام ورجاله ويعيد للإنسان كرامته ومستقبله ويضمن له أمنه وسلامه وحياته الكريمة بإقامة دولة الإسلام الخلافة الراشدة على منهاج النبوة؟ فمن ينصر الإسلام إن لم يكن أنتم يا جند الكنانة؟ ومن له غيركم؟ ومن أولى بنصره منكم؟ ألا فلتصدقوا الله في أنفسكم غضبة لله ودينه وكتابه تزلزل الدنيا وتعلي راية الإسلام في الأرض وليرى الله بها منكم ما يحب ويرضى اللهم آمين.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست