النظام المصري لا يعرف الجدية والشرف إلا في تطبيق قرارات الغرب الرأسمالي وترشيد إنفاق الدولة على الشعب
النظام المصري لا يعرف الجدية والشرف إلا في تطبيق قرارات الغرب الرأسمالي وترشيد إنفاق الدولة على الشعب

الخبر:   نشر موقع مصراوي الثلاثاء 2021/8/3م، قول الرئيس المصري، إنه ليس من المعقول أن تبيع الدولة 20 رغيف خبز بثمن سيجارة واحدة وهو جنيه. وأضاف السيسي على هامش افتتاحات مدينة السادات: مش معقولة أبيع رغيف العيش بصاغ، وهي عملة ولادنا ميعرفوش عنها حاجة وأوضح: مشروع حياة كريمة سيغير حياة سكان الريف في مصر. وأضاف: "محدش يقرب من رغيف العيش، لأ هنقرب، لأننا جادون وشرفاء". وتابع: "بقول للرأي العام لن نستطيع.. داخل في مشروع حياة كريمة عشان نغير حياة الناس.. مبقولش ناخد رقم كبير، لكن ناخد من هنا، عشان نضيف لموضوع التغذية المدرسية".

0:00 0:00
Speed:
August 09, 2021

النظام المصري لا يعرف الجدية والشرف إلا في تطبيق قرارات الغرب الرأسمالي وترشيد إنفاق الدولة على الشعب

النظام المصري لا يعرف الجدية والشرف

إلا في تطبيق قرارات الغرب الرأسمالي وترشيد إنفاق الدولة على الشعب

الخبر:

نشر موقع مصراوي الثلاثاء 2021/8/3م، قول الرئيس المصري، إنه ليس من المعقول أن تبيع الدولة 20 رغيف خبز بثمن سيجارة واحدة وهو جنيه. وأضاف السيسي على هامش افتتاحات مدينة السادات: مش معقولة أبيع رغيف العيش بصاغ، وهي عملة ولادنا ميعرفوش عنها حاجة وأوضح: مشروع حياة كريمة سيغير حياة سكان الريف في مصر. وأضاف: "محدش يقرب من رغيف العيش، لأ هنقرب، لأننا جادون وشرفاء". وتابع: "بقول للرأي العام لن نستطيع.. داخل في مشروع حياة كريمة عشان نغير حياة الناس.. مبقولش ناخد رقم كبير، لكن ناخد من هنا، عشان نضيف لموضوع التغذية المدرسية".

التعليق:

بعيدا عن موضوع التغذية المدرسية التي لا تصل لمستحقيها أصلا وما فيها مصالح ومن أسندت إليهم لترضيتهم لينتفعوا من خلفها على حساب الناس، إلا أن ربطها بالخبز والأخذ من رصيد ما ينفق عليه من أجل الإنفاق على التغذية كما يدعي الرئيس المصري مدعي الجدية والشرف، هو امتداد لادعائه بفقر الدولة المصرية وشح الموارد وهو ما يكذبه الواقع وتكذبه أعماله الإنشائية التي يقوم بها في عاصمته الجديدة وتلك الكباري التي أقيمت والطرق التي مهدت ومدت لتكون في خدمة قاطني العاصمة الجديدة مستقبلا، بخلاف الطائرات والمواكب والقصور الرئاسية الممتدة والعاصمة المصيفية، وكأن هناك انفصاماً في شخصية النظام حال الإنفاق على متطلباته والنخب الحاكمة وحال الإنفاق على الناس رغم أن الذي يتحمل الفاتورة في الحالتين هم الناس والناس فقط، حتى قال رأس النظام الذي يضن على الناس بأقل القليل إنه سيأتي على رغيف الخبز مستهجنا أن يستوي ثمن عشرين رغيفا بثمن سيجارة متجاهلا كم علب السجائر التي تساويها تكلفة موكبه وقصوره وحراساته وما ينفق بلا داع على عاصمة الأشباح الجديدة!

إن الأزمة الحقيقية التي تعيشها الكنانة ليست في ثمن رغيف الخبز قل أو زاد وليست فيما ينفق على الطرق ولكن في فساد النظام نفسه وتبعيته للغرب، التي تجبره على اتخاذ قرارات كلها في مصلحة الغرب وليس فيها شيء من رعاية مصالح مصر وأهلها بل من شأنها أن تزيد أزماتها ومشكلاتها تفاقما، فما فرط ويفرط فيه النظام من ثروات وحقوق يكفي أهل مصر لسنوات طوال، بل إنه يجعل الدولة تستغني عن جباية الضرائب من أموال الناس ورواتبهم ومدخراتهم حتى وصلت نسبة الضرائب حوالي 74% من دخل الدولة! كل هذا فقط إذا توقف نهب الثروات والخيرات والمقدرات والموارد التي يفرط فيها النظام ويهبها للغرب بلا ثمن.

لقد اتسع الخرق على الراتق، فالمشكلة يستحيل على النظام علاجها عن طريق زيادة ثمن رغيف الخبز الذي لا يلجأ لشرائه إلا الفقراء لأن المشكلة في وجود النظام الرأسمالي نفسه وفساد نظرته وتفسيره للفقر ومشكلات الناس وبالتالي فساد معالجاته للمشكلات فتأتي تلك المعالجات بمزيد من المشكلات حتى أصبح الواقع كما ترون، والحقيقة الأكيدة أن النظام لا يسعى لحل مشكلات الناس ولا يعنيه ذلك بل كل ما يسعى إليه هو تحقيق مصالح الغرب وشركاته الرأسمالية ولو على جثث أهل مصر، وسياساته كلها تصب في هذا الإطار وما يقام من مصانع وشركات يعي أنها إنجازات توضع بين يدي بعض رجال المؤسسة العسكرية ممن يريد رأس النظام ضمان ولائهم في صراعه المحتمل مع أهل مصر، فالنظام منفصل عن مصر وأهلها، لا يعبر عنها ولا يرى ولا يرعى مصالحها.

يا أهل الكنانة: لقد فرط النظام في مائكم ووضع يده على مائدة طعامكم حتى لم يبق لكم فيها إلا رغيف الخبز، وها هو يضن عليكم به، فلم يبق لكم شيئا بعد هذا، فعلام صمتكم وصبركم على أذى هذا النظام؟! إن صمتكم وصبركم لن يحميكم ولن يطعمكم، ووالله لولا أن لكم أرزاقاً من الله مكتوبة لكان موتكم جوعا حتما من جراء سياسات هذا النظام الكارثية المتعاقبة التي لا تكادون تفيقون من واحدة منها حتى يتبعها بأخرى أشد نكاية بكم، وكأن هذا النظام يضن عليكم بما تأكلون وتشربون ولسان حاله يقول ما لي أجوعهم يأكلون وكأنه يظن أن رزق الناس بيديه.

إن العلاج الوحيد لمشكلات مصر وأهلها يبدأ باقتلاع هذا النظام بكل أدواته ورموزه فهو أصل الداء وقطع أيادي الغرب العابثة في بلادنا والتخلص من التبعية للغرب الكافر بكل أشكالها وصورها وإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة على أنقاضه تلك الدولة التي توقف نهب الثروات وتعيد للناس الحقوق، فالناس ليسوا بحاجة لدعم لرغيف خبز يضن عليهم به نظام الفجور بل هم في حاجة لعدل في توزيع ثروات البلاد عليهم بعد إيقاف نهب الغرب لها، عندها لن يكونوا بحاجة لقروش دعم الأنظمة العميلة لأن حقوقهم ستمكنهم من شراء رغيف الخبز مهما ارتفع ثمنه ولن يشعروا بضائقة لأن حقوقهم تصلهم تباعا، هذا ما يكون عندما يطبق الإسلام على الناس ويكون لأحكامه واقع عملي ملموس.

أيها المخلصون في جيش الكنانة: إنكم مسؤولون أمام الله عز وجل عن كل خطايا هذا النظام الذي ما كان ليتجبر على الناس وما كان لينفذ عليهم وفيهم سياسات الغرب الكافر وما كان ليمكنه من نهب ثروات الناس لولا حمايتكم له وقهركم لأهل مصر ليخضعوا لحكمه ولا يفكروا في مجرد الخروج عليه وإسقاطه، فأنتم شركاء جريمته إلا من رحم الله، ولن يغنيكم أو يمنع عنكم عقاب الله يوم القيامة ما يمنحكم النظام من ثروات ويهبكم من أموال وشركات ومميزات هي في واقعها رشوة يأكل بها أموال الناس بالباطل، ولتعلموا أن كل لحم نبت من سحت فالنار أولى به، كل لحم نبت من رشوة وميزة وأموال منهوبة من عرق وكد الناس فالنار أولى به، ولن تنجيكم من عقاب الله وعذابه في الآخرة، فالبدار البدار بتوبة تجبّ ما قبلها وتنجيكم وتنجي أهل مصر معكم، توبة وأوبة تقتلع هذا النظام وتقيم الدولة التي ترضي ربكم عنكم وترفع رؤوسكم فخرا بها وبعزتها وعدلها؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة دولة حق وصدق وعدل نسأل الله أن يعجل بها وأن تكون مصر حاضرتها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست