النظام المصري لا يعرف غير جباية أموال الناس
النظام المصري لا يعرف غير جباية أموال الناس

الخبر:   نقلت المصري اليوم الخميس 2022/8/04م، تصريح وزير النقل المصري، أن قطاع النقل يحقق 9 مليارات جنيه ومصروفاته 10 مليارات جنيه سنوياً، فضلاً عن ارتفاع أسعار قطع الغيار، وكلها أمور تدعو إلى تحريك الأسعار، وقال وزير النقل، إن الوزارة أجرت دراسة بشأن رفع زيادة سعر تذاكر السكك الحديدية ومترو الأنفاق عرضت على الجهات المعنية ورئاسة الوزراء ورئيس الجمهورية، قائلا "الكل أجمع على ضرورة تحريكها". ...

0:00 0:00
Speed:
August 09, 2022

النظام المصري لا يعرف غير جباية أموال الناس

النظام المصري لا يعرف غير جباية أموال الناس

الخبر:

نقلت المصري اليوم الخميس 2022/8/04م، تصريح وزير النقل المصري، أن قطاع النقل يحقق 9 مليارات جنيه ومصروفاته 10 مليارات جنيه سنوياً، فضلاً عن ارتفاع أسعار قطع الغيار، وكلها أمور تدعو إلى تحريك الأسعار، وقال وزير النقل، إن الوزارة أجرت دراسة بشأن رفع زيادة سعر تذاكر السكك الحديدية ومترو الأنفاق عرضت على الجهات المعنية ورئاسة الوزراء ورئيس الجمهورية، قائلا "الكل أجمع على ضرورة تحريكها".

التعليق:

وزير النقل المصري شأنه شأن نظامه، غايتهم هي خداع الناس بإنجازات لا ينتفع منها عامة الناس بل هي حكر على الخواص والنخب؛ من مثل قطارهم الجديد وعاصمة الأشباح وما أنفق ولا زال ينفق عليها من أموال تكفي لإشباع الناس لسنوات طويلة، وتكفي لتطوير الكثير من البنى التحتية وإقامة عشرات المصانع واستصلاح آلاف الأفدنة التي تقضي على البطالة وتحارب الفقر وتوفر السلع والخدمات التي يحتاجها الناس بدلا من استيرادها، حتى إنها قد تفيض عن حاجتهم فيتم تصديرها فتجلب لهم العملات الصعبة.

الوزير الذي يريد رفع سعر التذاكر وسيفعل هو جزء من النظام الذي رفع أسعار الوقود من بنزين وسولار وغيره مرات ومرات لترتفع بدورها كل السلع المنقولة جراء ارتفاع تكلفة وسائل النقل التي تعتمد على هذا الوقود، ثم يدعي أن ارتفاع الأسعار هو لجشع التجار. وهو النظام نفسه الذي يغرق البلاد في دوامة قروض البنك الدولي التي لا حاجة لها، وما يصاحبها من قرارات وتوصيات وسياسات ملزمة كلها وبالٌ على أهل مصر وكلها تصب في صالح الغرب وشركاته الرأسمالية وتكبل البلاد لأجيال قادمة.

إن المشكلة الحقيقية ليست في تحريك أسعار التذاكر ولا حتى في ارتفاع أسعار السلع بشكل جنوني يلتهم دخول الناس ومدخراتهم، بل المشكلة في نظام فشل في تلبية حاجات الناس لعقود خلت، نظام لا يعالج الأزمات بل يعمل على بقائها وترسيخها، ولعلها هي مهمته الحقيقية التي تكمن في الرأسمالية التي يطبقها والتي تبقي على الأزمات حتى تستفيد منها وتتربح من خلالها، فالحروب لا يجب أن تنتهي حتى تبقى مصانع السلاح وتجارته رائجة، والأمراض لا تعالج بحق حتى يظل المريض يشتري الدواء فتظل شركات الأدوية تعمل وتتربح، بل ربما تكون هي بذاتها من نشرت المرض حتى تبيع دواءه المُعَدّ عندها سلفا.

تحريك الأسعار أمر طبيعي في ظل حالة التضخم المستمر التي تعيشها البلاد والتي أوصلت قيمة الجنيه المصري إلى أدنى مستوى أمام الدولار حتى تعدى سعر الدولار الواحد حاجز الـ19 جنيهاً مع توقع زيادته، ورغم هذا فهو ليس حلا يواجه العجز الذي تحدث عنه الوزير، والحل لا يكون برفع أسعار الخدمات لتواكب التضخم المستمر، وإلا قريبا سيتخطى سعر التذكرة الـ100 جنيه، بل الحل الحقيقي يكون بمواجهة هذا التضخم وعلاج أسبابه، حتى لا تفقد النقود التي في يد الناس قيمتها الشرائية الحقيقية، والحل سهل ويسير ولكنه يحتاج إلى إرادة حرة قوية قادرة على اتخاذ القرارات الصحيحة ووضعها موضع التطبيق، وهو ما لا يملكه النظام المصري، فالقدرة على علاج الأزمات لا يملكها العملاء ولا الأنظمة الوظيفية التي يتلاعب بها الغرب.

إن مصر بواقعها وموقعها الحالي لا تحتاج إلى قروض أو منح ومساعدات دولية حتى لو كانت غير مشروطة، فمصر بحدودها الضيقة لديها من الموارد ما يمكنها من أن تصبح دولة عظمى إن لم تكن الدولة الأولى في العالم، فقط تحتاج من يحسن استغلالها وإدارتها بالشكل الصحيح بعيدا عن الرأسمالية ومؤسساتها وشركاتها الناهبة لثروات البلاد، ولهذا فمن يريد الحل يجب عليه أولا أن يتخلى عن الرأسمالية بشكل كامل وبالتالي ما يتفرع عنها من مؤسسات دولية تكبل البلاد بقروض لا تحتاجها أصلا وأن يملك نظاما بديلا يحسن إدارة البلاد وإنتاج ثروتها ويحسن استغلالها وتوزيعها على الناس بشكل عادل، ولا يستطيع فعل ذلك إلا مخلصون يحملون الإسلام بوصفه نظام حكم ومنهج حياة قادراً على النهوض بمصر والأمة وإحداث نهضة كاملة شاملة بما تملكه البلاد من ثروات وخيرات وطاقات بشرية هائلة.

أيها المخلصون في مصر الكنانة شعبا وجيشا: إنكم بعيدا عن الإسلام ونظامه ودولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة تدورون في حلقات مفرغة تعصف بكم كل الأزمات ورياحها وأمواجها تعصف بكم في كل اتجاه، ولا نجاة لكم إلا بالإسلام ونظامه ودولته، وحزب التحرير يلقي لكم طوق النجاة بمشروع الإسلام ودولته التي يحملها لكم وبكم وفيكم ولا ينقصه لتطبيقه فورا إلا نصرة صادقة من أبنائكم المخلصين في جيش الكنانة تقيم الدولة التي تضعه موضع التطبيق فتنهي أزمات مصر وتقطع أيادي الغرب ومؤسساته التي تعبث بالبلاد، وتنهي عقود سلب ثرواتها وخيراتها وتعيد للناس حقوقهم فيها كاملة على وجهها، وتواجه التضخم بسياسات نقدية حقيقية أساسها قاعدة الذهب والفضة بعيدا عن الورق الذي تُسرق بها جهود الناس، هذا هو العلاج الحقيقي لمواجهة أزمات مصر والأمة وهو ما لا تملكه ولا تبحث فيه الرأسمالية بل تحاربه وتمنع وجوده وتمنع حتى مجرد التفكير فيه، ونحن إذ نضعه بين أيديكم نحملكم معنا أمانة تبليغه ووضعه موضع التطبيق سائلين الله أن يهيئ للأمة أنصاراً كأنصار الأمس يقيمون الدولة التي بشر بها النبي ﷺ «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ».

اللهم عجل بها واجعل مصر حاضرتها واجعلنا اللهم من جنودها وشهودها وشهدائها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست