النظام المصري يأبى أن يتهم بشرف كسر الحصار عن أهلنا في غزة!
النظام المصري يأبى أن يتهم بشرف كسر الحصار عن أهلنا في غزة!

نقلت جريدة الشرق الأوسط الاثنين 2024/4/22م، تأكيد رئيس الهيئة العامة للاستعلامات المصرية ضياء رشوان، الاثنين، أن مصر لديها السيادة الكاملة على أرضها وتحكم السيطرة بشكل تام على كامل حدودها الشمالية الشرقية مع غزة أو (إسرائيل). وبحسب وكالة أنباء العالم العربي، قال رشوان في تصريحات نقلها التلفزيون المصري الرسمي، إنه تم تدمير أكثر من 1500 نفق وتقوية الجدار الحدودي مع قطاع غزة. 

0:00 0:00
Speed:
April 26, 2024

النظام المصري يأبى أن يتهم بشرف كسر الحصار عن أهلنا في غزة!

النظام المصري يأبى أن يتهم بشرف كسر الحصار عن أهلنا في غزة!

الخبر:

نقلت جريدة الشرق الأوسط الاثنين 2024/04/22م، تأكيد رئيس الهيئة العامة للاستعلامات المصرية ضياء رشوان، الاثنين، أن مصر لديها السيادة الكاملة على أرضها وتحكم السيطرة بشكل تام على كامل حدودها الشمالية الشرقية مع غزة أو (إسرائيل). وبحسب وكالة أنباء العالم العربي، قال رشوان في تصريحات نقلها التلفزيون المصري الرسمي، إنه تم تدمير أكثر من 1500 نفق وتقوية الجدار الحدودي مع قطاع غزة. وأضاف: "كل دول العالم تعرف جيداً حجم الجهود التي قامت بها مصر في آخر 10 سنوات لتحقيق الأمن في سيناء وتعزيز الأمن على الحدود بين رفح المصرية وقطاع غزة". وتابع بقوله: "الفترة الأخيرة شهدت مزاعم وادعاءات باطلة حول عمليات تهريب للأسلحة والمتفجرات والذخائر إلى قطاع غزة من الأراضي المصرية".

التعليق:

عندما تكون منغمساً في الخيانة حتى أذنيك لا تستطيع أن تدعي الشرف أو حتى تقبل أن تتهم به! هذا هو واقع النظام المصري الذي يحاصر أهلنا في غزة ويمكّن يهود من رقابهم غير آبه بصرخات واستغاثات الأرامل واليتامى والثكالى والأطفال الجوعى، فقد أعلن في غير موضع وفي لقاءات مسجلة أن مهمة الجيش المصري هي تأمين كيان يهود، وهو ما يصدقه فعليا ما قام ويقوم به الجيش المصري في سيناء على مدار ما يزيد على عقد من الزمان من تفريغ للشريط الحدودي مع قطاع غزة وهدم للأنفاق التي تعد شريان حياة لغزة وتجديد وبناء أسوار عازلة مع القطاع تمتد ارتفاعا فوق الأرض وفي عمقها بما يضيّق على من يحاول صناعة أنفاق جديدة، ناهيك عن أن سيناء منطقة معزولة، كل ما يدخل إليها أو يخرج منها يكون تحت أعين النظام وبرقابة شديدة منه.

لا يحدث هذا مع يهود، بل يحدث فقط مع أهل مصر ومع إخواننا في غزة، فالنظام لا يخشى يهود بل يعلم يقينا أن أمنه من أمن يهود فهو من جنسهم وليس من جنس الأمة ولا من جنس مصر وأهلها، ولهذا فهو يحاصر أهل غزة ويشارك في قتلهم. أما إدخال المساعدات أو حتى السماح بدخول بعض السلاح وغيره على فترات فإنما يكون لغايات محددة تخدم مصالح أمريكا ولا تعطي للمجاهدين القدرة حتى على مقاومة الكيان الغاصب، بل إن النظام يكون عند حاجة يهود خانقا لأهل غزة مانعا عنهم كل شيء معطيا كل السلطان والصلاحيات ليهود ليتسلطوا عليهم، وهو ما رأيناه في الأشهر الماضية إجبارا لأهل غزة على قبول ما يخدم السادة ويرضي يهود، فكيف لمن يدعي أنه يملك السيطرة على حدوده أن يقبل أن تقصف شاحنة تحمل مساعدات لإخوته؟! وكيف يقبل أن يمنع عنهم العون والسلاح والدواء وأمريكا والغرب يدعمون قاتلهم بكل أنواع الدعم؟! بل إن النظام نفسه يدعم يهود قاتلي أهلنا في غزة وكل الأرض المباركة.

لم يصل النظام المصري حتى لمستوى العرب في جاهليتهم حينما مزقت صحيفة حصار ومقاطعة بني هاشم من قبل المشركين على شركهم، فقد كانت عندهم نخوة وشهامة تأبى عليهم أن يشاركوا في قتل المستضعفين من أهلهم ولو كانوا على غير دينهم، أما النظام المصري فإننا نعلم موقفه؛ فقد أبى أن يقبل على نفسه حتى أن يتهم بشرف السماح بتهريب السلاح إلى أهلنا في غزة، مع أن واجب مصر وجيشها هو إزالة الحدود مع غزة ونصرتها ونصرة أهلها المستضعفين وتحرير كامل فلسطين من دنس يهود، فأرض فلسطين هي أرض خراجية ملك لكل الأمة وليست لأهل فلسطين وحدهم، ووجوب تحريرها يقع على كل الأمة وهو أوجب ما يكون على دول الطوق وأولهم مصر وجيشها، فأين المخلصون في جيش الكنانة من هذا الواجب؟! ومن لحرمات الإسلام التي يدنسها يهود؟ ومتى يستعيدون سيرة أجدادهم ويستحقون الخيرية التي وصفوا بها فيكونوا درعا للأمة وحماة لها وجلادين لأعدائها؟!

أيها المخلصون في جيش الكنانة: إننا نعلم الغضب الذي يعتمل في نفوسكم والذي يجب أن يوجه نحو عدو الله وعدوكم؛ نحو هذا الكيان الغاصب الذي يقتل أهلكم في غزة بدم بارد، فوالله إن لم تحرككم تلك الدماء ولا تلك الحرمات التي تنتهك فلا خير فيكم وباطن الأرض خير لكم من ظاهرها، فأروا الله منكم ما يحب وأظهروا أنكم حقا خير أجناد، فأعيدوا سيرة أجدادكم العظام الذين رفعوا راية الإسلام وقهروا أعداءه وأعداء الأمة، فمن للإسلام إن لم يكن أنتم ومن ينصره غيركم؟

يا أجناد الكنانة، يا خير أجناد: إننا نعلم ما في قلوبكم حقا وصدقا، ونعلم أنكم تتوقون لتحرير فلسطين واقتلاع هذا الكيان المسخ الذي يدنس أرضها، ولا يحول بينكم وبين هذا غير نظام العمالة الذي يقيد أيديكم ويطوق أعناقكم، فارفعوا الطوق عنكم وفكوا وثاقكم واقطعوا ما بينكم وبينه من حبال وصِلوها بالله وحده ثم بالمخلصين من أبناء الأمة العاملين لتطبيق الإسلام لتقيموا معهم دولته التي تطلق أيديكم فتنصروا فلسطين وأهلها وتحرروا أقصاها الأسير، واعلموا أن ما بينكم وبين تحرير الأقصى هو إقامة هذه الدولة التي ستنعمون وأهل مصر وكل الأمة بعدلها؛ خلافة راشدة على منهاج النبوة، عجل الله بها وجعل جند مصر أنصارها، اللهم آمين.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست