النظام المصري يفرط في حقوق أهلها ويطالبهم بالتقشف
النظام المصري يفرط في حقوق أهلها ويطالبهم بالتقشف

الخبر:   ذكرت جريدة المصري اليوم الاثنين 2018/08/06م، أن الحكومة المصرية تلقت 39.3 مليون دولار نصيبها من أرباح منجم السكري، خلال النصف الأول من العام الحالي، بالإضافة إلى 9 ملايين دولار إتاوات مستحقة لهيئة الثروة المعدنية، وقالت شركة سنتامين، فى بيان لها، إن أرباحها خلال النصف الأول من العام، قبل الضرائب، ارتفعت إلى 80.4 مليون دولار بنمو 34% سنويًا، موضحة أنها باعت 228.6 ألف أونصة ذهب بقيمة 296.4 مليون دولار.

0:00 0:00
Speed:
August 11, 2018

النظام المصري يفرط في حقوق أهلها ويطالبهم بالتقشف

النظام المصري يفرط في حقوق أهلها ويطالبهم بالتقشف

الخبر:

ذكرت جريدة المصري اليوم الاثنين 2018/08/06م، أن الحكومة المصرية تلقت 39.3 مليون دولار نصيبها من أرباح منجم السكري، خلال النصف الأول من العام الحالي، بالإضافة إلى 9 ملايين دولار إتاوات مستحقة لهيئة الثروة المعدنية، وقالت شركة سنتامين، فى بيان لها، إن أرباحها خلال النصف الأول من العام، قبل الضرائب، ارتفعت إلى 80.4 مليون دولار بنمو 34% سنويًا، موضحة أنها باعت 228.6 ألف أونصة ذهب بقيمة 296.4 مليون دولار.

التعليق:

على الرغم من ثروات مصر الهائلة التي تم اكتشافها فقط بخلاف ما ينقب عنه ولم يكتشف بعد نجد مصر من أفقر دول العالم ويعيش شعبها تحت خط الفقر ويطالب حكامها هذا الشعب المقهور المغلوب على أمره بمزيد من سياسات التقشف والتجويع رغم ما يفرطون فيه من حقوقهم الهائلة والتي تكفيهم وحدها شر العوز الذي تحدث عنه الرئيس المصري في خطابه مع الشباب.

منجم السكري من أغنى المناجم في العالم بخام الذهب ويصل احتياطي الذهب فيه طبقا للدراسات، نحو 15.7 مليون أوقية، وهي من أكبر الاحتياطيات في العالم، ومن المقرر تعدين 1300 مليون طن على مدار عمر المنجم، منجم كهذا وحده يكفي لأن تصبح الدولة التي تملكه دولة غنيه قادرة على سد حاجاتها دون اللجوء لقروض الارتهان الدولي التي تكبل البلاد بقيود التبعية للغرب الكافر إلا أن بنود العقود الموقعة بين الشركة صاحبة حق التنقيب واستخراج الذهب بنود سرية غير معلنة للشعب ولا يعرف الشعب عن أمواله شيئا بل تنهب تحت سمع وبصر الحكومة بل وبرعايتها وحمايتها ولا يجرؤ الشعب على الاعتراض وإلا واجه تهم الفساد والإفساد وربما عوقب بالإعدام بتهمة تكدير الأمن والسلم العام!

بعيدا عن العقود المبرمة وفسادها وبطلانها وما تمنحه من امتياز غير مشروط لشركات أجنبية تمكنها من نهب ثروات الأمة ليس الذهب فقط وإنما كل الثروات من ذهب ومعادن شتى ونفط وغاز وحتى رمال الصحراء التي تهدر بلا ثمن رغم ما فيها من ثروة، كل هذه الثروات هي في حقيقتها ملكية عامة لا يجوز للدولة التفريط فيها ولا التصرف في منابعها بالبيع أو التأجير أو الهبة أو منح حق الامتياز بل يجب على الدولة أن تقوم هي باستخراجها أو استئجار من يستخرجها مقابل أجرة معينة وإعادة توزيع ما تستخرجه منها على الرعية كلها على حد سواء، إلا أن هذا لا يمكن حدوثه في دولنا الكرتونية التي يحكمها حكام عملاء للغرب لا تعنيهم شعوبهم وإنما تعنيهم مصالح السادة في البيت الأبيض وتنفيذ قراراتهم ولو جاع الشعب ولم يجد حتى (الطقّة الواحدة) التي تحدث عنها الرئيس المصري في خطابه.

يا أهل مصر الكنانة! هذا هو النظام الذي يحكمكم لم يكتف بتفريطه في حقوقكم بل يطالبكم بدفع فاتورة تفريطه تلك، يعدكم بالجوع والفقر ويطالبكم بالتحمل والتحمل رغم عدم وجود رؤية ولا حتى بادرة تشير إلى احتمال انفراج الأزمة، فأصل الداء في النظام نفسه الذي يسمح بإبرام العقود التي تنهب بها حقوق الناس، والذي يسن القوانين التي تمنعهم من المطالبة بحقوقهم وتجرم المطالبين منهم بها، والحل الوحيد الذي ينهي هذه الأزمات هو إسقاط هذا النظام وما تفرع عنه من عقود واتفاقيات ومعاهدات، وهذا يحتاج إلى قيادة واعية ذات إرادة حقيقية غير تابعة ولا عميلة تحمل مشروعا نهضويا حقيقيا يصلح كبديل مغاير لهذا النظام وينسجم مع عقيدة الأمة ويوافق فطرتها، وهو عينه ما يقدمه للأمة حزب التحرير بما يمثله من رجال قادرين على قيادة الأمة بالإسلام من فورهم نحو استئناف الحياة الإسلامية من خلال الخلافة الراشدة على منهاج النبوة والتي تتصرف في الملكيات العامة حسب أوامر الشرع الذي منحها للناس وألزمها بردها عليهم جميعا على حد سواء ومنعها من جباية أموالهم وجعل لهذا كله أحكاما ملزمة للدولة والحاكم وجعل للرعية الحق الكامل في محاسبته على تقصيره في تطبيق هذه الأحكام.

أيها المخلصون في جيش الكنانة! هذه أموالكم التي تُنهب تحت سمعكم وبصركم وتحت حراستكم، وهذه خيراتها التي تكفيها بحدودها الضيقة لتكون دولة عظمى تنافس أمريكا على مركز الدولة الأولى، وهؤلاء هم حكامكم عملاء أمريكا المفرطون في حقوقكم والمشاركون في نهب ثرواتكم وخيراتكم، يطالبونكم وأهل الكنانة بالصبر والتحمل بينما ثرواتكم تنهب أمام أعينكم!! فعلام صمتكم، أليس فيكم رجل رشيد يغضب لله ولحرماته ولأحكام شرعه التي تنتهك فيقتلع هذا النظام وما يسببه من آلام لأهل مصر ويضع يده في يد المخلصين الساعين لتطبيق الإسلام في دولته دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة فيرضى الله عنه وعنكم وتصير مصر حاضرة الدولة ومنارة الأمة وتعود الأمة بها وبكم سيدة الدنيا كما كانت؟! نسأل الله أن يكون قريبا وأن نكون من جنوده وشهوده.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست