النظام المصري يجعل من نفسه خادما للغرب مكافحا للإسلام وعقيدته
النظام المصري يجعل من نفسه خادما للغرب مكافحا للإسلام وعقيدته

  قالت عربي بوست على موقعها الخميس 2023/05/04م، إن مصر تولت منصب الرئيس المشارك للمنتدى العالمي لمكافحة الإرهاب، وذلك رغم إدانتها بـ"انتهاك معايير مكافحة الإرهاب الدولية". بحسب انتقادات لمنظمات عالمية لحقوق الإنسان، نقلها موقع Middle East Eye البريطاني، الخميس 4 أيار/مايو 2023، تسلّمت مصر منصب الرئيس المشارك إلى جانب الاتحاد الأوروبي، رسمياً خلال اجتماع اللجنة التنسيقية للمنظمة، الذي انعقد في العاصمة المصرية الخميس، ...

0:00 0:00
Speed:
May 06, 2023

النظام المصري يجعل من نفسه خادما للغرب مكافحا للإسلام وعقيدته

النظام المصري يجعل من نفسه خادما للغرب مكافحا للإسلام وعقيدته

الخبر:

قالت عربي بوست على موقعها الخميس 2023/05/04م، إن مصر تولت منصب الرئيس المشارك للمنتدى العالمي لمكافحة الإرهاب، وذلك رغم إدانتها بـ"انتهاك معايير مكافحة الإرهاب الدولية". بحسب انتقادات لمنظمات عالمية لحقوق الإنسان، نقلها موقع Middle East Eye البريطاني، الخميس 4 أيار/مايو 2023، تسلّمت مصر منصب الرئيس المشارك إلى جانب الاتحاد الأوروبي، رسمياً خلال اجتماع اللجنة التنسيقية للمنظمة، الذي انعقد في العاصمة المصرية الخميس، وقال وزير الخارجية المصري سامح شكري، في كلمته الافتتاحية: "نتشرف باستضافة الاجتماع الأول للجنة التأسيسية في المنتدى العالمي لمكافحة الإرهاب، برئاسةٍ مشتركة مع الاتحاد الأوروبي، حيث تؤكد جميع الأطراف المشاركة التزامها المشترك بالاستمرار في مكافحة هذه الآفة العالمية"، بينما قال تشارلز فرايز، نائب الأمين العام للدائرة الأوروبية للشؤون الخارجية، خلال الاجتماع، إن "التصدي لآفة الإرهاب" في أفريقيا سيمثل "أولويةً استراتيجية" لفترة الرئاسة المشتركة التي تجمع الاتحاد الأوروبي مع مصر، وتمتد حتى عام 2025.

التعليق:

عندما ينشئ الغرب منتدى عالميا لمكافحة الإرهاب حسب مفهومه ووجهة نظره فحتما هو يقصد الإسلام، فالغرب لا يرى في غير الإسلام خطرا يتهدد وجوده وبقاء هيمنته وسياساته على موارد البلاد الأخرى ونهب ثرواتها وإبقائها في ربقة التبعية والاستعباد خاصة بلادنا الإسلامية، وقطعا لن يضم لهذا المنتدى إلا كل من يتبنى وجهة نظره ويرى في الإسلام خطرا يجب التصدي له وحربه بكل الوسائل والأساليب، ومن هنا كان وجود النظام المصري الذي يسوق نفسه من اليوم الأول كرأس حربة في صراع الغرب مع الإسلام ويسعى لاحتكار خطابه وتجديد فهمه لدى الناس بما يوافق رؤيته ولا يصطدم بثقافته ونظمه وقوانينه التي تطبق في بلادنا وتؤهل الناس للرضا بتبعية البلاد له سياسيا واقتصاديا وتلزمهم برعاية مصالحه وتأمين نهبه لثروات البلاد وخيراتها، وترشيح النظام المصري للرئاسة المشتركة لمنتدى مكافحة الإرهاب ليس بالجديد فقد نشرت عربي بوست سابقا في 2023/1/22م، تحت عنوان "ماكرون متهم بمساعدة "أصدقائه الدكتاتوريين".. قصة ترشيح مصر لقيادة المنتدى العالمي لمكافحة الإرهاب"، وقالت "يخطط الاتحاد الأوروبي، برئاسة فرنسا، لتقديم ملف الرئاسة المشتركة للاتحاد ومصر لقيادة المنتدى العالمي لمكافحة الإرهاب، وهو ما يثير تساؤلات بشأن سعي ماكرون لمساعدة نظام متهم دولياً بانتهاك حقوق الإنسان تحت ذريعة محاربة الإرهاب".

إن الغرب لا تعنيه حقوق الإنسان ولا انتهاك النظام المصري لها طالما أن هذا الإنسان مسلم، خاصة لو كان ممن يحملون الإسلام بوصفه عقيدة سياسية ويسعون لتطبيقه في واقع المجتمع من خلال دولة تحمله، فهذا في وجهة نظرهم إرهابي يجب التصدي له، وهو عين ما يقوم به النظام المصري، ولهذا فإن الغرب يتجاهل كل انتهاكاته لحقوق الإنسان وحتى انتهاكاته للديمقراطية نفسها بل ويدعمه في هذا السبيل، فما يقوم به يخدم مصالح الغرب ويعمق هيمنته على البلاد ومواردها، فالغرب لا يعنيه في بلادنا إلا السيادة عليها والثروات التي تنهب منها، وليست لديه مشكلة مع العبادات الفردية التي يؤديها الناس من صلاة وصيام وحج وزكاة وغير ذلك مما لا علاقة له بالحكم أو الاقتصاد أو نمط العيش، أي كما قلنا هم يريدون إسلاما جديدا كهنوتيا يتحدث في الطهارة ونواقض الوضوء ولا يتحدث في حقوق الناس ولا الملكيات ولا واجبات الدولة تجاه رعاياها ولا حتى كيف يكون شكل الدولة، ولا يتعرض لهيمنة الغرب ولا يرفض حدود سايكس بيكو التي فرضها، ولهذا هو يكافئ النظام المصري ويدعوه لمواصلة ما بدأه منذ سنوات ما بعد ثورة يناير، وترميمه لجدار الخوف الذي داسته أقدام الثائرين، فالغرب لن يتحمل ثورة جديدة في مصر تحديدا وخاصة مع نمو الوعي لدى الناس حتى أصبح معلوما لديهم أن هذا النظام ليس من جنسهم ولا يريد بهم خيرا، ولا يؤخر ثورتهم القادمة إلا عدم رؤيتهم البديل الإسلامي الحقيقي والمشروع الحضاري الكفيل بإنجاح ثورتهم لو قامت من أجله ووضعه موضع التطبيق مع وجود حزب رائد في الأمة هو حزب التحرير الذي يحمل هذا المشروع ويدعو الأمة ليل نهار للعمل معه من أجل تطبيقه في دولته؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

لهذا فإن الغرب يضع النظام المصري في الموضع الذي يريد غاية أن يكون خط الدفاع الأول عن قيم العلمانية الديمقراطية وقوانينها الرأسمالية، عاملا على بقائها حائلا دون تمكن المخلصين من أبناء الأمة من بقعة من أرض الإسلام وجعلها نقطة ارتكاز لدولة الإسلام العظيمة؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

أيها المخلصون في جيش الكنانة: إنكم من أهل الكنانة جرحكم واحد وألمكم واحد ومعاناتكم نفسها، وإن هذا النظام الذي تطوق حباله أعناقكم لا يرقب فيكم ولا في أهل مصر إلا ولا ذمة، بل إنه منفصل عنكم جميعا، وهو ليس من جنسكم بل خادم لعدوكم وعدو دينكم ويعلنها صراحة أنه جزء من حربه على ربكم ودينكم وعقيدتكم، فحددوا صفكم فقد اقترب وقت الاصطفاف وقريبا يكون صفين؛ صف إيمان لا نفاق فيه وصف كفر لا إيمان فيه، فتخيروا لأنفسكم في أي صف ستكونون ولمن سيكون ولاؤكم، واعلموا أن هذا النظام لن يدفع عنكم ولن ينفعكم لا في الدنيا ولا في الآخرة، ولو أعطاكم ملء الأرض ذهبا، فالفظوا هذا النظام وكونوا معولا يجتثه من جذوره واقطعوا حباله تلك من أعناقكم وصلوا حبالكم بالمخلصين العاملين لتطبيق الإسلام فبهم وبكم تقام الدولة التي تقضي على وساوس الغرب وتعيده خائبا إلى عقر داره إن بقي له عقر دار، فأقيموها بجدكم وجهدكم ونصرتكم نصرة صادقة تكونوا من الفائزين في الدنيا والآخرة، أقيموها عسى الله أن يقبلكم ويقبل منكم ويفتح على أيديكم فتكون الخلافة الراشدة الثانية خلافة على منهاج النبوة.

﴿وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُولَـئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست