النظام المصري يرعى أعداء الإسلام وأعداء الأمة
النظام المصري يرعى أعداء الإسلام وأعداء الأمة

الخبر: ذكر موقع سبوتنيك عربي الثلاثاء 2021/5/4م، أن وزيرة الدفاع الفرنسية فلورانس بارلي قالت إن صفقة بيع 30 مقاتلة من طراز رافال إلى مصر ستساعد في الحفاظ على 7 آلاف فرصة عمل في فرنسا على مدى 3 سنوات، جاء ذلك في تصريحات للوزيرة الفرنسية، نقلتها وكالة رويترز للأنباء في اليوم نفسه، عقب إعلان الجيش المصري توقيع عقد مع فرنسا للحصول على 30 مقاتلة رافال، وفي وقت سابق من اليوم، قال المتحدث الرسمي باسم القوات المسلحة المصرية العقيد تامر الرفاعي، في بيان: "وقعت مصر وفرنسا عقد توريد 30 مقاتلة طراز رافال من خلال القوات المسلحة المصرية وشركة داسو أفياسيون الفرنسية المصنعة لتلك المقاتلة"، وتابع أنه "يتم تمويل العقد المبرم من خلال قرض تمويلي يصل مدته كحد أدنى 10 سنوات".

0:00 0:00
Speed:
May 06, 2021

النظام المصري يرعى أعداء الإسلام وأعداء الأمة

النظام المصري يرعى أعداء الإسلام وأعداء الأمة


الخبر:


ذكر موقع سبوتنيك عربي الثلاثاء 2021/5/4م، أن وزيرة الدفاع الفرنسية فلورانس بارلي قالت إن صفقة بيع 30 مقاتلة من طراز رافال إلى مصر ستساعد في الحفاظ على 7 آلاف فرصة عمل في فرنسا على مدى 3 سنوات، جاء ذلك في تصريحات للوزيرة الفرنسية، نقلتها وكالة رويترز للأنباء في اليوم نفسه، عقب إعلان الجيش المصري توقيع عقد مع فرنسا للحصول على 30 مقاتلة رافال، وفي وقت سابق من اليوم، قال المتحدث الرسمي باسم القوات المسلحة المصرية العقيد تامر الرفاعي، في بيان: "وقعت مصر وفرنسا عقد توريد 30 مقاتلة طراز رافال من خلال القوات المسلحة المصرية وشركة داسو أفياسيون الفرنسية المصنعة لتلك المقاتلة"، وتابع أنه "يتم تمويل العقد المبرم من خلال قرض تمويلي يصل مدته كحد أدنى 10 سنوات".

التعليق:


بينما يتضور أهل مصر جوعا وفقرا ويعانون على كل الأصعدة يبعثر النظام أموالهم، لا تلك التي في أيديهم الآن بل ما سيجنونها لعقود قادمة على صفقات أسلحة مشبوهة لا توجه لعدو مصر وأهلها بل توجه لهذا الشعب المنكوب تارة أو خدمة لمصالح أمريكا ولبسط سلطانها تارة أخرى، ليس هذا فقط بل لقد اعتاد النظام توريط البلاد في اتفاقيات وصفقات مشبوهة وقروض طويلة الأجل بعيدة المدى تكبل مصر وأهلها لعقود في ربقة التبعية للغرب الكافر، وكأنه لا يكفيه ما يصنع بالبلاد بل يعمل على ضمان تبعيتها للغرب في حال انقلبت الأوضاع وغادر هو وأمثاله حكمها، وكأن ما يبرمون من عقود واتفاقيات باطلة سيلزم أهل الكنانة لو وصل للحكم إدارة مخلصة، أو هكذا يظنون ويمنون أنفسهم.


ليست هذه هي السابقة الأولى لهذا النظام في إنقاذ اقتصاد دولة عدوة فقبل ذلك عقد اتفاقية مع كيان يهود يشتري بموجبها الغاز الذي يغتصبه يهود بالسعر العالمي ولمدة عشر سنوات بما قيمته 15 مليار دولار الأمر الذي اعتبره كيان يهود تاريخيا يوجب الاحتفال وعيدا له.


والآن يأتي لمساعدة فرنسا التي تجهر بعداء الإسلام وتتحدى مشاعر الأمة بالإساءة لنبيها بصفقة تضمن لفرنسا 7 آلاف فرصة عمل لا يملكها أهل مصر الذين سيتحملون الفاتورة من جهودهم وعرقهم ودمائهم فلم يبق النظام لهم شيئا غير ذلك، ولعلنا نجزم أن النظام المصري أقدم على هذه الصفقة بضوء أخضر من أمريكا حتى تغض طرفها عما يقوم به هو في ليبيا وعمله لبسط نفوذ أمريكا هناك ودعمه المستمر لعميلها حفتر في شرق ليبيا، دون النظر لما ستجلبه الصفقة من ويلات على مصر وأهلها، ولعل هذا ما أشار إليه عربي21 في 2021/5/5م، بأن العلاقات وصلت بين ماكرون ونظيره السيسي ذروتها، عندما قرر الأول في كانون الأول/ديسمبر الماضي منح الأخير وسام جوقة الشرف، ما أثار ردود فعل غاضبة في أوساط منظمات حقوق الإنسان، التي تتهم الأول بالتغاضي عن انتهاكات حقوق الإنسان، والثاني بارتكابها بشكل فج وقاس، امتنع ماكرون عن انتقاد السيسي بعد تزايد الضغوط عليه داخليا، حتى أعلنها صراحة وقال خلال مؤتمر صحفي بينهما في كانون الأول/ديسمبر الماضي "لن أجعل هذه الخلافات شرطا لتعاوننا في المجال الدفاعي، كما في المجال الاقتصادي".


السيسي ونظامه ليس في حاجة لتلك الطائرات بل فرنسا هي التي تحتاج لبيعها لتنعش اقتصادها وتحرك عملية الإنتاج والابتكار فيها، وهو ما أشارت إليه الوزيرة الفرنسية بتوفير الصفقة لـ7 آلاف فرصة عمل. فالمستفيد الوحيد من الصفقة هو خزائن الشركات الفرنسية، بينما في المقابل يزداد أهل مصر فقرا وجوعا ومرضا وتزداد نسب البطالة بينهم في ظل نظام لا يعجز عن حل المشكلات بل يسعى لإيجادها ولزيادة حدتها بقراراته الكارثية، لن نقول إنها ليست مدروسة بل هي مدروسة وغايتها كما أسلفنا أن تتغاضى فرنسا عن انتهاكات النظام المصري المختلفة دون النظر لما سيعانيه أهل مصر في المقابل، فالنظام لا يعنيه إلا بقاؤه مدعوما من سادته في الغرب، ولو كان هذا على جثث أهل مصر جميعهم.


إن أي نظام يسعى لتقوية بلاده لا يثقلها بقروض واتفاقيات تكبلها وتضع قراراتها تحت مقصلة أعدائها، بل يسعى لكي تمتلك بلاده زمام أمورها وبيدها، وما تملكه مصر بحدود سايكس بيكو الضيقة من طاقات وموارد حقيقية يخفي حجمها النظام عن الناس كفيل لا بأن تصنع مصر سلاحها فقط بل لتصبح من مصدري الأسلحة للعالم ولأن تكون مصر دولة كبرى مؤثرة وفاعلة في المسرح الدولي بشرط واحد وهو أن تتولى قيادتها إدارة مخلصة تحمل مشروعا حقيقيا للنهضة بعيدا عن الغرب ورأسماليته.


نعم فمصر لا تحتاج لاستيراد طائرات من فرنسا ولا من غير فرنسا بل تحتاج مشروعا يمكنها من تصنيع وإنتاج كل ما تريد وتطويره والإبداع فيه، وهذا لن تتمكن مصر منه في ظل حكام عملاء يحكمونها بأنظمة الغرب الرأسمالية بل ستتمكن منه عندما تقتلع الغرب وعملاءه ورأسماليته ويحكمها الإسلام بنظامه ودولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة والتي ستؤسس لصناعات تجعل مصر والأمة في مقدمة العالم بل تمكن الأمة بما فيها من خيرات وثروات وطاقات من الاكتفاء في كل شيء، بعيدا عن تسلط الغرب وتوحشه.


إن مصر والأمة بعمومها في حاجة للدولة التي تخشاها فرنسا؛ دولة الإسلام الخلافة بعدلها لتقوم الموازين المعوجة وتعيد للأمة حقوقها المسلوبة بعد أن توقف سيل نهب ثرواتها، اللهم عجل بها واجعل مصر حاضرتها واجعلنا اللهم من جنودها وشهودها.


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سعيد فضل
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست