النظام المصري يسعى لتكريس التبعية ورعاية الغرب ومصالحه بعيدا عن الأمة ومصالحها
النظام المصري يسعى لتكريس التبعية ورعاية الغرب ومصالحه بعيدا عن الأمة ومصالحها

الخبر: ذكرت اليوم السابع على موقعها الخميس 2024/12/05م، وصف السفير المصري لدى الدنمارك محمد كريم شريف، زيارة الرئيس المصري إلى الدنمارك بالتاريخية، مشيرا إلى أن الزيارة هي الأولى لرئيس مصري وتأتى بناء على دعوة من ملك وملكة الدنمارك ورئيسة الوزراء ميتي فريديريكسن. وأكد شريف توطد العلاقة بين مصر والدنمارك خلال العامين الماضيين في كافة المجالات وخصوصا في إطار التحول الأخضر وموضوعات التغير المناخي مع استضافة مصر مؤتمر COP27، مشيرا إلى أن كوبنهاجن لاعب فاعل في مؤتمرات تغير المناخ ورائدة في مجال التغير المناخي. ...

0:00 0:00
Speed:
December 07, 2024

النظام المصري يسعى لتكريس التبعية ورعاية الغرب ومصالحه بعيدا عن الأمة ومصالحها

النظام المصري يسعى لتكريس التبعية

ورعاية الغرب ومصالحه بعيدا عن الأمة ومصالحها

الخبر:

ذكرت اليوم السابع على موقعها الخميس 2024/12/05م، وصف السفير المصري لدى الدنمارك محمد كريم شريف، زيارة الرئيس المصري إلى الدنمارك بالتاريخية، مشيرا إلى أن الزيارة هي الأولى لرئيس مصري وتأتى بناء على دعوة من ملك وملكة الدنمارك ورئيسة الوزراء ميتي فريديريكسن. وأكد شريف توطد العلاقة بين مصر والدنمارك خلال العامين الماضيين في كافة المجالات وخصوصا في إطار التحول الأخضر وموضوعات التغير المناخي مع استضافة مصر مؤتمر COP27، مشيرا إلى أن كوبنهاجن لاعب فاعل في مؤتمرات تغير المناخ ورائدة في مجال التغير المناخي. وأشار إلى لقاء رئيسة وزراء الدنمارك مع السيسي في آذار/مارس 2020 على هامش القمة الأفريقية الأوروبية التي عقدت في بروكسل، مؤكدا أن هذا اللقاء شهد انطلاق وتعزيز العلاقات بين البلدين، بعدها أعقبتها زيارة رئيسة الوزراء إلى القاهرة في آذار/مارس 2023، وذلك تلبية لدعوة السيسي حيث شهدت الزيارة الكثير من التقارب في وجهات النظر خاصة في موضوعات تغير المناخ والتحول الأخضر والهجرة، بالإضافة للقضايا الإقليمية والدولية ذات الاهتمام المشترك بين البلدين.

التعليق:

وصف إعلام النظام هذه الزيارة بالتاريخية، مشيراً إلى أنها الأولى لرئيس مصري. وقد عُرضت الزيارة كفرصة لتعزيز التعاون بين مصر والدنمارك في مجالات مختلفة، مثل التحول الأخضر والتغير المناخي، بالإضافة إلى إطلاق شراكة استراتيجية بين البلدين. لكن، ومن زاوية الإسلام، فإن هذه الزيارة ليست إلا جزءاً من سلسلة سياسات التبعية التي ينتهجها النظام المصري، متجاهلاً قضايا الأمة الإسلامية، ومستبدلاً علاقات تخدم المصالح الغربية بأولوياتها الحقيقية.

النظام المصري يسعى إلى تعزيز العلاقات مع الدنمارك، التي لا تربطها بمصر سوى مصالح غربية خالصة. فالدنمارك ليست مجرد دولة صغيرة على الهامش الأوروبي، لكنها واحدة من الدول التي أساءت مراراً إلى مقدسات الأمة الإسلامية، كما حدث في قضية الرسوم المسيئة للنبي ﷺ. فلا يجوز أن نضع أيدينا في يد من أساؤوا لديننا ونبينا ﷺ، وهذه الزيارة تأتي تأكيداً على مدى ضعف هذا النظام الذي يرى في الدنمارك شريكاً استراتيجياً، بينما يغيّب قضايا الأمة الحقيقية.

يدّعي النظام أن الزيارة تركز على قضايا التحول الأخضر والتغير المناخي، وهي موضوعات تتصدر الأجندة الغربية. لكن في الحقيقة، هذه القضايا ليست سوى ذريعة لفرض سياسات اقتصادية تخدم مصالح الدول الغربية والشركات الكبرى، على حساب الشعوب الفقيرة في بلادنا. إن مصر، التي تعاني من أزمات اقتصادية خانقة نتيجة سياسات النظام الفاشلة، ليست في وضع يسمح لها بالتصرف كشريك استراتيجي في قضايا لا تعالج مشاكلها الحقيقية، كالفقر والبطالة والفساد والتضخم وغيرها من الأزمات التي أنتجتها رأسمالية الغرب.

ما يثير الاستغراب هو انشغال النظام المصري بزيارة الدنمارك وتوقيع مذكرات تفاهم لا تعني شيئاً للشعب المصري، في وقت تعاني فيه الأمة الإسلامية من قضايا مصيرية. فالاحتلال لا يزال جاثماً على أرض فلسطين، واللاجئون المسلمون يعانون في أصقاع الأرض، والحروب الأهلية تشتعل في بلادنا من دون أي تحرك حقيقي من النظام، فأين هو من قضايا الأمة؟ أين هو من توحيد المسلمين تحت راية الخلافة؟ أين هو من تحرير المقدسات الإسلامية؟!

يزعم النظام أن هذه الزيارة ستؤدي إلى توقيع إعلان شراكة استراتيجية، وكأن الدنمارك أو الاتحاد الأوروبي يرون في مصر شريكاً حقيقياً. لكن الحقيقة هي أن هذه الشراكة ليست إلا وسيلة لتكريس الهيمنة الغربية على مقدرات الأمة الإسلامية. فالغرب ينظر إلى بلادنا على أنها مجرد سوق لمنتجاته، ومصدر للموارد الخام، وموقع استراتيجي لخدمة مصالحه، والحل الوحيد لكل هذه السياسات الفاشلة والزيارات العبثية هو العودة إلى الإسلام وتحكيم شرعه، فالأمة الإسلامية بحاجة إلى قيادة مخلصة تعمل على توحيد بلادها تحت راية الخلافة، قيادة تجعل قضاياها أولويتها، وتتصدى للمخططات الغربية التي تهدف إلى إضعافها وتهميش إسلامها.

يا أهل الكنانة: إن زيارة السيسي للدنمارك هي حلقة أخرى في سلسلة السياسات التي تجعل بلادنا رهينة لأعدائنا. إن الغرب، بكل شعاراته البراقة عن الشراكة والاستدامة، لا تعنيه إلا مصالحه. أما نظام السيسي، فإنه لا يمثلكم، بل هو أداة لتحقيق أهداف الغرب. لهذا، فإن مسؤوليتكم العمل على إسقاطه، وإقامة دولة الإسلام التي تعيد لكم ولأمتكم مكانتكم بين الأمم.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود الليثي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست