النظام المصري يستمر في خيانته لفلسطين
النظام المصري يستمر في خيانته لفلسطين

في 6 كانون الثاني/يناير، نشرت صحيفة نيويورك تايمز مقالاً بعنوان "الأشرطة المسجلة تكشف قبولاً ضمنياً للقادة المصريين لنقل القدس". وذكر المقال أن الحكومة المصرية كانت تنتقد علناً إعلان الرئيس ترامب الشهر الماضي بأن أمريكا ستعترف بمدينة القدس كعاصمة لكيان يهود، حيث طلب ضابط مخابرات مصري من عدد من المضيفين المؤثرين في التلفزيون المصري إقناع المصريين بقبول القرار. وذكرت الصحيفة أنها حصلت على تسجيلات صوتية سمع فيها النقيب أشرف الخولي يقول للمضيفين بأن مصر مثل "إخوانها العرب" تندد بهذه المسألة "ولكن" بعد ذلك سيصبح هذا الشيء حقيقةً واقعيةً، ولا يمكن للفلسطينيين أن يقاوموا ونحن لا نريد أن نبدأ حرباً، بل لدينا ما يكفينا من المشاكل كما تعلمون".

0:00 0:00
Speed:
January 11, 2018

النظام المصري يستمر في خيانته لفلسطين

النظام المصري يستمر في خيانته لفلسطين


(مترجم)

الخبر:

في 6 كانون الثاني/يناير، نشرت صحيفة نيويورك تايمز مقالاً بعنوان "الأشرطة المسجلة تكشف قبولاً ضمنياً للقادة المصريين لنقل القدس". وذكر المقال أن الحكومة المصرية كانت تنتقد علناً إعلان الرئيس ترامب الشهر الماضي بأن أمريكا ستعترف بمدينة القدس كعاصمة لكيان يهود، حيث طلب ضابط مخابرات مصري من عدد من المضيفين المؤثرين في التلفزيون المصري إقناع المصريين بقبول القرار. وذكرت الصحيفة أنها حصلت على تسجيلات صوتية سمع فيها النقيب أشرف الخولي يقول للمضيفين بأن مصر مثل "إخوانها العرب" تندد بهذه المسألة "ولكن" بعد ذلك سيصبح هذا الشيء حقيقةً واقعيةً، ولا يمكن للفلسطينيين أن يقاوموا ونحن لا نريد أن نبدأ حرباً، بل لدينا ما يكفينا من المشاكل كما تعلمون". وسمع أيضاً الخولي وهو يلمح للمضيفين بأن الفلسطينيين يجب أن يتركوا نضالهم من أجل القدس وأن يتكاتفوا مع مدينة رام الله بالضفة الغربية التي هي معقل السلطة الفلسطينية حالياً. وقال: "كيف تختلف القدس عن رام الله، حقاً؟" و"إن الامتيازات أمر لا بد منه، وإذا وصلنا إلى تنازلات تكون القدس من ضمنها - فستكون رام الله عاصمة فلسطين، لإنهاء الحرب، حيث لن يموت أي شخص آخر، لذلك سنقبل بهذه التنازلات". ووفقاً لصحيفة نيويورك تايمز، فقد قال خولي بأن ردود الفعل على قرار أمريكا بشأن القدس هو أمر "خطير" و"قضية للانتفاضة"، معلقاً على أن "الانتفاضة لن تخدم مصالح الأمن القومي المصري لأن الانتفاضة ستعيد إحياء الإسلاميين وحماس". (nytimes.com)

التعليق:

إن استمرار الخيانة للأرض المباركة فلسطين من قبل الحكومات المصرية العلمانية المتعاقبة معروف وموثق. ومع ذلك، فاليوم، وفي ظل حكم الدكتاتور القاتل عميل أمريكا، عبد الفتاح السيسي، وصلت هذه الخيانات إلى مستوى آخر. وقال ناثان ثرال، وهو محلل كبير في قضايا القدس وعضو في مجموعة الأزمات الدولية (ICG)، "إن العلاقات المصرية (الإسرائيلية) اليوم على أعلى مستوى في التاريخ". وهي نقطة أكدها العديد من المحللين السياسيين في المنطقة الذين ذكروا أن الدولة المصرية وكيان يهود المحتل يشهدون أقرب تعاون على مدى عقود، وخاصة في المجال الأمني والعسكري، بما في ذلك ضد الجماعات المسلحة في غزة وفي صحراء سيناء المصرية. وذكرت وكالة الأنباء بلومبرج، أن كيان يهود نفذ ضربات الطائرات بدون طيار في سيناء بموافقة الحكومة المصرية.

إن التواطؤ الإجرامي للسلطات المصرية مع كيان يهود المحتل، تحت قيادة السيسي، لخنق المسلمين في غزة من خلال المساعدة في حصار يهود للقطاع من خلال فرض الحصار المفروض على معبر رفح، وبالتالي منع إخواننا وأخواتنا المسلمين من الحصول على الاحتياجات الأساسية مثل الوقود والمواد الغذائية والأدوية ومن تلقي العلاج الطبي، فضلاً عن تعاون النظام المصري مع المحتلين لتدمير شبكة الأنفاق الفلسطينية الضخمة، كل ذلك هو من الأمور المعروفة. وذكرت بلومبرج أن الحكومتين تقتربان أيضاً من تأمين صفقة غاز جديدة بملايين الدولارات. وفي أيار/مايو 2016، أدخل نظام السيسي الكتاب المدرسي المعنون "جغرافيا العالم العربي وتاريخ مصر الحديثة" إلى المدارس المصرية التي تضمنت لغة أكثر شموليةً ووديةً نحو كيان يهود، وزيادة التركيز على السلام مع الكيان المحتل القاتل... كما اختصر الكتاب تاريخ الصراع مع كيان يهود من 32 صفحة إلى 12 صفحة. وإلى جانب ذلك، فإنه الآن يطلب من الطلاب المصريين في الصف التاسع حفظ أحكام معاهدة السلام بين مصر وكيان يهود عام 1979.

ويصف محمد سليمان، وهو محلل سياسي مقره القاهرة، المرحلة الحالية في هذه العلاقة بين مصر والاحتلال بأنها "شراكة كاملة وتحالف غير قابل للكسر وأنه إنجاز دبلوماسي" بين الحكومتين، في حين إن وليد المدلل، رئيس قسم العلوم السياسية في الجامعة الإسلامية في غزة، قال للجزيرة إنه بغض النظر عن هذه "العلاقة الوثيقة" فإنه ليس من الواضح له "كيف يمكن لمصر أن تضغط على (إسرائيل) لتستجيب لحقوق الفلسطينيين"، بدلاً من ذلك، "يبدو أنه على العكس من ذلك، فإن مصر ستضغط على الفلسطينيين للتخلي أكثر فأكثر لصالح الأهداف (الإسرائيلية)".

وكما نعلم، فإن هذه الخيانة الإجرامية لفلسطين ليست خاصة فقط بالحكومات المصرية العلمانية المتعاقبة، ولكنها خيانة من قبل كل الحكام والأنظمة في العالم الإسلامي منذ تدمير الخلافة. وفي الوقت الذي كانت فيه هذه الحكومات الخسيسة تتغنى بأهمية القدس، وبأهمية هذه الأرض المباركة، كانت تساعد كيان يهود على تعزيز احتلاله لفلسطين. في الواقع، لقد كانت بمثابة المساعد الأكبر لكيان يهود وقوة الدفاع عنه! على سبيل المثال، قبل أيام قليلة من إعلان ترامب، ذكر أن ولي العهد السعودي محمد بن سلمان حث الرئيس الفلسطيني محمود عباس بشكل خاص على قبول رؤية إقامة دولة بدون عاصمة في القدس الشرقية. وفي الواقع، في أيلول/سبتمبر 2017، قال رئيس وزراء كيان يهود نتنياهو في تجمع في وزارة الخارجية إن كيان يهود يتمتع اليوم بمستوى كبير من التعاون مع الدول العربية أكبر مما كان عليه خلال تاريخه.


من المؤكد أن الوقت قد حان كي تضع الأمة حداً لحكم هذه الأنظمة الغادرة وتقيم وعلى وجه السرعة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة التي ستحرر الأرض المباركة مرة واحدة وإلى الأبد وتعيدها تحت ظلها المجيد، وتحت حكم النظام الإسلامي، وتجعل القدس عاصمة لدولة المسلمين!

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
د. نسرين نواز
مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست