النظام المصري يتسول المساعدات ويجعل من جيشها مرتزقة لخدمة أمريكا وأداة لبسط نفوذها
النظام المصري يتسول المساعدات ويجعل من جيشها مرتزقة لخدمة أمريكا وأداة لبسط نفوذها

الخبر:   نقلت بوابة الفجر في 2018/8/8 قول السفير محمد حجازي، مساعد وزير الخارجية الأسبق، إن زيارة وزير الخارجية سامح شكري لأمريكا تأتي بعد انفراجة في المساعدات العسكرية الأمريكية لمصر، لافتًا إلى أن أمريكا يمكنها تحقيق العديد من التسويات في المنطقة، ومن الممكن أن تظل شريكًا في حل القضية الفلسطينية إذا ما تم الاتفاق على إقامة الدولة الفلسطينية على أساس حل الدولتين.

0:00 0:00
Speed:
August 19, 2018

النظام المصري يتسول المساعدات ويجعل من جيشها مرتزقة لخدمة أمريكا وأداة لبسط نفوذها

النظام المصري يتسول المساعدات

ويجعل من جيشها مرتزقة لخدمة أمريكا وأداة لبسط نفوذها

الخبر:

نقلت بوابة الفجر في 2018/8/8 قول السفير محمد حجازي، مساعد وزير الخارجية الأسبق، إن زيارة وزير الخارجية سامح شكري لأمريكا تأتي بعد انفراجة في المساعدات العسكرية الأمريكية لمصر، لافتًا إلى أن أمريكا يمكنها تحقيق العديد من التسويات في المنطقة، ومن الممكن أن تظل شريكًا في حل القضية الفلسطينية إذا ما تم الاتفاق على إقامة الدولة الفلسطينية على أساس حل الدولتين.

التعليق:

قبل أيام زار وزير الخارجية المصري سامح شكري أمريكا والتقى فيها وزير خارجية أمريكا، وحسب تصريح المتحدثة باسم وزارة الخارجية الأمريكية أنهما "ناقشا الشراكة القوية بين مصر والولايات المتحدة، والمساعدات العسكرية الأمريكية لمصر، والتعاون الوثيق حول القضايا الأمنية الثنائية والإقليمية، بما في ذلك سوريا وليبيا، والجهود المبذولة لدفع السلام بين (إسرائيل) والفلسطينيين". وتزامنت هذه الزيارة مع محاولة تفجير كنيسة العذراء بالقليوبية، واستغلال النظام لها كحدث يروج لما يدعيه من حرب على (الإرهاب) في مصر واستجداء وتسول المزيد من المساعدات والحرص على ديمومتها وعدم تأثرها بما يمارسه النظام من قمع لمعارضيه بدعوى أنه يحارب (الإرهاب)، وقبلها بيوم كان شكري قد التقى مستشار الأمن القومي الأمريكي جون بولتون وشدد خلال لقائه معه على أهمية برنامج المساعدات لمصر وأمريكا وأنه يعكس أهمية وخصوصية العلاقات المصرية الأمريكية عبر عقود طويلة من الزمن، وأنه يحقق مصالح مشتركة للطرفين ويعزز من القدرات المصرية في مواجهة التحديات الأمنية وتعزيز السلم والأمن في المنطقة، وبالتالي من المهم توفير عناصر الدعم والحماية له وتحصينه من أي اهتزازات أو اضطرابات، وكأن النظام لم يكتف بالتحصين في مصر بل للتحصين أمام الشعب الأمريكي أيضا الذي يحاسب حكومته على ما تقدمه لمثل تلك الأنظمة من مساعدات.

يا أهل مصر الكنانة! هذا هو النظام الذي يحكمكم لا يعبأ بدمائكم ولا تعنيه إلا بقدر تربّحه من خلالها واستغلالها فيما يخدم قضايا الغرب ويعزز نفوذه وسلطانه في بلاد الإسلام، فالنظام الذي يحرص على تلك المساعدات يعلم أنكم لا تنالون منها شيئا وأنها ليست سوى رشوة لقادة العسكر تبقي ولاءهم لأمريكا وتجعل تسليح الجيش وقراراته مرتبطة بما يحقق ويخدم مصالحها وما يساعد على تثبيت وتعزيز وبسط نفوذها في بلاد الإسلام، وهذا ما يسوق به النظام نفسه فهو يؤكد استعداده بل ويعمل جاهدا لخدمة أمريكا في ليبيا بدعم عميلها حفتر، ويساعد في تثبيت نفوذها في سوريا ووأد ثورة أهلها شأنه شأن كل الأنظمة حتى من ادعى الإسلام منها، ثم هو يتبنى رؤية أمريكا لحل القضية الفلسطينية ويكاد يكون سمسار أمريكا الأهم في هذه الصفقة التي يرجى منها أن تنسى الأمة قدسها المقدسة وتتعايش مع وجود هذا الكيان المسخ داخل جسدها، وكلنا نعرف عن صفقة شراء الغاز من كيان يهود، نعم هذا هو النظام لا يعنيه سوى رضا السادة في البيت الأبيض والسعي لنيل حظوتهم ولو على رقابكم ولو قدم في سبيل ذلك دماءكم وأجسادكم وعرضكم، أما أموالكم وثرواتكم فقد قدمها سابقا فهي الآن نهب للغرب وشركاته تحت غطاء منح حق الامتياز والتنقيب، وحتى جهدكم يسرق منكم بهذا الورق الذي يدفع لكم بلا قيمة ذاتية والمسمى عملة ورقية، وبعد كل هذا يطالبكم بالصبر والتحمل دون أي بادرة أمل سوى بيعكم الوهم.

يا أهل الكنانة! إن مصر في ظل هذا النظام لن تنهض ولو نفذ النظام ما يعد به الناس فهذا النظام يحمل فشله معه ولن يفلح أبدا في علاج مشكلاتكم؛ أولا لأنه من نتاج عقل بشري قاصر، وثانيا لأنه لا ينسجم مع عقيدتكم وفطرتكم، وثالثا وأخيرا فإنه لا يسعى لعلاج مشكلاتكم بل يعمل على بقائها والتربح منها لصالح السادة أصحاب الرأس مال.

يا أهل الكنانة! إن دواءكم في أيديكم وعلاج مشكلاتكم ليس بعيدا عنكم بل أقرب مما تظنون، بتطبيق البديل الحقيقي الواضح الذي يحمل نجاحه معه؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة؛ نظام أتى به وحي الله على نبيه r وينسجم مع عقيدتكم ويوافق فطرتكم ويسعى على الحقيقة لعلاج مشكلاتكم بحلول جذرية دون النظر لما قد يعود أو لا يعود على الدولة بعد تقديم العلاج أو القيام بواجب رعاية الناس، فهي في ظل الإسلام ونظامه دولة رعاية لا دولة جباية، تحكمها أحكام الشرع المنزل لا أهواء أصحاب رؤوس الأموال، فيا أهل الكنانة! دونكم هذا الدواء ومن يحملونه لكم غير راغبين من ورائه بفضل ولا أجر إخوانكم شباب حزب التحرير فلا تردوا أيديهم، وتقبلوا دعوتهم التي يصلح الله حالكم وطالبوا أبناءكم المخلصين في جيش الكنانة بنصرتهم لتحقيق الغاية التي تنهض بمصر والأمة نهضة حقيقية تعيد العزة للإسلام وأهله وتقضي على عقود التبعية للغرب وهيمنته على بلادنا ونهب ثرواتنا ومقدراتنا وتعيده إلى عقر داره خائبا غير آمن هذا إن بقي له عقر دار، فشمروا لها فالأمر جد لا هزل والغرب يجيش جنوده وعملاءه لمنعكم منها والحيلولة دون يوم عزكم القريب في ظلها إن شاء الله، فأبطلوا مكره وأحبطوا كيده بنصرة تقام بها الدولة التي تطبق الإسلام فيكم تطبيقا عمليا يرضي ربكم ويرى الناس واقعه بينكم فيدخلون في دين الله أفواجا، فيا لعزكم وسعدكم حينها... نسأل الله أن يكون قريبا وأن نكون معكم من جنوده وشهوده.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست