النظام الرأسمالي الاستعماري يفقر الناس والسلطة تزيد أهل فلسطين فقرا وعوزا!
النظام الرأسمالي الاستعماري يفقر الناس والسلطة تزيد أهل فلسطين فقرا وعوزا!

الخبر:   ينشغل أهل فلسطين في هذه الأيام بمسألة ارتفاع أسعار السلع الأساسية، والتي تتزامن مع حديث من قيادة السلطة الفلسطينية عن بوادر أزمة مالية قد تنعكس على رواتب الموظفين، وهو ما قد يؤدي إلى انتكاسة اقتصادية كبيرة، يتأثر بها أصحاب الدخل المحدود، والذين سوف يجدون أنفسهم خلال أشهر غير قادرين على شراء احتياجاتهم الأساسية. ...

0:00 0:00
Speed:
November 01, 2021

النظام الرأسمالي الاستعماري يفقر الناس والسلطة تزيد أهل فلسطين فقرا وعوزا!

النظام الرأسمالي الاستعماري يفقر الناس

والسلطة تزيد أهل فلسطين فقرا وعوزا!

الخبر:

ينشغل أهل فلسطين في هذه الأيام بمسألة ارتفاع أسعار السلع الأساسية، والتي تتزامن مع حديث من قيادة السلطة الفلسطينية عن بوادر أزمة مالية قد تنعكس على رواتب الموظفين، وهو ما قد يؤدي إلى انتكاسة اقتصادية كبيرة، يتأثر بها أصحاب الدخل المحدود، والذين سوف يجدون أنفسهم خلال أشهر غير قادرين على شراء احتياجاتهم الأساسية.

وتشير المعلومات إلى أن السلع الأساسية في السوق الفلسطينية يتحكم بها عدد محدود من الأشخاص، ويديرون عددا محدودا من الشركات المسيطرة على قطاعات معينة، ووفق ما هو معلن بمواقع الشركات الرسمية، فإن الجهات الرسمية حاضرة في مجالس إدارة هذه الشركات، لكن على شكل رجال أعمال وتجار. (شبكة قدس الإخبارية، بتصرف)

التعليق:

تعيش البشرية ظلم الرأسمالية في جميع مناحي الحياة، فقد وصلت نتائج تطبيق هذا النظام المتوحش إلى أدق تفاصيل حياة البشر فحولتها إلى جحيم لا يطاق، وما تعيشه البشرية من ارتفاع عالمي للأسعار ليس إلا أحد نتائج فساد الرأسمالية ومعالجاتها الاقتصادية التي تضمن مصالح رؤوس الأموال والشركات العملاقة والدول الاستعمارية على حساب الفقراء والشعوب المسحوقة والمستعمرة، وليس أدل على ذلك من ازدياد الأغنياء غنى لا مثيل له في تاريخ البشرية، فقد أظهرت وسائل الإعلام أن ٢٪ من ثروة مدير شركة تسلا أيلون ماسك كفيلة بإطعام كل جوعى الأرض!

إن المعالجات والخطط الاقتصادية التي يضعها المستعمرون تصمم فقط لضمان مصالحهم واستمرار نهبهم لثروات الشعوب وتقوم الأنظمة العميلة لهم بتنفيذها في بلادنا.

إن ارتفاع الأسعار العالمي جاء انعكاسا لسياسات ومعالجات الدول الاستعمارية، فقد زاد التضخم نتيجة ضخ تلك الدول الأموال في الأسواق في ظل معالجتهم لأزمة كورونا وصاحب ذلك تراجع في الإنتاج بسب إجراءات مكافحة كورونا، فكثرت الأموال مقابل قلة السلع وهو ما يعني ارتفاع الأسعار حسب قانون العرض والطلب.

يضاف إلى ذلك التصنيفات التي فرضتها الدول وتقييد حرية التنقل ما تسبب بانحسار خيارات الاستيراد، أي ندرة المصادر. وبلاد المسلمين بسبب عمالة الحكام للغرب تعتمد على الاستيراد فمن الحتمي أن تزيد الأسعار لندرة المصادر المتاحة للاستيراد وارتفاع أسعار الشحن عالميا وخاصة من الصين نتيجة الصراع الأمريكي الصيني وتداعيات كورونا وارتفاع أسعار الطاقة نتيجة الصراعات والتنافس الاستعماري ما يزيد في تكلفة الإنتاج والنقل وبالتالي زيادة حتمية في الأسعار.

وفي ظل توحش هذا النظام الرأسمالي المنتج للأزمات وضنك العيش للبشرية فإن السلطة الفلسطينية تزيد الناس فقرا وعوزا بالمكوس والضرائب الباهظة التي تجنيها من أهل فلسطين المظلومين والرازحين تحت احتلال كيان يهود.

إن سياسات السلطة الفلسطينية الاقتصادية تصاغ لتضمن مصالح المتنفذين فيها، ففساد السلطة ورجالها ظاهر في المشاريع الخدماتية التي وجدت في الأصل لإعانة الناس ومساعدتهم، وفي سيطرة رجالها الفاسدين، تلك الطبقة من الرأسماليين الذين يحتكرون عددا من المنتجات، على الأسواق، حتى أضحت البلاد مزرعة لهم وسوقا لاحتكاراتهم.

إن السلطة لم تفعل شيئا ولن تفعل من أجل زيادة الإنتاج وتوفير المواد والبضائع، لأنها منشغلة في التنسيق الأمني والجري خلف المؤسسات الدولية والأممية ووهم المجتمع الدولي وسراب حل الدولتين، فهي لم تبذل جهدا حقيقيا على صعيد زيادة الإنتاج وتوفير السلع أو بناء اقتصاد حقيقي.

إن السلطة الفلسطينية التي تدعي حرصها على مصالح الناس يمكنها العمل على التخفيف من الأسعار وغلائها إذا ما خففت أو أزالت الضرائب والجمارك التي تصل في بعضها إلى 300%، أي أن سعر بعض البضائع في السوق أكثر من ثلاثة أضعاف ثمنها الأصلي يدفعها الناس لجيوب السلطة والفاسدين فيها.

إن السلطة لا تريد تلك الحلول التي تساهم في التقليل الفعلي من الأسعار، وتلجأ لمعالجات عقيمة، فمحاولة فرض الأسعار والتسعير، إجراء محرم وقد عده الإسلام مظلمة، والبديل عنها إن كانت السلطة جادة في معالجة ارتفاع أسعار بعض السلع وبعد أن تكبح جماح أزلامها وعظام رقبتها، البديل هو أن تعمد إلى توفير البديل بالأسعار المخفضة أو الطبيعية حيث سيجبر ذلك المستغلين إلى النزول إلى سعر السوق والعودة خائبين إلى الأسعار الحقيقية.

إن على السلطة لو أرادت معالجة حقيقية أن تقوم بدعم السلع الاستهلاكية الأساسية برفع الضرائب عنها وبالمساهمة في دفع جزء من ثمنها كما تفعل كثير من الدول في برامج الدعم والتوفير خاصة لشريحة الفقراء، لكن السلطة بدل ذلك تقوم برفع أسعار الخدمات والرسوم بلا مبرر سوى الجشع وعقلية الجباية والتكسب من أهل فلسطين المظلومين، فالخدمات والرسوم غير مرتبطة ارتباطا مباشرا بالسلع والبضائع العالمية وهي إن كانت تتأثر ولكنه تأثر بسيط لا يذكر أمام ما تسرقه السلطة ومؤسساتها من الناس بالضرائب والمكوس في ظل الأسعار الحالية.

إن السلطة لا تضع في اعتباراتها مصالح الناس الحقيقية، ولو كانت تدعي ذلك فيجب أن تقوم بدعم الخبز والطحين والسكر والزيت والدواجن والخضراوات، وغيرها، بدل تكريس الميزانيات الضخمة للأجهزة الأمنية ومشاريع الإفساد والمباريات النسوية على حساب لقمة الخبز لأهل فلسطين.

إن سلوك السلطة ومعالجاتها العقيمة تشكل وصفة للضغط على أهل فلسطين وتهجيرهم من الأرض المباركة، فارتفاع الأسعار في الأرض المباركة يصب دوما في مصلحة كيان يهود وضغطهم على أهل فلسطين اقتصاديا لدفعهم للهجرة وتقليل أعدادهم في الأرض المباركة، فالأسعار والضغط الاقتصادي على أهل فلسطين بالضرائب والمكوس سلاح لتهجيرهم وإفراغ الأرض المباركة من أهلها.

إن هذا الظلم الذي تكابده البشرية والظلم المضاعف الذي يكابده أهل فلسطين لا حل له إلا بتطبيق شرع الله في دولة الخلافة على منهاج النبوة التي تطبق الإسلام الذي يضمن العيش الكريم للبشرية وتقتلع الاحتلال من الأرض المباركة فتعيد للناس كرامتهم وعزتهم، فإلى خلع الأنظمة العميلة للغرب وإقامة الخلافة على منهاج النبوة يجب أن تصب كل جهود المخلصين وأهل القوة في الأمة الإسلامية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور مصعب أبو عرقوب

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في الأرض المباركة (فلسطين)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست