النظام السعودي يستعد لخلع قناعه الزائف ليكشف عن وجهه القبيح
النظام السعودي يستعد لخلع قناعه الزائف ليكشف عن وجهه القبيح

الخبر:   بدأت المناظرة بين الأمير تركي الفيصل، الرئيس الأسبق للمخابرات السعودية، والجنرال في كيان يهود يعقوب عميدرور، مستشار الأمن القومي لدولة يهود السابق، بمصافحة بينهما في لحظة نادرة في تاريخ المملكة وكيان يهود رغم عدم وجود أي علاقات رسمية تربط بين البلدين. وقال روبرت ساتلوف المدير التنفيذي لمعهد واشنطن لسياسة الشرق الأدنى، الذي استضاف الحوار عن "الأمن والسلام في الشرق الأوسط"، في بداية اللقاء: "لقد قمنا باللحظة الرمزية المهمة في البداية، وهي المصافحة على المنصة، وشكرا جزيلا لكما على ذلك، واسمحوا لنا أن نبدأ".

0:00 0:00
Speed:
May 18, 2016

النظام السعودي يستعد لخلع قناعه الزائف ليكشف عن وجهه القبيح

النظام السعودي يستعد لخلع قناعه الزائف ليكشف عن وجهه القبيح

الخبر:

بدأت المناظرة بين الأمير تركي الفيصل، الرئيس الأسبق للمخابرات السعودية، والجنرال في كيان يهود يعقوب عميدرور، مستشار الأمن القومي لدولة يهود السابق، بمصافحة بينهما في لحظة نادرة في تاريخ المملكة وكيان يهود رغم عدم وجود أي علاقات رسمية تربط بين البلدين. وقال روبرت ساتلوف المدير التنفيذي لمعهد واشنطن لسياسة الشرق الأدنى، الذي استضاف الحوار عن "الأمن والسلام في الشرق الأوسط"، في بداية اللقاء: "لقد قمنا باللحظة الرمزية المهمة في البداية، وهي المصافحة على المنصة، وشكرا جزيلا لكما على ذلك، واسمحوا لنا أن نبدأ". وأضاف: "إنه لمن دواعي سرورنا أن نستضيف هذا الحدث وما يحمله من طابع رمزي حيوي ولكن لا أعتقد أن كل الجمهور قد حضر إلى هنا من أجل الرمزية فقط"، وتابع: "بل لأن هذين السيدين قد عملا لعقود في خدمة بلديهما في ظل اضطراب الشرق الأوسط، وأعتقد أنها فرصة للاستفادة من رؤيتهما حول القضايا المهمة التي نواجهها في الشرق الأوسط اليوم". (CNN بتصرف بسيط)

التعليق:

لو وضعنا هذه المصافحة جنبا إلى جنب مع ذلك الخبر الذي أورده موقع Veterans Today الأمريكيّ البحثيّ الذي كشف النقاب عن معلومات تُفيد بإبرام مذكرة تفاهم حول التعاون العسكري المشترك بين دولة يهود والسعودية في البحر الأحمر منذ العام 2014، كما ذكر الموقع أن كيان يهود استضاف عددًا من الضباط في السعودية للمشاركة في دورات تدريبية عسكرية في قاعدة البولونيوم من ميناء حيفا في عام 2015. وكشف الموقع عن أسماء المشاركين في الدورات من السعودية، ونشر الأسماء والرُتّب باللغة العربيّة. بجانب ما ورد في رؤية (2030) التي أعلن عنها ولي ولي العهد السعودي والتي ورد فيها الحديث عن علاقات مميزة مع دول الجوار غير الخليجية والتي قد يقصد بها إيران أو كيان يهود أو كليهما، فالتعمية في استعمال الألفاظ مقصودة هنا للتضليل، بجانب تنازل مصر عن جزيرتي تيران وصنافير للسعودية التي بملكيتها لهما تنضم لما يسمى بدول الطوق المكلفة بتأمين حدود ذلك الكيان الخبيث، لو وضعنا كل ذلك فإنه يمكننا أن نرى الصورة مكتملة ونضع هذا الحدث في سياقه والذي يمهد لدخول النظام السعودي في علاقات علنية طبيعية مع كيان يهود، ظلت لوقت طويل طي الكتمان والسرية.

لقد دأب النظام السعودي على المتاجرة بقضايا الأمة لوقت طويل، بداية بالتلاعب بمشاعر المسلمين وإثارة الصراع السني الشيعي الذي مثل لفترة طويلة مبررا لبقائه واستمراره باعتباره نظاما سنيا يطبق شرع الله يقف سدا منيعا في وجه المد الشيعي!! وانتهاء بقضية فلسطين باعتباره نظاما عربيا إسلاميا يعادي كيان يهود!! فإذا به يغض الطرف عن المد الشيعي في العراق، بل أكثر من ذلك يدعمه بقوة برغم تهديده لمنطقته الشرقية ذات الغالبية الشيعية؛ ذلك لأن سيدته أمريكا تريد ذلك، وفي الوقت نفسه يخيل للرائي أنه يحارب من أجل السنة في اليمن بينما هو يعمل هناك بأمر سيدته أمريكا لإزاحة النفوذ الإنجليزي ولتحل أمريكا محله، أو على الأقل تقاسم السلطة مع رجال الإنجليز من خلال التمكين للحوثيين (الشيعة).

وها هو اليوم يسير في تنفيذ الخطة الأمريكية التي تريد جعل كيان يهود كيانا طبيعيا في المنطقة. لقد نجحت أمريكا في سحب اعترافات من الأنظمة الواضحة العلمانية كمصر والأردن وغيرهما بكيان يهود ومن المنظمات الواضحة العلمانية أيضا كفتح، ولم يبق إلا الأنظمة التي تلبس لبوس الإسلام كالنظام السعودي والمنظمات التي ترفع شعار الإسلام كحماس لتكتمل مهزلة التطبيع مع كيان يهود.

لقد انكشف النظام السعودي وبانت سوأته، وها هو يستعد لخلع قناعة الزائف ليكشف عن وجهه القبيح، فما كان يجري في السر لسنوات مضت بات يجري في العلن، وواضح جدا للعيان أن النظام يسير في طريق العلمنة كما تكشف ذلك رؤية محمد بن سلمان، وفي طريقه ليس فقط الاعتراف بكيان يهود بل أكثر من ذلك؛ التعاون معه في حرب النظام العالمي المزعومة ضد "الإرهاب"، ولا شك أن مشايخ النظام جاهزون للتبرير وليّ أعناق النصوص - كما فعل أضرابهم في بلدان أخرى من بلاد المسلمين - لإعطاء الشرعية لكل تصرفات النظام التي ربما تصدم الكثير من أبناء الأمة الذين كانوا مخدوعين فيه ويظنون به خيرا.

مما لا شك فيه أننا صرنا في الأيام الفاصلة الكاشفة؛ الفاصلة التي تفصل بين فسطاط الحق وفسطاط الباطل، والكاشفة التي تسقط كل الأقنعة الزائفة التي كان يتخفى وراءها الكثير من المشايخ والعلماء والحركات والأحزاب والأنظمة، ولم يبق سوى وقت قصير حتى تدرك الأمة أن خلاصها في التمكين لشرع ربها في دولة خلافة على منهاج النبوة على أنقاض تلك الأنظمة العفنة الساقطة، دولة الخلافة التي هي وحدها القادرة على القضاء على كيان يهود الخبيث وقطع دابر الكافرين من بلاد المسلمين، وإن غدا لناظره لقريب.

﴿وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ * وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَنُرِي فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله الشريف - بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست