النظام في تركمانستان يضطهد المسلمين المطالبين بتطبيق الشريعة الإسلامية!
النظام في تركمانستان يضطهد المسلمين المطالبين بتطبيق الشريعة الإسلامية!

الخبر:   نشر موقع سنترال آسيا ميديا الإخباري بتاريخ 2018/9/28 خبراً بعنوان "النظام في تركمانستان يضطهد المسلمين المطالبين بتطبيق الشريعة الإسلامية!" جاء فيه: [قُتِل في مدينة عشق أباد عاصمة تركمانستان شاب مسلم اسمه أنناييف بيكينج خيديروفيتش بوحشية! وُلد أنناييف بيكينج خيديروفيتش سنة 1994م في مدينة عشق أباد. ويعمل أبوه سائقاً وأمه طبيبة. وهو الابن الوحيد في العائلة وأبوه وأمه في سن الشيخوخة! فأبوه يبلغ من العمر 58 سنة وأمه 53 سنة.

0:00 0:00
Speed:
October 02, 2018

النظام في تركمانستان يضطهد المسلمين المطالبين بتطبيق الشريعة الإسلامية!

النظام في تركمانستان يضطهد المسلمين المطالبين بتطبيق الشريعة الإسلامية!

الخبر:

نشر موقع سنترال آسيا ميديا الإخباري بتاريخ 2018/9/28 خبراً بعنوان "النظام في تركمانستان يضطهد المسلمين المطالبين بتطبيق الشريعة الإسلامية!" جاء فيه:

[قُتِل في مدينة عشق أباد عاصمة تركمانستان شاب مسلم اسمه أنناييف بيكينج خيديروفيتش بوحشية! وُلد أنناييف بيكينج خيديروفيتش سنة 1994م في مدينة عشق أباد. ويعمل أبوه سائقاً وأمه طبيبة. وهو الابن الوحيد في العائلة وأبوه وأمه في سن الشيخوخة! فأبوه يبلغ من العمر 58 سنة وأمه 53 سنة.

وقد تخرّج هذا الشاب من جامعة باشكورتوستان عام 2017م. وكان يسعى لأن يكون مسلما متدينا صالحا تقيّا. وكان يريد بشدة أن يعرّف الناس الإسلام الحقيقيّ وكان يدعو إلى هذا، لذلك نال محبّة الناس.

وكان موعِد زفاف هذا الشاب قد حُدِّد في 24-25 أيلول/سبتمبر عام 2018م ولكنه غاب عن مكان عمله في 17 آب/أغسطس عام 2018م وبعد ذلك عُثر على جثته في 18 آب/أغسطس. وقد أصيب رأسه بجراح شديدة وكُسِرت يدُه وفي جسده آثار التعذيب وعلى يديه آثار التكبيل! وهذا يدل صراحة على أنه قد تم خطفه من قِبل الاستخبارات، والدليل على ذلك ما يلي:

في سنة 2016م رجع كزاكوف ويبه وأتاكيلدي نورمراد إلى تركمانستان وهم تخرّجوا أيضا من جامعة باشكورتوستان التي درس فيها هذا الشاب. وكان كزاكوف ويبه يعمل مدرساً في المعهد الزراعيّ، وكان أتاكيلدي يعمل في دار البلدية. وهؤلاء الشباب أيضا كانوا يريدون تعليم الناس الإسلام الحقيقيّ ويدعونهم إليه.

وفي بداية شباط سنة 2017م اعتقلوا كازاكوف ويبه من مكان عمله وبعد أسبوع اعتقلوا أتاكيلدي نورمراد أيضا من مكان عملهما. وحكموا على كل واحد منهم بالسجن بأحكام مشددة وبالسجن العام.

وهذا يعني أن النظام في تركمانستان أيضا يمارس سياسة الاضطهاد ضد المسلمين! وعلى هذا يمكن ملاحظة أن أنناييف بيكينج خيديروفيتش قد قُتِل من قِبَل الاستخبارات. وقد اشترك في جنازته ودفنه الكثير من الناس، وأعرب الناس عن سخطهم وغضبهم على قتل هذا الشاب بوحشية!

هذا الحادث هو واحد من الحوادث التي أصبحت معلومة لنا، والتي لا نعلم عنها كثيرة! فالنظام في تركمانستان - كما ترون - يحارب المسلمين بأساليب بشعة وبلا هوادة!

نسأل الله سبحانه وتعالى أن يحشر أخانا في الجنة مع النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن أولئك رفيقا! وأن ينجي إخواننا المظلومين الآخرين وأخواتنا المظلومات في القريب العاجل!

إن دولة الخلافة التي ستقام قريبا بإذن الله سوف تعاقب الظالمين السفاحين على جرائمهم عقابا شديدا!] انتهى الخبر.

التعليق:

السؤال الذي يطرح نفسه: لماذا تتم ممارسة الاضطهاد الوحشي في العالم وخاصة في البلاد الإسلامية ضد الإسلام والمسلمين؟ الجواب: لأن الكفار المستعمرين من أمريكا والغرب وروسيا والصين لا يريدون نهضة المسلمين على أساس الإسلام! لأن نهضة مثل هذه تشكل خطرا كبيرا على مصالح هؤلاء الكفار المستعمرين! لذلك تمارس أنظمة الطواغيت العميلة لهؤلاء الكفار المستعمرين سياسة الاضطهاد ضد المسلمين.

ومن المعلوم أن آسيا الوسطى منطقة ذات أهمية استراتيجية؛ لأن هذه المنطقة تربط أوروبا بالشرق الأوسط وبشرق آسيا وجنوبها. وتبلغ مساحة آسيا الوسطى 3 مليون و994.400 كيلومتر مربع. وهذه المنطقة غنية بموارد الطاقة والنفط والغاز والذهب والفحم وغيرها من الثروات. فمثلا حسب المعلومات التي تم التصريح بها فإن حجم احتياطيّ البترول في بلاد آسيا الوسطى يصل ما بين 15-31 مليار برميل، ويبلغ حجم احتياطيّ الغاز 230-360 تريليون متر مكعّب. وهذا يشكل 7,2% من موارد النفط و7% من موارد الغاز في العالم! وحسب الإحصائيّات العالمية بلغ حجم استهلاك الغاز في عام 2003م 93 مليار متر مكعّب، ومن الممكن أن يبلغ هذا الحجم في عام 2030م، 182 مليار متر مكعّب! وفي هذه المنطقة أيدٍ عاملة رخيصة كثيرة أيضا. فحسب المعلومات لعام 2017م بلغ عدد سكان آسيا الوسطى 69 مليون و241.030 نسمة. فمثلا كتب موظف جامعة باشكورتوستان مورزاغالييف في مقالته: يعمل الآن في روسيا 2,3 مليون مهاجر من أوزبيكستان فقط! ومن طاجيكستان يعمل في روسيا 1,1 مليون مهاجر. فهذه المنطقة بثرواتها الهائلة هذه تُسيل لعاب الكفار المستعمرين من روسيا وأمريكا والصين.

وجمهوريات آسيا الوسطى ومنها تركمانستان أيضا تعاني أزمة اقتصادية ومالية. فمثلا حسب قول مراسل "الحرية": الآن في تركمانستان حدث نقص في المواد الغذائية كالدقيق والسكر والزيت. وحسب قول البروفيسور ستيوين خينكي فإن أزمة كهذه إنما تحدث بسبب التضخم الهائل. فحسب التقديرات يشكل التضخم في تركمانستان 294%! لذلك يشتد تذمر الناس. والأنظمة العميلة تمارس سياسة الاضطهاد لإبقاء الناس في حالة خوف!

ولكن الفجر قريب! وقد آن لأمة الإسلام أن تنهض لتُخرِج الناس من الظلمات إلى النور بإذن ربهم إلى صراط العزيز الحميد! فالخلافة الراشدة على منهاج النبوة قادمة بإذن الله! وإن غداً لناظره قريب.

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نعمة الله الأوزبيكي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست