النظام يغرق مصر وأهلها في الديون ويبيع مصر وأهلها ويرهن الأجيال القادمة للغرب
النظام يغرق مصر وأهلها في الديون ويبيع مصر وأهلها ويرهن الأجيال القادمة للغرب

الخبر: قالت منصة مزيد على موقعها الأربعاء 2024/05/05م، أن منظمة التجارة والتنمية التابعة للأمم المتحدة أعلنت انضمام مصر مؤخرا إلى الدول التي لديها أكبر قدر من الدين العام، وذلك بمعدل ديون خارجية بلغت 168 مليار دولار، وقالت المنظمة في بيان لها إن مصر انضمت مع المكسيك والبرازيل والهند إلى الدول التي لديها أكبر قدر من الدين العام، وذكرت المنظمة في بيانها أن الدين العام العالمي ارتفع إلى مستوى قياسي بلغ 97 تريليون دولار العام الماضي، فيما بلغ نصيب الدول النامية حوالي ثلث هذا المبلغ، وأوضحت أن ذلك يعيق قدرتها على دفع تكاليف الخدمات الحكومية الأساسية مثل الرعاية الصحية والتعليم.

0:00 0:00
Speed:
June 08, 2024

النظام يغرق مصر وأهلها في الديون ويبيع مصر وأهلها ويرهن الأجيال القادمة للغرب

النظام يغرق مصر وأهلها في الديون

ويبيع مصر وأهلها ويرهن الأجيال القادمة للغرب

الخبر:

قالت منصة مزيد على موقعها الأربعاء 2024/05/05م، أن منظمة التجارة والتنمية التابعة للأمم المتحدة أعلنت انضمام مصر مؤخرا إلى الدول التي لديها أكبر قدر من الدين العام، وذلك بمعدل ديون خارجية بلغت 168 مليار دولار، وقالت المنظمة في بيان لها إن مصر انضمت مع المكسيك والبرازيل والهند إلى الدول التي لديها أكبر قدر من الدين العام، وذكرت المنظمة في بيانها أن الدين العام العالمي ارتفع إلى مستوى قياسي بلغ 97 تريليون دولار العام الماضي، فيما بلغ نصيب الدول النامية حوالي ثلث هذا المبلغ، وأوضحت أن ذلك يعيق قدرتها على دفع تكاليف الخدمات الحكومية الأساسية مثل الرعاية الصحية والتعليم.

التعليق:

إن النظام المصري يتمادى في الاقتراض والتفريط فيما تبقى لمصر وأهلها من ثروات وإجبارهم على حياة الفقر والحاجة، فقد كشفت بيانات صادرة عن معهد التمويل الدولي أن الدين الحكومي في مصر ارتفع إلى 81.4% من الناتج المحلي الإجمالي في الربع الأول من العام الجاري مقابل 80.5% في الربع المماثل من العام الماضي، وأظهر تقرير للمعهد عن الديون الدولية أن ديون القطاع العائلي في مصر بلغت 7.6% من الناتج المحلي الإجمالي للبلاد في الثلاثة أشهر الأولى من العام الجاري مقابل 8.5% قبل عام، كما كشفت وثيقة الاستراتيجية الرئاسية 2030، أن مصر تخطط لتشكيل لجنة وزارية عليا لتفاوض مصر مع عدد من الدول والتحالفات البنكية الدائنة لمبادلة الديون المستحقة لها بحصص ملكية في بعض الشركات المملوكة للدولة بالأسعار العادلة في سياق تنفيذ سياسة الملكية، وفقاً لما اطلعت عليه "العربية Business". وقالت الوثيقة إن "الخطة الموضوعة، قد تساهم في تحويل نحو 38% من الديون الخارجية لمصر إلى استثمارات". (العربية 8 أيار/مايو 2024م)

إن ما يقوم به النظام هو خضوع كامل للغرب وتنفيذ لقراراته التي تغرق مصر وأهلها وتمكن الغرب من نهب ما تبقي لهم من ثروات وتستعبدهم لأجيال قادمة، هذه هي حقيقة ما يقوم به النظام من خلال إغراق مصر في ديون لا طائل منها ولا حاجة لها أصلا وربما لا تدخل البلاد، وما يدخل منها ينفق على ما لا طائل منه ولا حاجة له لمجرد الإنفاق، وحتى هذا الإنفاق يكون في الإطار الذي يريده الغرب ويخدم مشاريعه ومصالحه في البلاد، وأخيرا سيتم بيع البلاد مقابل هذه الديون وما يصاحبها من ربا وأعباء ستعجز البلاد حتما عن سدادها خاصة في ظل هذا النظام.

إن مصر بحدود سايكس بيكو الضيقة فقط تملك تنوعا فريدا في الموارد وتنوعا فيما يمكن إنتاجه من خلالها من ثروات وخيرات، تكفينا المساحات الهائلة التي يمكن زراعتها سواء بماء النيل أو المطر أو المياه الجوفية، ومصر غنية بكل منها ما يجعلها قادرة على زراعة ما يكفيها من قمح وغيره من الزراعات المهمة التي يمكن تصديرها، وتملك فوق هذا مسطحات مائية واسعة يمكن أن تحول مصر إلى مرتبة متقدمة في تصدير الأسماك والصناعات المرتبطة بها، ولم نتكلم عن البترول ولا الغاز ولا الذهب وغيره من المعادن والثروات الدفينة وكلها كفيلة بكفاية مصر وأهلها. فما تملكه مصر من ثروات يفوق الخيال، ولكنها ثروات منهوبة يمنحها النظام للغرب الكافر بلا ثمن ويقبل على اقتراض ما يلقى إليه من فتات الموائد بينما كل ما عليها منهوب من ثروات الأمة.

ناهيك عن الطاقات البشرية المعطلة والمهدرة عمدا لكي تفر للغرب فتعمل في مصانعه وشركاته، تلك الطاقة التي يدعي النظام أنها تلتهم ما يقوم به من تنمية! ولا ندري عن أي تنمية يتحدث، بينما واقع الأمر أن تلك الطاقات وحدها تستطيع النهوض ببلاد فقيرة الموارد، فكيف ببلادنا التي من الله عليها بثروات هائلة؟!

إن نجاة مصر لن تكون في القروض ولا ما يصاحبها من قرارات تمكن الغرب من مصر وأهلها، بل إن هذه القروض وتلك الديون هي جزء من المرض العضال والأزمة التي تعاني منها مصر، وهي حل من حلول الرأسمالية الحاكمة التي هي أصل الأزمة والداء وأساس كل بلاء، ولا سبيل للنجاة إلا باقتلاعها من جذورها بكل أدواتها ومنفذيها وسياساتها وقراراتها وارتباطاتها وحتى ما أبرمته من عقود واتفاقات ومعاهدات قلعاً لا يبقي منها شيئا ولا من أدواتها، وتسليم الحكم للمخلصين من أبناء الأمة الذين يحملون مشروعا ينسجم مع عقيدة أهل مصر ويرضي عنهم ربهم أولا، وفيه الكفاية لهم والقدرة على رعاية مصالحهم؛ بما في الإسلام من أحكام تضمن ذلك وتكفله كفالة تامة.

إن مصر في حاجة إلى الإسلام ومشروعه الحضاري البديل حيث لا قروض ربوية ولا جباية لأموال الناس ولا أكلها بالباطل، ولا تفريط في ثرواتهم ولا حماية لناهبيها، بل عدل يعيد للناس حقوقهم ويرعاهم خير رعاية، عدل يشعر به الناس من أول يوم وينعم في ظله الشجر والطير وحتى الحجر في ظل دولة الإسلام؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست