النظام يغرق مصر وأهلها في مستنقع القروض
النظام يغرق مصر وأهلها في مستنقع القروض

الخبر:   في تصريحات خاصة لـ"اليوم السابع"، الأحد 2020/7/5م، قال الدكتور محمد معيط، وزير المالية، إن مصر تسلمت 2 مليار دولار من صندوق النقد الدولي بعد موافقة المجلس التنفيذي على قرض مصر، ودخلت بالفعل حسابات وزارة المالية في البنك المركزي المصري، من إجمالي "اتفاق استعداد ائتماني" بقيمة 5.2 مليار دولار على مدار 12 شهراً، بهدف مساعدة مصر على التأقلم مع تبعات جائحة فيروس كورونا، ودعم الموازنة العامة للدولة وميزان المدفوعات، وأشار صندوق النقد الدولي، أن البرنامج سيساعد مصر في الحفاظ على الإنجازات التي حققتها على مدار السنوات الـ4 الماضية، ودعم الإنفاق الصحي والاجتماعي لحماية الفئات الضعيفة، ودفع مجموعة من الإصلاحات الهيكلية المهمة قدماً، وقال مسؤول مصرفي لـ"اليوم السابع"، "تساعد حزم التمويل المالية الجديدة من صندوق النقد الدولي لمصر، بقيمة نحو 8 مليارات دولار دعم جهود الدولة في مواجهة تداعيات فيروس كورونا المستجد ومساعدة الاقتصاد المصري.

0:00 0:00
Speed:
July 08, 2020

النظام يغرق مصر وأهلها في مستنقع القروض

النظام يغرق مصر وأهلها في مستنقع القروض

الخبر:

في تصريحات خاصة لـ"اليوم السابع"، الأحد 2020/7/5م، قال الدكتور محمد معيط، وزير المالية، إن مصر تسلمت 2 مليار دولار من صندوق النقد الدولي بعد موافقة المجلس التنفيذي على قرض مصر، ودخلت بالفعل حسابات وزارة المالية في البنك المركزي المصري، من إجمالي "اتفاق استعداد ائتماني" بقيمة 5.2 مليار دولار على مدار 12 شهراً، بهدف مساعدة مصر على التأقلم مع تبعات جائحة فيروس كورونا، ودعم الموازنة العامة للدولة وميزان المدفوعات، وأشار صندوق النقد الدولي، أن البرنامج سيساعد مصر في الحفاظ على الإنجازات التي حققتها على مدار السنوات الـ4 الماضية، ودعم الإنفاق الصحي والاجتماعي لحماية الفئات الضعيفة، ودفع مجموعة من الإصلاحات الهيكلية المهمة قدماً، وقال مسؤول مصرفي لـ"اليوم السابع"، "تساعد حزم التمويل المالية الجديدة من صندوق النقد الدولي لمصر، بقيمة نحو 8 مليارات دولار دعم جهود الدولة في مواجهة تداعيات فيروس كورونا المستجد ومساعدة الاقتصاد المصري.

التعليق:

قروض تلو قروض لنظام نهم لا يشبع، نظام اعتاد على مص دماء أهل الكنانة، قروض لا تحتاجها مصر ولا ينال أهلها منها غير ما يتبعها من أعباء وما يتفرع عنها من قرارات وتوصيات تزيدهم فقراً فوق فقر وجوعا فوق جوع... قبل أيام من هذا التصريح نشرت اليوم السابع تحت هذا العنوان الدفعة الأولى من قرض صندوق النقد خلال أيام.. نواب: شهادة ثقة للاقتصاد بفضل نجاح إجراءات الإصلاح.. البرنامج الجديد يتناغم مع مستهدفات الإنفاق على التعليم والصحة وترشيد الإنفاق الحكومي ولن يحمل المواطن أي أعباء.

ولا ندري من هو المواطن المقصود هنا والذي لن يتحمل أية أعباء؟! حتما لا يعيش في مصر، فمن يعيش فيها يدرك أن الأعباء كلها يحملها هذا المدعو "مواطن" شاء أم أبى، فضلا عن نهب ثروته بشكل سافر أمام عينيه في حين لا يجرؤ هو نفسه على المطالبة ولو بنزر يسير منها، بينما يتنعم بها ناهبوه أمام عينيه، بل وتابعوا معنا تلك القروض منذ البدء قرضا ثم قرض وتابعوا ما تلاه من قرارات وتوصيات وما تبعه من جوع وفقر لمصر وأهلها، فكلها وبال على أهل الكنانة، وحكامنا يعلمون هذا جيدا ولكنهم يعلمون أن رغبات السادة في الغرب أوامر واجبة التنفيذ ولا تحتمل التأجيل ولو على جثث أهل مصر البسطاء.

إن النظام الذي لا يرقب في مصر وأهلها إلا ولا ذمة، لا يعنيه من يتحمل أعباء تلك القروض طالما في وجودها وما يتفرع عنها من قرارات رضا سادته في البيت الأبيض وضمان لبقاء مصر في مستنقع التبعية. نظام لا يعنيه إلا ما يضمن بقاء كرسيه معوج الأركان رغم ما نخر فيه من سوس.

إن مصر بما فيها وما تملكه من موارد وخيرات يقر بها النظام نفسه رغم ادعائه الفقر، لا تحتاج إلى قروض ومعونات الغرب، فيكفيها أن تقطع يد الغرب الناهبة حتى ينعم أهلها بما ينهبه الغرب من ثروتهم، وهذا ما لا يستطيع فعله حكام بلادنا العملاء، الذين أجلسهم الغرب على عروش بلادنا ليرعوا مصالحه ويضمنوا قمعهم لأصواتنا المطالبة بالانعتاق من التبعية ووقف نهب الثروة... وهذه القروض هي واحدة من أدوات الغرب للهيمنة على الشعوب لعقود قادمة حتى لو تغيرت الأنظمة وتبدلت ولاءاتها فستبقى هذه القروض قيدا في أعناقها تلجمها وتقيد حركتها وتلزمها ما يمليه عليها الغرب الدائن صاحب رأس المال.

إن مصر بخيراتها وثرواتها ومواردها تحتاج إلى نظام حقيقي مبدئي بديل قادر على إدارة تلك الثروة الهائلة التي تملكها والتي تمكنها بحدودها القطرية من أن تكون دولة عظمى إن لم تكن الدولة الأولى، تحتاج مصر إلى نظام لا يخدم أصحاب رؤوس الأموال ولا النخب الحاكمة ولكن يصلح حال الناس ويرعى شؤونهم بشكل صحيح فيوزع الثروة عليهم ويشبع حاجاتهم الأساسية على وجهها الصحيح، جميعا بلا استثناء بغض النظر عن دينهم ولونهم وعرقهم وغير ذلك، وهذا لا يوجد إلا في الإسلام ونظامه المنبثق عن عقيدته والذي ينسجم قطعا مع فطرة أهل مصر وبيئتهم وحكمهم قرونا كانت مصر فيها درة تاج دولة الإسلام ودرعها، ويكفينا منها قول عمرو بن العاص إن ولاية مصر تعدل خلافة، ولعلنا نذكر أن مصر في عام الرمادة أرسلت قافلة أولها في المدينة وآخرها في مصر، مصر التي أطعمت الدنيا زمن نبي الله يوسف عليه السلام أصبحت تتكفف وتسأل وتقترض في زمن حكامنا الرويبضات الذين حكموها بقوانين الغرب المعوجة... وما انصلح حال مصر إلا بحكم الإسلام وفي ظل دولته التي رفعت عنها وعن أهلها ظلم الروم واستعبادهم لشعبها يوم دخلها عمرو بن العاص فاتحا محررا، وها هو الغرب يحاول استعبادها وأهلها من جديد بإغراقها في مستنقع قروض لا تملك الفكاك منه أبدا.

يا أهل الكنانة! إنكم في غنى عن تلك القروض وهي لا تعنيكم ولا تَلزمكم أو تُلزمكم فارفضوها وأعلنوا أنكم غير ملزمين بردّها، وأنه بسقوط هذا النظام قريبا إن شاء الله لن تكون لتلك القروض ولا لأعبائها آثار عليكم، بل ستطالبون الغرب بردّ ما نهبوه من ثروتكم في ظل عملائه الذين تعاقبوا على حكم بلادكم.

أيها المخلصون في جيش الكنانة! إن هذا النظام لم يكن ليمرر تلك القروض وما يتبعها من قرارات جائرة تفقر مصر وأهلها دون حمايتكم وانحيازكم له وخذلان مصر وأهلها، فأنتم بصمتكم شركاؤه في جرمه وعمالته لعدوكم وعدو أمتكم ودينكم، ولا خلاص لكم ولا توبة إلا بأن تنزعوا أيديكم عنه وتخلعوا حبال ولائه وسادته من رقابكم، وتصرفوا ولاءكم لله ورسوله وتصلوا حبالكم بالمخلصين منكم العاملين لتطبيق دينكم في دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، عسى الله أن يكتب الأمر على أيديكم ويحقق البشرى بكم، فيا فوزكم حينها وقد صرتم أنصار الله ورسوله... اللهم عجل بها واجعلنا من رجالها وجنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

 سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست