القادة الدينيون وقضية اتفاقية موانئ دبي العالمية في تنزانيا
القادة الدينيون وقضية اتفاقية موانئ دبي العالمية في تنزانيا

الخبر: في 10 حزيران/يونيو 2023، صادق برلمان جمهورية تنزانيا المتحدة على اتفاقية حكومية دولية بين تنزانيا ودبي والتي من شأنها أن تسمح لشركة دبي متعددة الجنسيات (موانئ دبي العالمية) بتشغيل موانئ تنزانيا، وخاصة الميناء الواقع في مدينة دار السلام.

0:00 0:00
Speed:
July 18, 2023

القادة الدينيون وقضية اتفاقية موانئ دبي العالمية في تنزانيا

القادة الدينيون وقضية اتفاقية موانئ دبي العالمية في تنزانيا

(مترجم)

الخبر:

في 10 حزيران/يونيو 2023، صادق برلمان جمهورية تنزانيا المتحدة على اتفاقية حكومية دولية بين تنزانيا ودبي والتي من شأنها أن تسمح لشركة دبي متعددة الجنسيات (موانئ دبي العالمية) بتشغيل موانئ تنزانيا، وخاصة الميناء الواقع في مدينة دار السلام.

التعليق:

أثارت الاتفاقية آراء متباينة بين الناس، حيث وصفها مقترحو الصفقة، وخاصة الحزب الحاكم وأنصاره، بأنها الأفضل، بينما يصفها المعارضون والمعارضة وأنصارها بأنها الأسوأ.

أثار النقاش أيضاً انتقاد بعض الزعماء الدينيين للصفقة، مثل الأسقف المتقاعد لأبرشية دار السلام الكاثوليكية، الكاردينال بوليكارب بينجو، أثناء مقابلة مع قناة المجلس التنزاني الأسقفية على موقع يوتيوب، حيث قال: "إذا فشل المستثمر التنزاني، فلا يمكنك رميه بعيداً والقول بأنه يمكنك الحصول على الكثير من المال من خلال إحضار شخص أجنبي" (موانانتشي 2023/06/18)

إن القول بأن القادة النصارى لديهم مخاوف بشأن المصالح الوطنية ورفاهية الشعب ليس صحيحاً، فعلى سبيل المثال لم يكن السيد بينجو غافلاً فحسب خلال النظام السابق لجون ماجوفولي، حيث كان يقوم بقتل العديد من الأشخاص وتعذيبهم وسجنهم واحتجازهم زوراً، بل كان مؤيداً قوياً لنظام ماجوفولي لدرجة أنه كان يتساءل لماذا أطلق عليه الناس اسم الديكتاتور ماجوفولي.

ادعى الكاردينال بينجو، في 18 تشرين الثاني/نوفمبر 2019، خلال لقاء بين الزعماء الدينيين والمفوض الإقليمي لدار السلام آنذاك بول ماكوندا، أن الأشخاص الذين كانوا يتحدثون بشكل معارض للنظام يتجاهلون شؤون الناس ويركزون على تطوير أشياء مثل الطرق والسكك الحديدية، إلخ، وهذه الأمور كانت تضلل الناس حسب رأيه، حيث قال: "كانت هناك شائعات بأن رئيسنا ديكتاتور... إنه يتعامل مع تطوير الأشياء بدلاً من تطوير الناس". (موانانتشي 2019/11/18).

إنه لأمر مدهش أنه بينما ينتقد القادة النصارى الصفقة بين دبي وتنزانيا باعتبارها اتفاقية غير عادلة غير محددة المدة، إلا أنهم التزموا الصمت منذ سنوات بشأن الصفقة بين الحكومة ومؤسساتهم الدينية النصرانية. هذه الصفقة الخاصة من مذكرة التفاهم المبرمة منذ عام 1992 بين الحكومة والكنائس تعمل لصالح النصارى ومؤسساتهم حيث تستخدم الحكومة الأموال العامة لدعم المرافق الصحية الكنسية وهذا مناقض للحال بالنسبة للمسلمين. يدرك المسلمون أن الحكومة تخدم مصالح النصارى على حساب المسلمين وغيرهم من أهل البلد.

على الرغم من حقيقة أن الاتفاقية بين تنزانيا وشركة موانئ دبي العالمية متعددة الجنسيات غير عادلة لأنها اعتمدت على أساس رأسمالي، فإن قادة الكنيسة ليس لديهم أي حق أخلاقي على الإطلاق لانتقاد الصفقة لأنهم لا يهتمون حقاً بمصالح الناس، حيث كانوا من الداعمين لمثل هذا الاستغلال ولاتفاقيات عرقية مع الحكومة. تفضل مذكرة التفاهم مجموعة واحدة (النصارى) من بين مجموعتين رئيسيتين من الديانات في البلاد (المسلمون والنصارى)، مع العلم أن المسلمين هم على الأرجح أغلبية السكان.

علاوة على ذلك، من المعروف بالتأكيد أن النصرانية هي دين روحي جزئي فقط ولا يتطرق لحل المسائل الدنيوية، لذلك يقدم أتباعها دائماً حلاً قائماً على المصالح الرأسمالية لأن دينهم يفتقر إلى الأنظمة السياسية والاقتصادية.

فيما يتعلق ببعض القادة المسلمين الذين يقترحون ويدعمون صفقة خصخصة الميناء لصالح شركة موانئ دبي العالمية، فقد أثاروا فقط موجة الاستفزاز التي قام بها القادة النصارى دون تقديم أي حل إسلامي مبدئي كما لو أن الإسلام لم يقدم أي حكم فيما يتعلق بالممتلكات العامة! في الحقيقة، كان ينبغي أن يقدموا حلاً واضحاً لهذه المسألة وفقاً للأحكام الإسلامية التي لديها تحليل وتفسير واسع النطاق لأحكام الملكيات والمرافق العامة.

ففي الإسلام، تعتبر الموانئ من بين المرافق العامة الخاضعة للملكية العامة. ومن حق جميع الناس التمتع بالملكيات العامة، ويمكن تسليم إدارتها للخليفة (الدولة)، ثم تعود منافعها إلى الأمة.

لذلك، يحرم على الأفراد التحكم في جميع أنواع الملكيات المدرجة في فئة الملكية العامة بما في ذلك الموانئ أو الاستفادة منها وإدارتها بشكل خاص، وبالتالي فإن خصخصة الملكيات العامة هي عمل محرم. قال النبي محمد ﷺ: «النَّاسُ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْكَلَإِ وَالْمَاءِ وَالنَّارِ».

إن الخصخصة هي سياسة اقتصادية رأسمالية قامت بتدمير الجانب الاجتماعي والاقتصادي، فهي تجعل الثروة متداولة فقط بين الأغنياء. وبالتالي، لا يمكن للأغلبية الاستفادة من هذه الثروات، وسيصبح توزيع الثروة غير متوازن بشكل متزايد كما نشهد اليوم، حيث إن أغنى 1٪ يحصلون على ما يقرب من ثلثي الثروة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد بيتوموا

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في تنزانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست