القدس: فتحها عمر وحررها صلاح الدين وسوف تعود للمسلمين
القدس: فتحها عمر وحررها صلاح الدين وسوف تعود للمسلمين

نقلت وكالات الأنباء خبر تصويت أعضاء الجمعية العامة للأمم المتحدة يوم الجمعة 21/12/2017 بأغلبية كبيرة لصالح مشروع قرار يحث أمريكا على سحب اعتبار القدس عاصمة لكيان يهود.

0:00 0:00
Speed:
December 25, 2017

القدس: فتحها عمر وحررها صلاح الدين وسوف تعود للمسلمين

القدس: فتحها عمر وحررها صلاح الدين وسوف تعود للمسلمين

الخبر:                                               

نقلت وكالات الأنباء خبر تصويت أعضاء الجمعية العامة للأمم المتحدة يوم الجمعة 21/12/2017 بأغلبية كبيرة لصالح مشروع قرار يحث أمريكا على سحب اعتبار القدس عاصمة لكيان يهود.

التعليق:

عقدت الجمعية العامة للأمم المتحدة، التي يشارك في عضويتها 193 دولة، جلسة طارئة بناء على طلب بلاد عربية وإسلامية، وذلك بعد إدانات واسعة لقرار ترامب الشهر الماضي. وكانت السلطة الفلسطينية قد دعت إلى الجلسة عقب استخدام أمريكا لحق النقض (الفيتو) ضد مشروع قرار مماثل طرح أمام مجلس الأمن الدولي. ثم قدمت تركيا واليمن مشروع القرار للجمعية العامة للأمم المتحدة والذي ينص على أن "أي قرارات وإجراءات تهدف إلى تغيير طابع مدينة القدس الشريف أو مركزها أو تركيبتها الديموغرافية ليس لها أي أثر قانوني، وأنها لاغية وباطلة ويجب إلغاؤها امتثالا لقرارات مجلس الأمن ذات الصلة". وجاء التصويت بموافقة 128 دولة في مقابل رفض 9 وامتناع 35 عن التصويت. والتصويت على هذا القرار له دلالات عدة أهمها:

أولا: إن القرارات المهمة المتعلقة بالعلاقات الدولية والأوضاع الخاصة يتم حسمها في مجلس الأمن وليس في الجمعية العمومية. فقرارات مجلس الأمن هي التي ترقى إلى مستوى الإلزام. ولما كانت قرارات مجلس الأمن لا تتم إلا بإجماع الدول الأعضاء الدائمين فإن كل ما تقوم به أمريكا أو روسيا أو الصين أو بريطانيا أو فرنسا مهما حمل من ظلم أو تهديد للسلام العالمي فلن يتمكن مجلس الأمن من وقفه.

ثانيا: إن الجمعية العمومية للأمم المتحدة ليست إلا ميدانا للخطابة واستعراض المواقف، وليست مكانا لحل القضايا الشائكة. ومنذ إيجادها سنة 1945 كانت ولا تزال تستخدم لتخدير الشعوب وطمس القضايا.

ثالثا: إن الاستعراض والمهرجان الخطابي الذي مارسته الجمعية العمومية أظهر بشكل واضح عدم الرضا عن قيادة أمريكا للعالم، وعن السخط من سياساتها التي ما برحت تؤجج الحروب وتشعل الحرائق. وبالتالي فإن العالم بات أقرب ما يكون لفراغ سياسي لا بد من سده من جهة تملك المقدرة على القيادة وإشاعة السلام والأمن الحقيقيين.

رابعا: إن قضية القدس في شكلها الحالي ليست متعلقة بنقل سفارة أمريكا لها أو اعتبارها عاصمة ليهود أو بالتركيبة الديموغرافية للقدس. بل إن الموضوع كله يتعلق باحتلال مدينة القدس وبلاد فلسطين كلها من قبل يهود، وبمباركة ودعم حقيقي وعملي من جميع أعضاء مجلس الأمن سواء اليوم أو منذ إنشاء دولة الاحتلال. فبريطانيا هي التي أنشأت كيان يهود، وروسيا هي أول من اعترفت به حين قيامه، وفرنسا هي أول من دعمه بالسلاح المتطور وأمريكا لا زالت تمده بسبل الحياة، والصين تربطها علاقات وطيدة معه. فاحتلال القدس ومن ورائها كل فلسطين قضية ليست مطروحة للنقاش ولا حتى الخطابة في الجمعية العمومية.

خامسا: حتى القرار الذي تقدمت به تركيا واليمن للجمعية العامة ولمجلس الأمن من قبل السلطة كان مجبولا بالخداع الذي اعتادت عليه الأنظمة القائمة في بلاد المسلمين. فمؤتمر رابطة العالم الإسلامي الطارئ في إسطنبول والذي عقد قبل اجتماع الجمعية العمومية بيومين أكد بما لا يقبل الشك أن المقصود بالقدس التي يجري عليها التصويت لا تتعدى ما يسمونه القدس الشريف والذي تبلغ مساحته 144 دونماً حسب ما ورد على لسان أردوغان. وأكد عليه المؤتمرون بل قل المتآمرون حين جعلوا مركز التنبه للقضية وصاية الهاشميين على القدس وعدم التفريط بها! وهذه الوصاية تتعلق بالحرم المتمثل بالبقعة التي تحوي المسجد الأقصى وقبة الصخرة وساحته التي تبلغ مساحته 144 دونما. لذا فإن المسألة التي بحثها مؤتمر العالم الإسلامي والتي تم التصويت عليها في مجلس الأمن ومن ثم في الجمعية العمومية لا تتعدى هذه المساحة الضيقة.

سادسا: إن الرقعة التي اجتمعت لها دول العالم في الجمعية العمومية وصوتوا عليها، لا تزال حصينة ومشرفة وشامخة بجهود ودماء وتضحيات أهلها المقدسيين المرابطين، والذين ما انفكوا ينافحون ويدافعون عن الأقصى أولى القبلتين وثالث الحرمين. ومنذ أقل من شهرين وقفوا بصدورهم ونحورهم وأبطلوا سيطرة يهود المحتلين على المسجد وساحاته. فالقدس الشريف (حسب ما يسمون الرقعة المشرفة) وهذه المساحة التي تبلغ 144 دونما لا زالت في حماية الأبطال من بيت المقدس ولا تحتاج وصاية حكام عملاء باعوا البلاد والعباد ونذروا دولهم ومقدراتهم لحماية كيان يهود.

سابعا: أما إنهاء احتلال القدس نهائيا واحتلال فلسطين وهدم كيان يهود، هذا الداء الخبيث في قلب العالم الإسلامي، فطريقه واحد وهو معروف للقاصي والداني. فكيان يهود واحتلاله لفلسطين ليس إلا امتدادا واستمرارا لحرب شنتها أوروبا ومن بعدها أمريكا على العالم الإسلامي كان من أثرها إنشاء كيان متقدم لهم في فلسطين. وبالتالي فإن التصدي لاحتلال فلسطين من قبل يهود يعني بالضرورة التصدي لمن هم وراءهم من إنجليز وأمريكان وروس وغيرهم... وهذا لا يتم ولن يكون مجديا ما لم تكن هناك دولة قوية بمبدئها وأمتها وجيشها وإرادتها، قادرة على استخدام كافة مواردها من أجل تحرير كافة فلسطين تُنسي يهود ومن وراءهم وساوس الشيطان.

وهذه الدولة على هذا الوصف ليست إلا دولة الخلافة على منهاج النبوة والتي كان من بواكير عملها دخول بيت المقدس وفلسطين على يد الخليفة أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضي الله عنه، ثم كان تحريرها من الصليبيين على يد السلطان الناصر صلاح الدين. وكذلك اليوم فليس لفلسطين إلا عودة الخلافة على منهاج النبوة لتحرر فلسطين بأكملها بما فيها القدس، ﴿وَاللّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد الجيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست