القروض الربوية وبيع أصول البلاد سياسة اقتصادية فاشلة
القروض الربوية وبيع أصول البلاد سياسة اقتصادية فاشلة

الخبر: أعلنت وكالة بلومبيرغ في تقريرها الصادر يوم 6 كانون الثاني/يناير 2025 أن مصر وصلت إلى نقطة غير مسبوقة من المديونية، حيث بلغت ديونها الخارجية نحو 190 مليار دولار، بزيادة تتجاوز 12% مقارنة بالعام الماضي. وأضاف التقرير أن الحكومة المصرية تعكف حالياً على بيع عدد من الأصول المملوكة للدولة من خلال صندوق مصر السيادي، في محاولة لتقليص فجوة التمويل الخارجي وسد عجز الموازنة. كما أشار التقرير إلى أن الحكومة تسعى لتنفيذ المرحلة الثانية من برنامج الطروحات العامة، الذي يتضمن بيع حصص من شركات كبرى في قطاعات استراتيجية مثل البترول والطاقة والبنوك. ...

0:00 0:00
Speed:
January 09, 2025

القروض الربوية وبيع أصول البلاد سياسة اقتصادية فاشلة

القروض الربوية وبيع أصول البلاد سياسة اقتصادية فاشلة

الخبر:

أعلنت وكالة بلومبيرغ في تقريرها الصادر يوم 6 كانون الثاني/يناير 2025 أن مصر وصلت إلى نقطة غير مسبوقة من المديونية، حيث بلغت ديونها الخارجية نحو 190 مليار دولار، بزيادة تتجاوز 12% مقارنة بالعام الماضي. وأضاف التقرير أن الحكومة المصرية تعكف حالياً على بيع عدد من الأصول المملوكة للدولة من خلال صندوق مصر السيادي، في محاولة لتقليص فجوة التمويل الخارجي وسد عجز الموازنة. كما أشار التقرير إلى أن الحكومة تسعى لتنفيذ المرحلة الثانية من برنامج الطروحات العامة، الذي يتضمن بيع حصص من شركات كبرى في قطاعات استراتيجية مثل البترول والطاقة والبنوك.

من جانب آخر، كشف تقرير للبنك الدولي أن نسبة الدين إلى الناتج المحلي الإجمالي في مصر ارتفعت إلى 92% في العام الجاري، مقارنة بـ88% العام الماضي. وأكد التقرير أن العبء الأكبر لهذه الديون يقع على عاتق الناس، حيث ارتفعت معدلات التضخم وتدهورت القدرة الشرائية للطبقة المتوسطة والفقراء، مع توقعات بزيادة الضرائب والرسوم الحكومية في العام القادم لتغطية عجز الموازنة.

التعليق:

إن ما يفعله النظام المصري اليوم من استدانة وبيع لمقدرات الدولة هو استمرار لنهج خطير يهدف إلى إخضاع البلاد بشكل كامل للهيمنة الغربية، من خلال سياسات اقتصادية كارثية تسلب الأمة إرادتها وتغرقها في مستنقع الفقر والتبعية. إن الدين العام المتصاعد لمصر ليس إلا أداة يستخدمها الغرب لضمان نفوذه وسيطرته على مقدرات البلاد، حيث تذهب أموال هذه القروض في مشاريع تخدم أجندات الغرب أو في إنفاق حكومي غير منتج، بينما يعاني أهل مصر البسطاء من الفقر وسوء الخدمات وارتفاع الأسعار.

هذه السياسة الاقتصادية الفاشلة، القائمة على القروض الربوية وبيع أصول البلاد، لن تؤدي إلا إلى مزيد من التدهور. فالديون لا تسدَّد إلا بمزيد من الديون، في حلقة مفرغة تزيد الأعباء على الأجيال القادمة. والأسوأ من ذلك هو تفريط النظام في أصول الدولة، التي تعد ملكية عامة، لا يجوز للدولة التفريط فيها، ولكنها تُباع بأبخس الأثمان إلى مستثمرين أجانب وشركات عالمية، ما يعمق التبعية الاقتصادية ويحرم البلاد من مواردها الاستراتيجية.

لقد أظهرت بيانات صندوق مصر السيادي الذي يُستخدم كواجهة لبيع أصول الدولة، أن النظام يستهدف بيع حصص في شركات ومؤسسات استراتيجية، منها شركات البترول والغاز والكهرباء والبنوك. وهذه المؤسسات تمثل العمود الفقري للاقتصاد المصري، ولكن النظام يفرط فيها بحجة سد العجز وسداد الديون. إلا أن الحقيقة أن هذه السياسة ليست إلا جزءاً من سياسات الغرب ومؤسساته الاستعمارية التي من خلالها يسعى إلى نهب ثروات الأمة والسيطرة على مواردها الحيوية.

إن مصر ليست بلداً فقيراً، بل هي غنية بمواردها وثرواتها الطبيعية. فالنيل يجري في أرضها، والمسطحات المائية الواسعة تزخر بخيرات لا حصر لها، ومواردها المعدنية من ذهب وبترول وغاز تكفي ليس فقط لأهلها، بل لجعلها دولة عظمى إن لم تكن الدولة الأولى. أضف إلى ذلك طاقاتها البشرية الهائلة، التي يتم استنزافها وتشريدها في الخارج لخدمة مصانع وشركات الغرب.

لكن النظام الحاكم، بتبعيته العمياء للغرب، يعطل كل هذه الإمكانات ويسخرها لخدمة الأجندات الأجنبية، بدلاً من أن يستثمرها في بناء اقتصاد مستقل حقيقي يحقق الاكتفاء الذاتي ويؤمن للأمة مستقبلاً كريماً.

إن الحل الحقيقي لأزمة الديون التي تعاني منها مصر، ولجميع الأزمات الاقتصادية التي تواجهها، لن يكون من خلال المزيد من القروض أو سياسات الخصخصة وبيع الأصول، فهذه السياسات ليست إلا جزءاً من المشكلة، والتي أصلها النظام الرأسمالي المطبق بجشعه ووحشيته ونفعيته المقيتة، بل إن الحل الجذري يكمن في التخلص من هذا النظام الرأسمالي وأدواته، والإتيان بنظام الإسلام القائم على العدل والتوزيع العادل للثروات، وتحقيق الاكتفاء الذاتي، واستعادة سيادة الأمة على مواردها ومقدراتها.

إن نظام الإسلام، بنظامه الاقتصادي القائم على منع الربا وحماية الملكية العامة، يقدم نموذجاً حضارياً بديلاً يعالج جذور الأزمات الاقتصادية. ففي ظل الدولة الإسلامية، تُدار الثروات الطبيعية وفقاً لأحكام الشرع التي فيها مصلحة الأمة بعمومها، فلا تُباع أصول الدولة للأجانب، بل تُستثمر لصالح الشعب. كما أن الموارد يحسن استغلالها وإدارتها وإنتاج الثروة منها وتُوجه لتحقيق الاكتفاء الذاتي في الغذاء والصناعة، فلا يجوز الاعتماد على القروض الأجنبية حتى لو لم تكن مشروطة.

إننا في حزب التحرير ندعو أبناء الأمة في مصر إلى العمل الجاد من أجل استعادة سيادتهم على بلادهم ومقدراتهم، من خلال دولة الإسلام بكل أنظمتها؛ مشروع الأمة الحضاري الوحيد. فهذا المشروع هو الوحيد القادر على تحرير الأمة من التبعية الاقتصادية والسياسية للغرب، وبناء نهضة حقيقية تقوم على رعاية شؤون الناس وتحقيق مصالحهم وفقاً لأحكام الإسلام.

وإن كل الحلول التي يلجأ إليها النظام المصري ملبيا ومطيعا لأوامر الغرب وقراراته هي سم زعاف يتجرعه الناس رغما عنهم وهي استمرار في طريق خاطئ لن يؤدي إلا إلى مزيد من الفقر والتبعية، ولا سبيل لنهضة مصر ولا الأمة ولا نهاية لأزماتها إلا باقتلاع الرأسمالية أصل الداء وسبب كل بلاء بسياساتها وبرامجها التي تهدف لاستعباد الشعوب ونهب ثرواتهم، واقتلاع كل أدواتها ومنفذيها والمرتبطين بها من الحكام العملاء والنخب الفاسدة، ومن ثم تطبيق نظام الإسلام كاملا شاملا في كل مناحي الحياة، في ظل الإسلام ودولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي تعيد للأمة عزتها وسيادتها، وتحررها من هيمنة الغرب ومؤسساته الاستعمارية.

إن تطبيق الإسلام فوق كونه هو وحده ما يصلح حال مصر وأهلها إلا أنه يجب أن يطبق لكونه أحكاما شرعية واجبة التطبيق ننال بها ومن خلال تطبيقها رضا الله عز وجل بإقامة دولته التي تطبق دينه وأحكام شرعه فنستحق بهذا جنته سبحانه، وضمناً فإن تطبيق الإسلام هو وحده الضامن لرخاء الناس ورغد عيشهم في حياتهم الدنيا في ظل كفالة الإسلام ورعاية أحكامه التي تطبقها دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست