القتال في الشرق الأوسط هو في الأساس ليس صراعا طائفيا (مترجم)
القتال في الشرق الأوسط هو في الأساس ليس صراعا طائفيا (مترجم)

الخبر: تعرض مؤخرا رئيس الحزب الإسلامي الماليزي، عبد الهادي أوانج لانتقادات شديدة لمشاركته في مؤتمر الوحدة الإسلامية الـ30 والذي عقد في طهران من 15 إلى 17 كانون الأول/ديسمبر 2016. هذا الحدث، الذي نظمه المنتدى العالمي للتقريب بين المذاهب الإسلامية، كان بعنوان "الوحدة وضرورة مواجهة التيارات التكفيرية". وإلى جانب عبد الهادي أوانج حضر المؤتمر شخصيات إسلامية ومفكرون من أكثر من 50 بلدا، بما في ذلك روسيا، وإندونيسيا، والعراق، ولبنان والولايات المتحدة وبريطانيا وأستراليا وتونس والصين ومصر وتايلاند والجزائر....

0:00 0:00
Speed:
December 31, 2016

القتال في الشرق الأوسط هو في الأساس ليس صراعا طائفيا (مترجم)


القتال في الشرق الأوسط هو في الأساس ليس صراعا طائفيا

(مترجم)

الخبر:

تعرض مؤخرا رئيس الحزب الإسلامي الماليزي، عبد الهادي أوانج لانتقادات شديدة لمشاركته في مؤتمر الوحدة الإسلامية الـ30 والذي عقد في طهران من 15 إلى 17 كانون الأول/ديسمبر 2016. هذا الحدث، الذي نظمه المنتدى العالمي للتقريب بين المذاهب الإسلامية، كان بعنوان "الوحدة وضرورة مواجهة التيارات التكفيرية". وإلى جانب عبد الهادي أوانج حضر المؤتمر شخصيات إسلامية ومفكرون من أكثر من 50 بلدا، بما في ذلك روسيا، وإندونيسيا، والعراق، ولبنان والولايات المتحدة وبريطانيا وأستراليا وتونس والصين ومصر وتايلاند والجزائر. في البداية، أفيد بأن عبد الهادي أوانج حضر المؤتمر تحت رعاية الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين ولكن في وقت لاحق تبين بأن عبد الهادي أوانج حضر المؤتمر بصفته ممثلا عن الحزب الإسلامي الماليزي. واستهدفت الانتقادات بشكل رئيسي كون إيران الشيعية تشارك مباشرة في مذبحة سكان حلب السُّنة وأي محاولة للتوفيق بين مواقف الشيعة والسنة فيما يتعلق بالصراع الحالي ينظر إليها على أنها ليست ذات جدوى، بل تعتبر غادرة وذات نتائج عكسية.

التعليق:

ليس هناك شك بدور إيران في مجزرة حلب. الحرس الثوري الإيراني والذي يتضمن المرتزقة الأجانب متورط بشكل مباشر في الهجوم على حلب. ووفقا للتقارير، وصل عدد قوات الحرس الثوري إلى 25000 مقاتل في حلب. في الواقع، لقد ناقش وزراء من روسيا وإيران وتركيا مستقبل سوريا ومدينة حلب في محادثات في موسكو، وقال مسؤول تركي إن الاجتماع عقد "لفهم وجهات نظر الأطراف الثلاثة، ووضع نقطة الوقوف لنا جميعا ومناقشة إلى أين نمضي من هنا". هذه الاجتماعات هي مؤشرات واضحة على الدور المتنامي لإيران في سوريا في الصراع الحالي وتداعياته.

والاعتقاد السائد لدى الكثيرين هو أن جمهورية إيران هي ممثلة للمدرسة الشيعية في الفكر، وتظهر نفسها على أنها حامية المذهب الشيعي. وبالتالي، يعتبر أي عمل تقوم به إيران استجابة شيعية يقصد منها حماية ودعم التشيع في أي صراع. وقد تجلى ذلك من خلال واحدة من الانتقادات القوية ضد عبد الهادي أوانج حيث قال الدكتور محمد العصري، مفتي ولاية برليس: "هذه ليست القضية من زيارة إيران أو مصافحة الشيعة بل المسألة تتعلق بالسيئات التي يرتكبونها الآن. أي شخص لديه موقف سياسي ناضج وقيمة إنسانية سيتجنب هذا بالتأكيد". وذكر أيضا بأن عبد الهادي أوانج لم ينتقد إيران بأي شكل من أشكال الشدة في المؤتمر، بل في الواقع أشاد بها من البداية إلى النهاية. معظم الانتقادات التي وجهت إلى عبد الهادي أوانج تدور حول قضية الصراع الطائفي. وجعل القضية الطائفية السبب والقضية الأساسية وراء الصراع السوري هو أن أهل السنة هم ضحايا العدوان الشيعي. وينظر إلى الصراع على نطاق واسع على أنه صراع بين السنة والشيعة - صراع بين الشيعة والعلويين قوات بشار، بدعم من المليشيات الشيعية المدعومة من إيران، وبين الغالبية السنية في سوريا. ومع ذلك، وعلى الرغم من العدوان الشيعي، ينبغي لنا ألا ننسى أيضا دور الحكومات السنية الغادرة المجاورة لسوريا. حلب تبعد أقل من 100كم من تركيا السنية، وسوريا مجاورة للأردن السنية، والمملكة العربية السعودية ومصر السنيتان اللتان تبعدان مسافة قصيرة، ولكن أيا من هذه الدول السنية رفعوا أصابعهم حتى ليرفعوا أسلحتهم لمساعدة أهل السنة من سوريا! والأسوأ من ذلك، هؤلاء الأعداء الطائفيون المتحالفون جلسوا معا على طاولة واحدة، مع الكفار، يتفقون على أنه لا بد من سكب دماء المسلمين في حلب!!!

على الرغم من أنه يبدو بأن الصراع الذي يحدث في سوريا هو صراع طائفي، إلا أنه في الواقع صراع سياسي؛ صراع بين الإسلام وأعداء الإسلام. لقد تم استعمار العالم الإسلامي ككل سياسيا وعسكريا وثقافيا وفكريا، وإيران ليست استثناء. الصراعات التي تحدث خلال هذا القرن والقرن الماضي كانت دائما صراعات بين القوى العظمى. لقد كانت صراعات لبناء ولاءات جديدة وسحق الولاءات القديمة بين القوى العظمى؛ بريطانيا وفرنسا والولايات المتحدة الأمريكية الآن. إيران، على الرغم من لهجتها التي تظهر العكس من ذلك، لم تكن أبدا معقلا للتشيع فسياساتها كانت دائما تمثيلا وتسهيلا للسياسات الأمريكية في المنطقة. إيران هي ناتج للتدخل الاستعماري الغربي، تماما مثل السعودية وتركيا والعراق وغيرها. القضية لم تكن أبدا قضية طائفية. المسألة هي ما إذا كنا نقف مع الإسلام أو مع أعداء الإسلام. للأسف، فإن اللاعبين المسلمين في هذا الصراع هم بيادق فقط في رقعة الشطرنج الاستعماري، يدفعون لخدمة أجندة أسيادهم. من ناحية أخرى، المسلمون منشغلون بفكرة النزاع الشيعي السني الطائفي والذي كنا نقع في شراكه عمدا. سنبقى دائما في الجانب الخاسر إذا لم نتخلص من هذا التصور الكاذب ونعرف أعداءنا الحقيقيين ونتعامل معهم بالطريقة الصحيحة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست