الرعد الذي هز جدران الكرملين (مترجم)
الرعد الذي هز جدران الكرملين (مترجم)

الخبر:   في السادس والعشرين من أيلول/سبتمبر 2018 في مدينة ماجاس الروسية، تم توقيع اتفاق على تقسيم الحدود بين الإقليمين التابعين للاتحاد الروسي - الشيشان وإنغوشيا. وبعد ذلك، اندلع صراع قوي بين الشعبين في المنطقة.

0:00 0:00
Speed:
October 23, 2018

الرعد الذي هز جدران الكرملين (مترجم)

الرعد الذي هز جدران الكرملين

(مترجم)

الخبر:

في السادس والعشرين من أيلول/سبتمبر 2018 في مدينة ماجاس الروسية، تم توقيع اتفاق على تقسيم الحدود بين الإقليمين التابعين للاتحاد الروسي - الشيشان وإنغوشيا. وبعد ذلك، اندلع صراع قوي بين الشعبين في المنطقة.

التعليق:

لفهم جوهر ما جرى، من المهم الإشارة إلى واقع تاريخ هذا النزاع على الأرض بين الشعبين الشقيقين. فالأمر ليس من قبيل الصدفة. خلال الحقبة السوفيتية، كانت هذه الأرض الإسلامية منقسمة على نفسها بفعل بذور القومية، وهكذا ظهرت الشيشان - إنغوشيتيا، قباردينو - بلقاريا، كاراتشاي - شركيسيا. وعندما انهار الاتحاد السوفياتي ظهرت من جمهورية إنغوشيا الشيشانية، منطقتان: الشيشان وإنغوشيا. على الرغم من أن أهل هذين البلدين أمة واحدة تتحدث اللغة ذاتها، واختلافهم ليس إلا في كونهم أبناء مختلفين للأم نفسها.

خلال 10 سنوات قامت في الشيشان حربان ضد روسيا، ومن الطبيعي أن تدخل إنغوشيا هذه الحرب، للأخوّة التي تربط بين الشعبين وتجاور منازلهم. تمكنت روسيا من هزيمة هذا العدد الصغير من الناس بعد المحاولة الثانية، ولم تبلغ ذلك إلا بعد سفك عظيم للدماء. ولأنه وحتى وقت قريب، كانت القضية الأساسية في المنطقة هي الانتعاش من آثار تلك الحروب فقد حاول الناس نسيان هذا الرعب، وحاولت السلطات إظهار أفضل ما لديها، وخلق صورة حسنة عنها.

لذلك، ولفترة طويلة، لم ينزعج أحد من عدم تحديد الحدود بين البلدين بدقة. بعد كل شيء، فقد عُرف أصحاب هذه الأراضي لقرون عدة، ويعرف الجميع أي نوع من الأرض يتبع إلى هذه العشيرة أو تلك.

لكن في بداية آب/أغسطس 2018 في القوقاز انطلق الرعد الذي هز جدران الكرملين. يوسوب تميرخانوف، الذي كان يقضي حكما لقتله العقيد الروسي بودانوف، توفي في السجن. وكان هذا العقيد الروسي قد قام في عام 2000 باغتصاب وقتل وإساءة معاملة جثة الفتاة الشيشانية إلسا كونغاييفا. ولذلك، عُدَّ يوسوب تميرخانوف بطلا بين شعبه. وعندما توفي في السجن، بعد تعرضه للتعذيب وظروف السجن القاسية، تجمعت كل شعوب القوقاز في الخامس من آب/أغسطس في عاصمة الشيشان، غروزني، من أجل الشخص الذي يمثل من تحدى القوات الروسية ووقف لها بالمرصاد في آخر الطريق.

وكانت السلطات خائفة بشكل جدي عندما شاهدت 200 ألف مسلم من جنسيات مختلفة من مناطق القوقاز، كلهم يكبرون الله معا. هذا الخوف من غزو الإسلام عبّر عنه الجنرال ماتوفنيكوف، الممثل المفوض للرئيس الروسي في القوقاز في 27 أيلول/سبتمبر حين قال: "نحن نشهد زيادة ملحوظة في عدد الأشخاص الذين انتقلوا للإسلام من ديانات أخرى".

وقال باشورين، رئيس مديرية الشؤون الداخلية في القوقاز الوسطى: "أصبح المؤمنون الجدد هم أكثر المؤيدين المتحمسين والمتعصبين للأيديولوجيات (المتطرفة) و(الإرهابية). في النصف الأول من عام 2018 وحده، كان هناك 1058 معتنقا جديدا للإسلام. هذا يمثل جزءاً كبيرا من الرعايا، ويجب ألا يكونوا مختلفين عنا".

ومن هنا يصبح من الواضح أن السلطات هي من يلجأ إلى الأساليب القذرة المتمثلة في تأليب الشعوب ضد بعضها بعضاً في منطقة متعددة الجنسيات من أجل منع الناس من التفكير في أهم القضايا. هذه القضايا تتعلق بإحياء طريقة الحياة الإسلامية وموقف السلطة الروسية من المسلمين. حاول الحكام منع مثل هذا التقارب الحميمي الدرامي للعلاقات بين شعوب المنطقة ورغبتهم في الإسلام، فبدأت مكائدهم.

لذلك بدأوا اتفاقية تقسيم الأرض المثيرة للجدل هذه. وبدأت الحالة تتنامى وتتصاعد سخونتها في المنطقة. فاستقال رئيس الإقليم، الذي أصبح جزءٌ من أراضيه جزءاً من الشيشان، واستقال معه العديد من نواب الجمعية المحلية. كما كانت هناك اعتقالات وعمليات بحث عن المعارضين النشطين لهذه الاتفاقية. وكل هذا يحدث على خلفية حقيقة أن نص الاتفاق لم ينشر بعد، أي أن الحكومة تتعمد إبقاء الناس في جهل، ما يدفعهم إلى عدم الثقة والعدائية. شبكات التواصل تغلي ضد الحملات المحلية، ويخشى الكثيرون بالفعل من إراقة الدماء.

بالإضافة إلى هذا النزاع على الأرض كان هناك صراع كبير آخر بين الإنغوش والشيشان في القوقاز. ففي 19 أيلول/سبتمبر، وقعت مصادمات جماعية في قباردينو - بلقاريا، حيث شارك مئات الأشخاص في المعارك بين الأعراق، وكان سبب هذا الصراع هو مسيرة الفروسية بمناسبة الاحتفال بالانتصار على قوات الخلافة العثمانية في عام 1708م. الشعوب الشقيقة ذاتها من المسلمين - القبارديين والبلقار شاركت في هذا الاستفزاز، بدعم من السلطات. ولتهدئة هذه الاضطرابات استدعيت الشرطة من جنسيات أخرى من الجمهوريات المجاورة، الأوسيتيين والإنغوش.

وقد علّق تنوف، أستاذ علم الاجتماع في جامعة كاباردينو- بالقاريان، على هذه الأحداث قائلا: "منذ 5-6 سنوات، تمت ملاحظة تنامي الإسلام في منطقتنا. وكان من الواضح كيف تعارض السلطات هذا الأمر للعامل العرقي..." (غازيتا فزلياد، 20 أيلول/سبتمبر 2018).

هذا فقط هو أكثر ما نعرفه عما تقوم به السلطات لتأليب شعوب القوقاز على بعضها بعضاً. فبسبب خوفهم من انتشار الإسلام، يلجأون إلى أساس آخر، وهو القومية. كل همهم إراقة الدماء ليكون لهم الحكم والسيطرة على هذه الصراعات. هم يريدون إجبار المسلمين على البحث عن حل يحقق النفع لهم فحسب.

لكن الإسلام لا يدخل قلوب الناس إلا وينعكس في سلوكهم. إننا نرى أن صوت الإسلام أصبح أعلى وأقوى. وفي جميع الخلافات المثيرة للجدل حول هذه الصراعات، هناك دائما من يشير إلى ضرورة نبذ القومية، والناس يشيرون بشكل متزايد إلى الأسباب الحقيقية لهذه المصائب ويفهمون أن العدو يريد تقطيع أوصالهم.

﴿إِنَّ اللَّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ابراهيم سليمانوف

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست