الرأسمالية المفترسة
الرأسمالية المفترسة

الخبر:   تسببت آلية المراقبة الحكومية "غير المتوازنة"، كارتل السكر المزعوم وفوق كل شيء التخزين، في زيادة سعر التحلية بنحو 20 روبية للكيلو في آخر 15 يوماً فقط، مما ترك الأشخاص المتضررين من التضخّم بلا خيار سوى شراء السلعة بأسعار أعلى. (الفجر الباكستانية)

0:00 0:00
Speed:
January 11, 2021

الرأسمالية المفترسة

الرأسمالية المفترسة

(مترجم)

الخبر:

تسببت آلية المراقبة الحكومية "غير المتوازنة"، كارتل السكر المزعوم وفوق كل شيء التخزين، في زيادة سعر التحلية بنحو 20 روبية للكيلو في آخر 15 يوماً فقط، مما ترك الأشخاص المتضررين من التضخّم بلا خيار سوى شراء السلعة بأسعار أعلى. (الفجر الباكستانية)

التعليق:

لا يزال الكثير من الناس يقضون الكثير من الوقت عالقين في الحنين إلى الماضي، في أحلام اليقظة حول تلك الفترة القصيرة من الازدهار التي جلبتها الرأسمالية. ولكن ما يسمى بالعصر الذهبي قد مضى الآن أطول مما مضى، والعالم الذي نشأ منه لم يعد موجوداً.

تعِدُ الرأسمالية الناس بحياة أفضل إلى الأبد، ودائماً ما تضع أمامهم جزرة جديدة. إنها تعد بجعل الطبقات الوسطى غنية ومحترمة ومحظوظة، لكنها تجعل من المستحيل على معظم الطبقة الوسطى تحقيق ذلك، لأن هدفها هو إثراء الرأسماليين، وليس أي شخص آخر.

والنتيجة هي نوع من الفجوة بين تطلعات الناس المأمولة، وواقعهم القاتم، حيث تأكل الرأسمالية من خلال دخولهم ومدخّراتهم ووظائفهم والمدن والبلدات والمجتمعات والقيم والأعراف، من أجل إثراء الرأسماليين.

تُمثّل الفترة بين عامي 2008 و2020 أكثر من عقد من الصعوبات التي يواجهها الاقتصاد العالمي. ففي عام 2008، ضرب الركود العظيم، تاركاً أثراً مدمراً من الخسائر التي تُقدر بتريليونات الدولارات والنمو الاقتصادي الهزيل. وفي عام 2020، أحدث فيروس كوفيد-19 هزة قوية أخرى للنظام الاقتصادي العالمي. لكن بعض الإحصائيات ترسم صورة محيرة. في عام 2009، بلغت ثروة جيف بيزوس مؤسس أمازون 6.8 مليار دولار. وفي عام 2020، بلغت ثروته 184 مليار دولار! في عام 2009، بلغت ثروة مارك زوكربيرج مؤسس فيسبوك ملياري دولار. وفي عام 2020، بلغت ثروته 103 مليار دولار! في الفترة نفسها، زادت ثروة أغنى 400 أمريكي من 1.27 تريليون دولار في عام 2009 إلى 3.2 تريليون دولار في عام 2020.

أفاد بنك UBS السويسري أنه في ذروة كوفيد-19، من نيسان/أبريل إلى تموز/يوليو 2020، شهدت أضخم الثروات ارتفاعاً بنسبة 27 في المائة لتصل إلى 10.2 تريليون دولار. وفي الوقت نفسه، تظهر تقديرات البنك الدولي أنه للمرة الأولى منذ عام 1998، من المتوقع أن يرتفع معدل الفقر المدقع مع وجود 115 مليون شخص آخرين في هذه الفئة. بالإضافة إلى ذلك، فإن حصة العمالة في الدخل العالمي آخذة في الانخفاض منذ السبعينات على الأقل.

شهد القرن العشرين ظهور "الرأسمالية المالية" مع وجود الشركات المالية في جوهرها. تعتمد المنتجات وتجارتها على حسابات معقدة وصيغ تقييم الأصول الأساسية. لكن القضية الرئيسية مع هذا التطور الخاص للرأسمالية هي أن الكثيرين لا يفهمون عملها. ففي حين إن التجارة والتداول كانت دائماً في متناول حتى أفقر الفئات، قد يكون من الصعب فهم الرأسمالية المالية حتى بالنسبة للأشخاص الأكثر ذكاءً.

الأمر الأكثر إثارة للقلق هو حقيقة أن المكاسب الكبرى تعود إلى أقلية صغيرة جداً. لوضع الأمور في نصابها، ضع في اعتبارك أن سقوط إمبراطوريات مثل روما أدى إلى تداعيات اقتصادية واسعة النطاق. في القرن الواحد والعشرين، استغرق سقوط شركتين فقط وهما بير ستيرن وليمان برذرز في زاوية من نيويورك لتفجر حدثاً كارثياً لم يُهدر فقط تريليونات الدولارات من الثروة العالمية والناتج المحلي الإجمالي، بل أدّى أيضاً إلى انتشار البطالة.

إن أصدق المؤمنين بحلم الرأسمالية بأنهم سيصبحون في يوم من الأيام رأسماليين سيتركون في الحضيض. ولكن عندما يُصبح الأشخاص الذين توقعوا أن يتحركوا صعوداً فجأة في الحضيض، لا يمكنهم عادةً تصديق ذلك ومعالجته وفهمه، لقد تحطّم واقعهم. نحن جميعاً ضحايا للرأسمالية، والرأسمالية نفسها تسبّبت في الأزمة التي تركتنا في مأزق نتوقع حياة أفضل ولكن تزداد سوءاً.

بالنسبة للجميع بشكل عام، والمسلمين بشكل خاص، حان الوقت ليس فقط للتشكيك في مدى ملاءمة العلمانية ونموذجها الاقتصادي الفاسد، بل العمل على إقامة دولة الخلافة التي يعطي نظامها الاقتصادي الأولوية لاحتياجات جميع الناس الذين يعيشون في ظلّها، وعلى عكس الرأسمالية التي لا تُمهد الطريق للنخبة الأكثر ثراء لتحقيق مكاسب ضخمة من خلال إضفاء الشرعية على الفساد من خلال قوانين من صنع الإنسان. نظام اقتصادي قائم على الذهب والفضة ولا يتعامل بالربا، لا ينهار بسبب الفيروس، ويوفر الثقة للمستهلكين في المجتمع. ضمان تداول الثروة هو هدف أساسي للاقتصاد الإسلامي، على عكس الرأسمالية. والهدف ليس جمع أكبر قدر من الثروة، ولا النمو بشكل دائم بل تلبية الاحتياجات الأساسية للرعايا قبل كل شيء.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد عادل

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست