الرأسمالية هي أصل الداء والصندوق الدولي أحد أدواتها وقروضه وقراراته هي سبب أزمات مصر الاقتصادية
الرأسمالية هي أصل الداء والصندوق الدولي أحد أدواتها وقروضه وقراراته هي سبب أزمات مصر الاقتصادية

نقلت وكالة رويترز الاثنين 2018/7/2م، ما جاء في بيان صندوق النقد الدولي الذي أشاد بالتقدم الذي تحققه الإصلاحات المرتبطة ببرنامج قرض لمصر بقيمة 12 مليار دولار، وإن على القاهرة أن تُبقي على تشديدها للسياسة النقدية من أجل احتواء مخاطر التضخم نتيجة لخفض دعم الوقود والكهرباء، ويأتي تعليق الصندوق بعد أيام من قرار البنك المركزي المصري بالإبقاء على أسعار الفائدة دون تغيير مستندا إلى مخاطر تضخمية، وبعد أن أعلن المجلس التنفيذي للصندوق أن مصر حققت تقدما كبيرا في الإصلاحات الاقتصادية لتحصل على الدفعة التالية من برنامج القرض، وبدأت مصر برنامج القرض البالغة مدته ثلاث سنوات أواخر عام 2016، حيث وافقت على إصلاحات قاسية كان من بينها خفض كبير في دعم الطاقة وفرض ضرائب جديدة وتحرير سعر صرف العملة في مسعى لإعادة المستثمرين الذين عزفوا عن البلاد بعد انتفاضة عام 2011.

0:00 0:00
Speed:
July 06, 2018

الرأسمالية هي أصل الداء والصندوق الدولي أحد أدواتها وقروضه وقراراته هي سبب أزمات مصر الاقتصادية

الرأسمالية هي أصل الداء والصندوق الدولي أحد أدواتها

وقروضه وقراراته هي سبب أزمات مصر الاقتصادية

الخبر:

نقلت وكالة رويترز الاثنين 2018/7/2م، ما جاء في بيان صندوق النقد الدولي الذي أشاد بالتقدم الذي تحققه الإصلاحات المرتبطة ببرنامج قرض لمصر بقيمة 12 مليار دولار، وإن على القاهرة أن تُبقي على تشديدها للسياسة النقدية من أجل احتواء مخاطر التضخم نتيجة لخفض دعم الوقود والكهرباء، ويأتي تعليق الصندوق بعد أيام من قرار البنك المركزي المصري بالإبقاء على أسعار الفائدة دون تغيير مستندا إلى مخاطر تضخمية، وبعد أن أعلن المجلس التنفيذي للصندوق أن مصر حققت تقدما كبيرا في الإصلاحات الاقتصادية لتحصل على الدفعة التالية من برنامج القرض، وبدأت مصر برنامج القرض البالغة مدته ثلاث سنوات أواخر عام 2016، حيث وافقت على إصلاحات قاسية كان من بينها خفض كبير في دعم الطاقة وفرض ضرائب جديدة وتحرير سعر صرف العملة في مسعى لإعادة المستثمرين الذين عزفوا عن البلاد بعد انتفاضة عام 2011.

التعليق:

الرأسمالية أصل الداء الذي يعاني منه أهل الكنانة، وما التضخم إلا عرض من أعراضه يزول بزواله، وصندوق النقد الدولي هو أحد أدوات الرأسمالية في فرض هيمنتها وسطوتها وقراراتها على الشعوب المغلوبة في ظل غياب دولة تقف في وجه الظلم وتعيد الحق لأصحابه؛ دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

عندما يشيد البنك بإصلاحات اقتصادية قامت بها حكومات بلادنا فاعلموا أنها قرارات كارثية ووبال على الشعوب، وعندما يشدد على استمرارها وزيادتها فهذا معناه أن القادم على أهل الكنانة أسوأ وأن سياسات تجويعهم وإفقارهم مستمرة، فما الذي يسعى إليه الغرب وكيف تنجو مصر من هذا الوبال؟!

هذه القروض وما يصاحبها من قرارات تزيد من تكبيل البلاد في ربقة التبعية للغرب والتي يأمل الغرب ويعمل على أن تبقى تبعية دائمة، بخلاف أنها تهيئ الأجواء للرأسماليين لمزيد من نهب ثروات الشعوب، وهذا ما يعمل النظام العالمي على حمايته وضمانته وتأمينه ولو على دماء الشعوب، وقد رأينا جميعا ولمسنا أثر هذه القرارات على أهل مصر وكيف كانت أسعار السلع والخدمات قبل سنوات وكيف صارت الآن وكيف تمت سرقة ما في جيوب الناس بمسمى التعويم الذي أفقد كل أهل الكنانة ما يزيد على نصف ما في أيديهم من أموال عندما انخفض الجنيه مقابل الدولار، ولمسنا تلك الزيادات المتتالية في أسعار الوقود والطاقة وما ترتب عليه من زيادة في أسعار النقل الذي يتبعه زيادة أسعار السلع مما زاد الطين بلة، إضافة ضرائب جديدة، وأخيرا وليس آخرا زيادة أسعر تذاكر السكك الحديدية التي يركبها الفقراء بنسبة ما بين 140 إلى 150%...

هذا ما يسميه وكلاء الغرب وسماسرتهم في بلادنا إصلاحا اقتصاديا ملموسا ويفتخرون بإنجازه ويشيدون به، وهو قمة الفساد والإفساد وعين الخيانة ونهب واضح لثروات أهل مصر المغلوبين، فكيف الخلاص؟!

إن الخلاص من هذا الوباء لا يكون من داخله ولا بالخضوع له ولقراراته ولا بقبول قروضه ومنحه بل برفضها ورفض ما جرته من ويلات تحت مسمى توصيات وقرارات، بل وعدم الاعتراف بها جميعا ورفض حتى دفع تلك القروض لأنها في حقيقتها أموال نهبت من بلادنا تحت سمع وبصر ورعاية بل وضمانة حكامنا النواطير، إلا أن الوقوف في وجه الغرب وتحديه وتحدي قراراته ومنعه من نهب ما تبقى للأمة من ثروات يحتاج إلى مشروع حضاري حقيقي وقيادة واعية عليه جاهزة لتطبيقه فورا وقادرة على صراع الغرب وصرعه سياسيا وفكريا، وهذا يضمنه لكم حزب التحرير وحده فقط يا أهل الكنانة ويضمن لكم به الكرامة والعزة التي خرجتم بثورتكم تطالبون بها قبل سنوات، إلا أنه يحتاج منكم لاحتضان الفكرة التي يحملها والمطالبة معه بإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي تقيم العدل في الأرض وتحيي فيكم سيرة عمر بن الخطاب الذي بلغ مداه الآفاق ووسعت رعايته الدوابّ، وعمر بن عبد العزيز الذي قال "انثروا القمح على رؤوس الجبال كي لا يقال جاع طير في بلاد المسلمين" فكيف بكم وقد جوّعكم حكامكم وقهروا ضعيفكم وأذلوا عزيزكم، أليس في هذا ما يدعوكم لخلعهم وتطبيق الإسلام الذي يحييكم؟!

يا أبناء جيش الكنانة! إنكم جزء من الأمة أصيل فيها ودرع يحميها مكر عدوها، وقد رأيتم ولمستم ما يحيق بأهلكم في مصر الكنانة وما ينتظرهم من مصير مظلم، وقد بات مكر عدوكم واضحا للعيان، وتآمر حكامكم معه واضح لا لبس فيه، فعلام صمتكم وإلى متى يبقى سلاحكم درعا لمن خان وتآمر على أهلكم وإخوانكم؟! أليس فيكم رجل رشيد يغضب لله غضبة تقتلع هذا النظام وأدواته وتنصر العاملين لإقامة الخلافة التي تنجيكم؟! إنه والله العز والكرامة ما ندعوكم إليه ونسأل الله أن يكون بكم فتفوزوا فوزا عظيما.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلَّه وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست